جنہوں نے حسنؓ و معاویہؓ کا اتحاد نہیں مانا، وہ پاک ترک سعودی اتحاد کیسے مانیں گے؟
تاریخ بتاتی ہیکہ ایک طبقے کو ہمیشہ تکلیف ’’تین‘‘ سے رہی ہے،
آج جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ سے بھی ’’تین الف‘‘ کو تکلیف ہے۔
علامہ اورنگزیب فاروقی کا کراچی، شاہراہِ قائدین پر جلسے سے خطاب
قومیت اور عصبیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ صحابۂ کرامؓ کے نام پر نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔
آج ہر طرف یہ بات ہو رہی ہے کہ سسٹم کولیپس ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس متبادل ماڈل یا نظام کیا ہے؟ ہمارے پاس سب سے بہترین ماڈل نظامِ خلافتِ راشدہ ہے۔
خلافتِ راشدہ میں حضرت فاروقِ اعظمؓ کا انتظامی ماڈل یہ تھا کہ جب کوئی شہر آبادی اور حجم کے اعتبار سے بڑا ہونے لگتا تو نئے انتظامی مراکز اور شہر قائم کیے جاتے۔
حکومت کے لیے بڑے اور بے قابو شہروں کے بجائے چھوٹے، منظم اور قابلِ انتظام انتظامی یونٹس کو کنٹرول کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔
لہٰذا قومیت اور عصبیت کے بجائے صحابۂ کرامؓ کے نام پر نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں
علامہ اورنگزیب فاروقی
لبادے سے نہیں، کردار سے پہچانیئے ۔۔۔۔
جنہیں سیدنا حسنؓ و سیدنا معاویہؓ کی صلح نہ بھائی، انہیں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کا اتحاد کیسے بھائے گا؟
اتحاد ہمیشہ اہلِ خیر کو جوڑتا اور اہلِ فتنہ کو بے نقاب کرتا ہے۔
رضوان اللہ علیہم اجمعین
پہرہ جاری رہے گا، ان شاء اللہ
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
اہلسنت والجماعت کراچی ڈویژن کے زیرِ اہتمام تاریخ ساز کانفرنس کی کامیابی پر تمام ذمہ داران اور کارکنان کو دلی مبارکباد۔ یہ کامیابی آپ کی محنت، اخلاص اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں کا ثمر ہے۔
اللہ تعالیٰ مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین۔
#اہلسنت_والجماعت_کراچی_ڈویژن#کانفرنس
واقعہ قرطاس یعنی قلم و دوات کا معاملہ کس دن پیش آیا تھا اور اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں کتنے دن حیات رہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلم و دوات لانے کا جو حکم دیا تھا، وہ عام طور پر محفل میں موجود تمام حاضرین کے لیے تھا یا خاص طور پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے؟
اگر یہ حکم سب کے لیے تھا، تو کیا اس وقت وہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے یا نہیں؟
کیا یہ سچ ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ السلام کے کاتبِ وحی تھے؟ اور کیا اس بنیاد پر یہ سمجھنا درست ہے کہ یہ خطاب قلم و دوات لانے کا ان سے بھی تھا؟
اتنے واضح قرائن کے باوجود حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اس حکم کے مخاطب نہیں تھے اور ان پر کوئی الزام نہیں آتا، تو پھر حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو کیسے مخاطب اور مجرم مانا جا سکتا ہے؟ جبکہ وہ تو صرف حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی خیریت معلوم کرنے آئے تھے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حتمی طور پر کون سے الفاظ ثابت ہیں: "حسبکم کتاب اللہ" تمہارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے یا "حسبنا کتاب اللہ" ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے؟
