This is the pure concept of humanity. If we follow the teachings of (PBUH ), the world will be heaven on this planet. In addition we should treat human as human beings not on the basis of ones religion.
یہ میرا بھائی ہے اسے ٹیومر علاج پاکستان میں ممکن نہیں اگر ھم گھر سمیت سب کچھ بیچ دیں تو بھی علاج نہیں کروا سکتے
سنا ھے ریاست ماں کی طرح ھےاگر ایسا ھے تو آج ھم ماں کو پکار رھے ہیں کیا ریاست ماں بن کر بچوں کی پکار سنے گی
کیا ماں کے پاس بچوں کے لیے وقت ہے ؟
@CMShehbaz
03279783395
واہ پنکی واہ۔ ایسا تھپڑ مارا ہے کہ مدتوں یاد رہے گا۔
ننگے کو مزید ننگا کر دیا ہے۔ اور پوری دنیا کہ سامنے عیاں کر دیا کہ یہ کتنے گرے ہوئے ہیں۔ انکا کوئی اصول نہیں۔ ان کا کوئی ایمان نہیں۔ یہ بد بخت اللہ کا نام لیتے ہے۔ لیکن ہیں یہ شیطان کے چیلے۔
Imran Khan and Bushra Bibi remain illegally imprisoned and are being subjected to systematic psychological and physical torture through unlawful isolation.
For the past seven months, Imran Khan has been kept in solitary confinement. He has been denied access to his family, his personal doctors, and even basic human rights including books, which he has not been allowed for the last five months.
At this moment, our primary demand is clear: Imran Khan must immediately be shifted to Shifa International Hospital for comprehensive medical examinations and proper treatment for his eye condition.
Today, the 12th of May, CM Sohail Afridi, along with the entire KP Assembly, members of the Punjab Assembly, members of the National Assembly, and Senators from PTI, will come to Adiala Jail to stand in solidarity with their leader, Imran Khan.
Their presence will highlight the issue both nationally and internationally, the ongoing mistreatment and psychological torture being inflicted upon Imran Khan and Bushra Bibi. It is also intended to build pressure on this government (a government brought into power through stolen mandate from Imran Khan) to immediately transfer him to Shifa International Hospital without any further delay.
Our family once again strongly urges Imran Khan’s supporters NOT to come to Adiala Jail today. Police will not arrest elected representatives and Senators, but the supporters remain at serious risk of arrest and mistreatment.
پٹرول 415 روپے کا ہوگیا ہے۔ پاکستانیو، اگر پٹرول پ��ر سے 140 روپے لیٹر چاہیے، تو اپنے گھروں سے نکلو، اس لیڈر سے وفا کرو، اسے فوجی قید سے آزاد کراؤ، اسے اس کا چوری کیا ہوا الیکشن واپس کراؤ، اور پھر سے جنگل جیسے پاکستان کو ملک بناؤ۔
The secrecy and willful neglect of Imran Khan’s medical condition by this illegitimate military regime are putting his eyesight at serious risk.
Imran Khan must immediately be transferred to Shifa International Hospital for an independent and transparent medical evaluation and provided treatment under the care of his personal physicians and his family.
#ImranKhanMedicalCareDenied
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو ��حریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھ��وایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو ��ب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
"چیف جسٹس ڈوگر تو حکومت کی سہولتکاری کے لیے بیٹھا ہے اس پر عدم اعتماد کرنا چاہئے۔ کیس کسی اور جج کے پاس لگوانا چاہئے اگرچہ انہوں نے انصاف کرنے والے ججوں کے تبادلے کردئیے ہیں لیکن پھر بھی کسی جج کا تو ضمیر جاگے گا اور وہ عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانت پر فیصلہ کرے گا ۔ وکلاء اور بارز کو اس جج ڈوگر پر دباؤ ڈالنا چاہئے"۔ @Aleema_KhanPK
"ایران کے مزاکرات سے عمران خان کی قید تنہائی کا کیا تعلق ہے؟ اس وجہ سے ہم اپنے بھائی کی آنکھ خراب ہونے دیں؟ ہم کیوں خاموش ہوں؟ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہی کیوں جارہا ہے"؟ علیمہ خان
”پی ٹی آئی قیادت، اب وہ وقت آ گیا ہے جب عمران خان کو آپ کی ضرورت ہے!
