As Muhammad Ali Jinnah, the founder of Pakistan, once warned, the armed forces are the servants of the people. Not the masters.
#GetWellSoonDG#PakistanLovesImranKhan
🇵🇰 OPINION: THE PAKISTANI MILITARY JUST DECLARED WAR ON DISSENT, AND IMRAN KHAN IS GROUND ZERO
Something dangerous just happened in Pakistan, and the world should not look away.
The country’s military DGISPR, through its official spokesperson, held one of the most aggressive, unprecedented press conferences in modern Pakistani history. Without naming him directly, the entire briefing was aimed at one man, jailed former Prime Minister Imran Khan.
The military, now led by General Asim Munir and the powerful establishment behind him, accused Imran, the former leader and the most popular political figure in the country, of inciting anti-state sentiment, working against national security, and even encouraging foreign media and intelligence agencies to undermine the army. They called him mentally unstable, a national security threat, and implied he was a tool of foreign powers. His supporters were labeled conspirators, traitors, and agents of chaos.
Let that sink in.
A man who won the votes of tens of millions is allegedly being publicly criminalized for criticizing Asim Munir, the current army chief, and Qamar Bajwa, the former army chief. Not for treason, not for terrorism, but for challenging the narrative.
This isn't just a clash of personalities, this is the full force of a military institution silencing a democratic movement.
And it’s getting worse.
The military has now banned Imran Khan’s own sister, a prominent doctor, from visiting him in jail simply because she reportedly carried a message from her brother criticizing the army chief.
A family member is being denied access for passing on words. Not weapons. Not plans. Words.
They’ve also openly threatened to cut off all visits, even from lawyers, if any political message is conveyed.
This is not justice, this is not due process, this is authoritarian muscle cloaked in national security rhetoric.
And the truth is, none of this is new.
Since 1947, Pakistan’s military has repeatedly inserted itself into civilian politics, removing elected leaders, shaping foreign policy, and deciding the limits of political debate. Every time a civilian leader rises with genuine public backing, the generals move to break them.
For people unfamiliar with Pakistan’s deep state politics, Imran Khan is not some fringe figure. He’s a former cricket legend turned anti-corruption reformer who challenged the old political order, and allegedly, for that, the military has targeted him relentlessly. Arrests, assassination attempts, media blackouts, now total erasure.
The message is clear, either you support the military or you are the enemy.
This moment matters far beyond Pakistan.
When a nuclear-armed country silences its most popular civilian leader, brands political speech as sedition, and begins dismantling the boundary between security and governance, the entire region becomes more unstable.
It also reveals the cracks in the global democratic order.
As Muhammad Ali Jinnah, the founder of Pakistan, once warned, the armed forces are the servants of the people. Not the masters.
Imran Khan’s battle is no longer just a domestic one, it’s a test of whether a political movement powered by the people can survive the wrath of an entrenched military elite.
Today it’s banning lawyers, tomorrow, it may be banning elections.
It’s heartbreaking to watch yet another democracy crumble from within.
ذرائع کے مطابق، ایک مسلم ملک اس وقت بھرپور انداز میں عمران خان کی حمایت کر رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ طاقتور حلقوں کی جانب سے اس ملک کے خلاف بیان بازی شروع کروائی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ شیر افضل مروت نے بھی اسی ملک کے خلاف بیان دیا تھا، جس پر عمران خان نے انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔
Why Oct. often bring 'bad news' for democracy from 1958 to 2026. Saddest part is that each time one party or the other welcomed such moves. On Oct 12th, 1999 when PM Nawaz was sacked PPP welcome the move. Now, PPP and PML(N) agreed to get rid of PTI KP Govt. No lesson learnt.
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر ردِعمل:
ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے- عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ اس مینڈیٹ کو نظر انداز کرکے، صوبائی خودمختاری کو کمزور کرکے اور وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کرکے نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ استحکام لایا جاسکتا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی آواز کو دبانے، سیاسی مقاصد کے حصول یا صوبے کے آئینی اختیارات محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
صوبوں کو کمزو�� کرکے وفاق مضبوط نہیں ہوسکتا۔ مسائل کا حل طاقت، تصادم اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، آئین کی بالادستی اور بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں ہے۔
ہم عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہیں، اور آئین کی حکمرانی ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
ابھی بھی وقت ہے، اس فیصلے کو چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے۔ وفاق ego کو جانے دیں، زمینی حقائق کو سمجھے ، جائز مطالبات تسلیم کرے، عوام کے احساسات اور جذبات کا احترام کرے اور ملک کو مزید سیاسی و معاشی نقصان اور جمہوری عمل کو پیچھے دھکیلنے سے بچائے۔ سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاد میں دانش مندی کی علامت ہوتی ہے- otherwise بہت نقصان ہوجائیگا
خان کی بیماری کا کیس تین قیدی اور شاہراہ دستور پر موجود بڑی عدالتیں : اڈیالہ جیل کے 3 میں سے 2 قیدیوں کی اپیلوں میں بیماری کی urgency کی وجہ سے وفاقی آئینی عدالت نے دو دن لگاتار 14 اور 15 ستمبر کیس سنا تھا اگر چہ اس وقت ابھی چھٹیاں تھیں
اس دوران سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کا نکتہ آئینی عدالت کے سامنے اٹارنی جنرل کی جانب سے اتھا کہ یہ اس قسم کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر عمل درآمد کے کیسز سپریم کورٹ سن سکتی ہے یا صرف وفاقی آئینی عدالت کا ہی اختیار ہے
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے عمران خان شفا منتقلی والی فائل اپنے پاس منگوا لی
فائل آئی نہیں آئی وہ سوال الگ ہے
سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کی اس حرکت کی وجہ سے سماعت 16 ستمبر کو بغیر کاروائی آگے بڑھانے تین ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی تین ہفتے گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ میں کیس نہیں لگا کیونکہ وفاقی آئینی عدالت درمیان میں ہے
وفاقی آئینی عدالت جس نے بیمار قیدیوں کی اپیلو�� میں urgency کی وجہ سے دو دن یعنی 24 گھنٹے میں ایکشن کیا تھا 15 ستمبر سے 10 اکتوبر تک وہ بھول ہی گئی کہ کیس دوبارہ بھی لگانا تھا کیونکہ پہلی بار قیدیوں کی بیماری کی urgency کی وجہ سے کیس لگا تھا کیا دوسری بار وہ ختم ہو گئی ؟؟؟
تین قیدی جو اس وقت ستمںر میں جلدی میں تھے ان کی جانب سے بھی اب کوئی جلدی نہیں جلد سماعت کی کوئی درخواست 15 ستمبر سے 10 اکتوبر تک دائر نہیں ہوئی
یوں نظام انصاف پھل پھول رہا ہے
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ ج�� نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ��لیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ ��گا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
Labeling me a misogynist, homophobe, racist, and antisemite (I am none of these) doesn't change the fact that your support for Imran Khan has been disingenuous and inconsistent.