جب حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے یہ جملہ دربارِ نبوت میں بار بار دہرایا، تو کیا حضور علیہ السلام نے ان کو غلط کہا ��ا ان کی تکذیب کی؟
اگر حضور علیہ السلام یا ان کے اہل بیت سے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے اس جملے کی کوئی لفظی تردید ثابت نہیں ہے، تو پھر کسی دوسرے کو ان کی تغلیط کا کیا حق ہے؟
اگر یہ مان لیا جائے کہ جمعرات کے دن قلم و دوات لانے میں رکاوٹ صرف حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے بنی، تو حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کا وصال پانچ دن بعد پیر کو ہوا۔ ان پانچ دنوں میں دوبارہ قلم و دوات لانے سے روکنے والا کون تھا؟
اگر ان پانچ دنوں میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور پھر بھی وہ تحریر نہ لکھی گئی، تو حضور علیہ السلام نے امت کو کس حال میں چھوڑا؟ جبکہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا تھا: "تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جاؤ" یعنی اگر وہ تحریر اتنی ہی فرض تھی تو آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے پانچ دن میں دوبارہ کیوں نہ لکھوائی؟
جو لوگ اس واقعے کو لے کر بغضِ فاروقی کی دکان چمکاتے ہیں، وہ دراصل ایک ہی تیر سے شانِ رسالت، عصمتِ انبیاء، آیتِ اکمالِ دین اور شجاعتِ علیؓ... ان سب کا ایک ساتھ شکار کر رہے ہوتے ہیں۔
العاقل تکفیہ الاشارة
إن الاتفاق الدفاعي الذي أُبرم في مكة المكرمة بين باكستان والمملكة العربية السعودية والجمهورية التركية يحمِل بُشرى سارة تبعث السرور في نفوس أبناء الأمة الإسلامية جميعًا.
وإن حكومات الدول الثلاث تستحق التهنئة على هذا الاتفاق الصانع للتاريخ والذي تمّ في جواربيت الله الحرام
انتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
الحمدللہ! دفترِ خارجۂ پاکستان نے بھی عراق میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سرحد پار آپریشنز وِنگ قدس فورس اور اس کی حلیف نجی ملیشیا حشد الشعبی کے مسلح جنگجوؤں پر سعودی کارروائی کو حقِ دفاع قرار دے دیا۔
سو، اب شاید یہ بحث بھی ختم ہو جانی چاہیے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کس سمت کھڑی ہے۔ جو لوگ ہر معاملے میں “غیر ��انب داری” کے خواب دیکھتے ہیں، وہ ذرا زمینی حقائق بھی پڑھ لیا کریں
اس بیان کے بعد کچھ لوگوں کے برسوں سے تراشے گئے وہ تمام رومانوی بیانیے بھی ایک سرکاری اعلامیے کے سامنے دم توڑ گئے، جن میں پاکستان کو ہر حال میں تہران کے پلڑے میں دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی
پاکستان ڈبل زندہ باد
ہمارا عزم ہے کہ ترقی کا یہ سفر مزید آگے بڑھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جھنگ کو ڈویژن کا درجہ ملے، میڈیکل کالج قائم ہو، نوجوانوں کے لیے آئی ٹی سیکٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے مواقع پیدا ہوں، انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جائے، اور جھنگ کو موٹروے نیٹ ورک سے منسلک کیا جائے تاکہ روزگار، سرمایہ کاری اور خوشحالی کے نئے دروازے کھلیں۔
4 اگست صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ جھنگ کی ترقی، عوامی خدمت اور روشن مستقبل کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ آئیے، اس دن ہم مل کر اس سفر کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک ترقی یافتہ، مضبوط اور خوشحال جھنگ مل سکے۔
#Jhang #4August #JhangDay #PressClubJhang #JhangDevelopment #JhangDevelopmentProgram
