@Kasim_Khan_1999 This is pure emotional manipulation. Thousands suffered under your father's policies and selective justice. Rule of law applies to everyone. if there is a case, let the courts decide instead of international appeals for sympathy.
Give and Take..
آرٹیکل 8 پر کھل کر بات ہوت�� ہے اور یہ خوش آئند ہے، آرٹیکل 8 کا وجود آرٹیکل 5 سے جڑا ہے، اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ آرٹیکل؛ 5 پہ بھی کھل کر بات کی جائے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک فکری نشست میں اہم نقطہ..
اب سوال کہ آرٹیکل 8اور 5 کیا ہیں؟؟؟
اور اس کو سمجھنے کے لیے پہلا سوال یہ ہے کہ
ریاست کیا ہے؟
"ریاست" دراصل ایک جغرافیے اور اس میں رہنے والے لوگوں کے مجموعے کا نام ہے۔
جنگل اور پتھر کے دور سے نکل کر جب انسان نے ریاست کا تصور پیش کیا تو اس میں انسان کے لیے آئین تجویز کیا یعنی ریاست میں جنگل کا قانون "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" (Might is Right) نہیں ہوگا
جنگل اور ریاست میں فرق آئین ہے
ایک جغرافیے میں رہنے والے لوگ آئین کے تحت چلیں گے تاکہ وہ قطعہ ارض قائم رہے وہ محفوظ رہیں ��ور اس آئین کو وہ حقوق فرائض کا نام دیتے ہیں
ریاست کس طرح چلائی جائے گی کس کے زمے کیا ہوگا اس کے لیے ریاست اور شہ��ی کے درمیان حقوق فرائض کا ایک باہمی ایگریمنٹ طے پایا جسے عمرانی معاہدہ (Social Contract)کہتے ہیں اور یہ عمرانی معاہدہ دو آرٹیکلز پر مشتمل ہے
ارٹیکل 5 اور ارٹیکل 8...
ارٹیکل 5 :1 کہتا ہے ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔
آرٹیکل 5(2): آئین اور قانون کی اطاعت ہر شہری پر لازم واجب التعمیل ہے، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا ملک سے باہر...
شہری کی ریاست سے وفاداری کی شرط پر ریاست آرٹیکل 8پر اسے جوابی انشورنس دیتی ہے کہ
ریاست کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو شہریوں کے بنیادی حقوق (جیسے آزادیِ اظہار، جان و مال کا تحفظ، اور برابری) کے منافی ہو۔ اگر ایسا کوئی قانون بنایا گیا، ��و وہ کالعدم تصور ہوگا۔ریاست اس کے جان مال کا تحفظ کرے گی اس کو تمام بنیادی حقوق دے گی جیسے صحت تعلیم روزگار..
ایک شہری اس وقت تک اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے فرائض پورے نہ کرے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو امن و امان کا حق (آرٹیکل 8 کے تحت) چاہیے، تو آپ کا فرض ہے کہ آپ قانون ہاتھ میں نہ لیں (آرٹیکل 5 کے تحت)۔
آئینی ترتیب میں آرٹیکل 5 کا آرٹیکل 8 سے پہلے آنا علامتی طور پر بھی اہم ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حقوق حاصل کرنے کے لیے پہلے ایک ریاست کا ہونا اور اس ریاست کے قوانین کا احترام کرنا لازمی شرط ہے۔
شہری ریاست کو ٹیکس دے تاکہ ریاست بنیادی سہولیات فراہم کر سکے
شہری پر ٹریفک سگنل کی پابندی سے لے کر اعلیٰ ترین سطح پر آئین کے احترام تک، قانون کی بلا تفریق اطاعت فرض ہے۔
ارٹیکل 5 کہتا ہے شہری سیاسی یا ذاتی اختلافات کو ریاست کی سلامتی اور ملکی اداروں کے وقار پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا ۔
چنانچہ اپ کا سیاسی اختلاف ہو تب بھی آپ ریاست کے وفادار رہیں گے اور ریاست تب ہی اپ کے حقوق پورے گی
موجودہ دور میں ففتھ جنریشن وارفیئر (5GW) کے پیشِ نظر، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے سے گریز کرنا بھی آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری کا حصہ ہے
یاد رکھیے اگر آپ اپنے حصے کا فرض پورا نہیں کرتے تو حقوق کی ڈیمانڈ پھر اپ کی بددیانتی ہے
حجاب رندھاوا
مولانا نے عوام کو دھوکہ دے کر اتنی جائیدادیں لوٹ لیں۔ زرعی اراضی اور کمرشل پراپرٹ�� سب کرپشن کی دلیل ہیں۔ حقیقت سب کے سامنے آ گئی ہے۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر #فضلو_عبدللہ_بن_ابی
فضل الرحمن جیسے لوگوں کی اندرونی سازشوں کا سخت مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کے الزامات جھوٹے اور ناقابل قبول ہیں۔ فوج ہمارا دفاع ہے، اسے ہاتھ نہ لگائیں۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
شوگر ملز اور زرعی زمینیں مولانا کی بلیک میلنگ کی مثال ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس سے اربوں جمع کر کے عوام کو دھوکہ دیا۔ اب ان کی سیاسی موت قریب ہے۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
مولانا فضل الرحمان نے مذہب بیچ کر دولت کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان بھر کی جائیدادیں اور دبئی فلیٹ سب اس کی کرپشن کی گواہی دے رہے ہیں۔ اب ان کا انجام قریب ہے۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
فارم ہاؤسز، بنگلے اور کمرشل پراپرٹی مولانا فضل الرحمان کی کرپشن کی لمبی فہرست ہیں۔ انہوں نے مذہب کا غلط فائدہ اٹھا کر اتنا مال جمع کیا کہ انکار ممکن نہیں۔ حقیقت کھل چکی ہے۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی
شوگر ملز اور ڈیری فارم مولانا فضل الرحمان کی غیر قانونی کمائی کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس اور مشینری کے نام پر اربوں جمع کر کے عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ اب ان کی کرپشن کی فہرست سب کے سامنے ہے۔
#فضلو_کرپٹ_بلیک_میلر#فضلو_عبدللہ_بن_ابی