کے پی اور پنجاب اسمبلیوں کے سینکڑوں منتخب ارکان (سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز) کی اڈیالہ میں موجودگی کا بہت بڑا اثر ہوگا۔
یہ اس حکومت (جو عمران خان کا مینڈیٹ چوری کرکے اقتدار میں آئی ہے) پر ضروری دباؤ ڈالے گا تاکہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج فراہم کیا جا سکے۔
یہ ڈوگر کورٹ پر فوری اور ضروری دباؤ ہے کہ وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو سنے اور انہیں رہا کرے۔
پولیس عموماً عمران خان کے حامیوں کو گرفتار کرتی ہے؛ خاندان یا منتخب نمائندوں کو نہیں۔ ہم عمران خان کے حامیوں (جو عہدے دار نہیں ہیں) سے اپیل کرتے ہیں کہ آج اڈیالہ نہ آئیں۔“-@Aleema_KhanPK
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
PTI Leadership, NOW is the time when Imran Khan Needs You!
The impact of hundreds of elected members (Senators, MNAs and MPAs) of KP and Punjab assemblies at Adiala will be huge.
It WILL create the necessary pressure on this Govt (who is in power by stealing Imran Khan’s mandate) to get Imran Khan treated at Shifa International Hospital in Islamabad.
It is an urgent and necessary pressure for Dogar court to take up Imran Khan and Bushra Bibi’s bail applications and set them FREE.
Police usually arrests Imran Khan’s supporters; not the family or elected members. We appeal to Imran Khan’s supporters (who are not office holders) NOT to come to Adiala today.
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
میں نے اپنے ایک وی لاگ میں محسن نقوی پر ہلکی سی تنقید کی تھی اگلے دن گاؤں کا پورا راستہ پولیس ایلیٹ فورس اور ویگو ڈالوں سے بھرا ہوا تھا جو میرے والد کو اٹھا کر لے گئے تھے اور مجھے انتہائی مجبور کر کے ��یڈیو ڈلیٹ کروائی گئی ۔ کل ابصار عالم نے محسن نقوی کیخلاف کیا کیا راز نہیں کھولے یہاں تک کہ اسے منی لانڈرر کہا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محسن نقوی صاحب ابصار عالم یا اس کے فیملی ممبر کا اٹھوا کر ویڈیو ڈلیٹ کرواتے ہیں یا پھر اُن کا بھی زور صرف میرے جیسے عام وی لاگرز اور ایکٹویسٹ پر ہی چلتا ہے۔
چار ہفتے کی قید تنہائی کے بعد جب میں عمران خان سے ملی تو انہوں نے کہا کہ جا کہ بتاو میں بڑی سخت قید کاٹ رہا ہوں۔بظاہر وہ مسکرا رہے تھے ہمیں تسلی دینے کو لیکن وہ بہت تکلیف میں تھے۔ اور اب تو پانچ ماہ گزر گئے اور کوئی انکی قید تنہائی پہ بات نہیں کر رہا۔
ڈاکٹر عظمی خان کی گفتکو
ایثار رانا صحافت کی شان ہے۔ ایک سیلف میڈ باضمیر صحافی ہے۔ ان کے خلاف گھٹیا زبان ایک گٹر آدمی نے استعمال کی۔ جو اس گٹر شخصیت سے ملتے ہیں اور پروٹوکول دیتے ہیں وہ خود غلاظت پسند لوگ ہیں۔ بس اتنا ہی بتانا تھا ۔ تھینک یو ویری مچ۔