حدیث بیان کرنے پر ایف آئی آر والی باتیں اب پرانی ہو چکیں…
اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ عالمی اداروں کو شکایات بھیجی جا رہی ہیں، اور اس بار کسی دوسرے یا تیسرے شخص کے خلاف نہیں بلکہ براہِ راست میرے خلاف شکایت کی گئی ہے۔
جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا…
آپ کے بھائی عمار خان یاسر کے خلاف ایک عالمی ادارے کو شکایت بھیجی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی عالمی ادارے نے مجھے باقاعدہ ای میل کر کے اطلاع دی کہ پاکستان کے فلاں سرکاری ادارے کی جانب سے آپ کی اس ویڈیو کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے۔
جب لنک کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس ویڈیو سے آخر کس کو تکلیف ؟ پھر سمجھ آیا کہ اس میں بھی تو میں نے دو احادیث پڑھی ہیں ،
سٹے ٹیونڈ مکمل تفصیلات شام کی ویڈیو میں۔
تب تک آپ یہ بتائیں کہ پس منظر میں نظر آنے والی بلڈنگ راولپنڈی کی کونسی مشہور بلڈنگ ہے اور لوکیشن کیا ہے؟ 🙂
وہاں "جمیع صحابہ" موجود تھے۔ اگر وہاں خلافت کا واضح اعلان ہوا تھا، تو حضور ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد (صرف چند دن بعد ہی) ان ہزاروں صحابہ میں سے ایک نے بھی سقیفہ بنی ساعدہ یا بعد میں یہ کیوں نہیں کہا کہ: "اے لوگو! تم ابوبکرؓ کی بیعت کیوں کر رہے ہو؟ ہم نے تو ابھی چند دن پہلے غدیر کے میدان میں علیؓ کی خلافت کا اعلان سنا تھا!" کیا معاذ اللہ وہ تمام ہزاروں صحابہِ رسول یکمشت مرتد، منافق یا خائن ہو گئے تھے کہ سب نے مل کر الٰہی حکم کو چھپا لیا؟ یہ صحابہ کرام کی عدالت پر بدترین اور ناقابلِ قبول حملہ ہے۔
اگر سیدنا علیؓ غدیر کے دن اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے خلیفہِ بلا فصل (پہلے خلیفہ) مقرر ہو چکے تھے، تو انہوں نے خود حضور ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ہاتھ پر بیعت کیوں فرمائی؟ (معاذ اللہ) کیا شیرِ خدا سیدنا علیؓ کسی مصلحت یا ڈر کی وجہ سے اللہ کے دیے ہوئے منصبِ خلافت سے دستبردار ہو گئ�� تھے؟ یا انہوں نے حکم الٰہی کو پسِ پشت ڈال دیا تھا؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ غدیر میں خلافت کا نہیں، محبت کا اعلان تھا جسے سیدنا علیؓ خود بھی خلافت نہیں سمجھتے تھے۔
اگر خلافت و امامتِ علیؓ پر ایمان لانا توحید و رسالت کی طرح اصولِ دین کا حصہ ہے جس پر آخرت میں جوابدہی ہونی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں نماز، زکوٰۃ، حج، اور گزری ہوئی امتوں کے واقعات تک تو کھول کر بیان فرما دیے، لیکن ایمان و نجات کی اتنی بڑی شرط (امامتِ علیؓ) کا نام لے کر پورے قرآن میں ایک جگہ بھی ذکر کیوں نہیں فرمایا؟ کیا اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) امت کو آزمائش میں ڈالنا چاہتا تھا کہ اتن�� اہم عقیدے کو صریح الفاظ میں بیان ہی نہ کیا؟
یہ الزام باطل ہے کہ علماء نے اسے چھپایا۔ حدیثِ غدیر اہلسنت کی معتبر ترین کتب (مسند احمد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور المستدرک للحاکم) میں پوری تفصیل سے موجود ہے۔ اہلسنت کے تمام علماء حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس فضیلت کو منبر و محراب پر بیان کرتے ہیں اور آپ سے محبت کو ایمان کا حصہ مانتے ہیں
اس شخص کو مستقل بکواس کے باوجود کیوں اسپیس دی جارہی ہے؟
کیوں اس چٹے بلے کی پکڑ نہیں ہورہی
کون ہے اس کے پیچھے
مستقل افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کئیے جارہا
کاش کہ کوئ اس بدبخت کو بھی نکیل ڈال سکے