You call yourself a follower of Christ (Peace Be Upon Him). Spreading lies about someone, then using your position of power to question their citizenship (yes, I am a U.S. citizen), is not something Jesus would condone.
اصل کہانی تو آج کھلی ہے۔ حکومت مذاکرات میں بڑی بڑی باتوں پر لچک دکھانے کو تیار تھی، مگر عمران خان تک رسائی کے معاملے پر ایسی دیوار کھڑی کر دی گئی کہ ذاتی معالج تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا۔اور سوال یہی ہے کہ آخر کیوں؟اب اطلاعات آئی ہیں کہ گزشتہ دنوں عمران خان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا اور لندن سے معالج بلانا پڑا۔
اگر حکومت ایک بیمار قیدی تک اس کے ذاتی ڈاکٹر کی رسائی بھی روک رہی ہے تو پھر شک تو پیدا ہوگا ہی کہ آخر پردے کے پیچھے کیا ہے؟ حکومت کیا چھپانا چاہتی ہے؟
دو اہم باتیں جن کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے :
پہلی بات ہم نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں جو جرگہ منعقد ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہوئیں، ایک متفقہ لائحہ عمل طے پایا اس کو اہمیت دیجیے، آئندہ کا جو لائحہ عمل ہے، وہ متفقہ ہونا چاہیے، مشاورت پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس بات کو رد کیا گیا۔ کہا گیا کہ کسی بھی مسودے میں “متفقہ‘‘ کا لفظ ہم نہیں شامل کریں گے۔یہ ایک انتہائی اہم نقطہ تھا یہاں سے آگے بڑھنا بہت مشکل ہو گیا۔
دوسری بات خان صاحب کی طبی ٹیم میں خان صاحب کے ذاتی معالجین کو شامل کیا جائے۔18اگست 2026 کو جو سپریم کورٹ کا حکمنامہ آیا، اس میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔ اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر فیصل سلطان، جو کہ خان صاحب کے ذاتی معالج ہیں، شوکت خانم ہسپتال کے سربراہ ہیں، ان کو شامل کیا گیا۔ خان صاحب کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمٰی کو شامل کیا گیا۔
ہم نے یہی کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی عمل کر لیجیے۔ ایک ایسا بورڈ ہو ج�� میں ڈاکٹر فیصل سلطان موجود ہوں، خان صاحب کی ہمشیرہ موجود ہوں، تاکہ مشاورت کر سکیں۔ اس میں کیا آسمان گر جائے گا؟
اس بات کو بھی بالآخر دو بج کر چالیس منٹ پر رد کیا گیا۔
یہ جو دو کلیدی معاملات تھے، ذاتی معالجین کا معاملہ، صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حوالے سے لائحہ عمل کا معاملہ، ان معاملات پر اگر اتفاق نہیں ہوتا تو سو اور معاملات پر اگر اتفاق ہو جائے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں۔یہ دو باتیں ہمارے لیے اہم ترین تھیں:
خان صاحب کی صحت اور خیبر پختونخوا میں لائحہ عمل۔ @salmanAraja
Leaving all other issues and much noise aside, the primary reason for the failure of the talks around 3am this morning between the government team and the PTI-TTAP team was the following: the PTI-TTAP team stood firm on its principled position that anti-terorrism actions in KPK would be based on agreement between the federal government and the KPK government and would be framed on the basis of consultation with, and the buy-in of, the different political parties represented in the KPK assembly. This was not acceptable to the government team that insisted that all actions unilaterally initiated by it would have to be owned by the provincial government. The PTI-TTAP team was clear that we have zero tolerance for terrorism and are committed to rooting it out. We also have a clear position against so-called collateral damage in the form of innocent lives and internal displacement of the local population. Policies and actions aimed at fighting terror must have the support of the local population and be based on ground intelligence. The wisdom provided by the jirga held in the KPK assembly of all the political and tribal notables of the province, including the merged districts, must be heeded. This was not acceptable to the federal government.
عمران خان کے ہینڈل سے ایک اور غوری۔ 🔥 🔥.
”جس نے CCTV فوٹیج چرائی،
اِسی نے 9 مئی کروائی ہے“
عمران خان
نوٹ: یہ ٹویٹ اپریل ۲، ۲۰۲۴ کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے۔
جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طو�� پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے-
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی ��سی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“