یہاں تو گھروں میں چھوٹی چھوٹی سکول کی بچیان جب اپنے آگے بھائیوں کے سامنے ایسے رسہ ٹاپنے والا کھیل کھیلیں گی
اور اپنی چھوٹے چھوٹے سنگترے ایسے ہلا ہلا کر دکھائی گی تو
ان گھروں مین موجود بھائیوں کو انسیسٹ بننے سے کون روک سکتا ھے
گھریلو شادی شدہ عورتیں اکثر ایسے ہی گھوڑی بنتی ہیں
شلوار اتار کے، قمیض اوپر، صرف گانڈ اور ممے آزاد
کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
میرے خیال میں ہاں — کیونکہ اس میں شرم اور شہوت دونوں رہتے ہیں۔
تم بتاؤ — ایسے جزوی کپڑوں میں چودنے کا مزہ زیادہ ہے یا پورے ننگا کر کے
اکثر شادیوں میں دلہنوں سے زیادہ باقی عورتیں غیر مردوں سے چدتی ہیں اور وہیں جہاں دلہن اپنی کنواری سیل توڑواتی ہے باقی عورتیں تحفتا اپنی گانڈ کی سیل پیش کرتی ہیں اور ہر زیب تن کئے ہوئے کپڑے کو تن سے جدا کر کے محض اپنے میک اپ اور جیولری کے حسن سے اپنے یاروں کو راضی کرتی ہیں
گرمی میں عورتیں اتنی آزاد خیال ہو کر سب کے درمیان ایسے کام کاج کر رہی ہوتی ہے جس سے ان کے موٹے موٹے ممے قمیضوں سے صاف نکلتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہے اور یہ بھی ان کو سب پتا ہوتا کے کون کون ان کو دیکھ رہا اور کس کس کا ل اکڑ چکا ہے پر اس وقت وہ جان بوج کر بھولی بن رہی ہوتی ہے
اگر آپ کے گھر کی پشت شریف ننگی ہونے کے بعد گھوڑی سٹائل میں اس قسم کا منظر پیش کرتی ہے تو سمجھ جائیں یا تو ان کے میاں نے رج کے سواری کی ہے یا اس گھوڑی کے شادی سے پہلے اور بعد میں کافی سوار بدلے ہیں۔ ایسی گھوڑیاں شادی کے لائق نہیں ہوتی صرف استعمال کے لائق ہوتی کیں۔
یہ ہیں ہماری ہیوی دیسی مشینیں ان مشینوں کو چلانا اور ان کا تیل پانی ہمارے دیسی مکینک پورا نہیں کر پاتے اس لیئےاکثر یہ مشینیں سوکھی رہتی ہیں کبھی کبھی ��ن ہیوی مشینوں کو ٹھیک سے چلانے ان کا تیل پانی پورا کرنے کے لیئے افریقہ سےحبشی استاد منگوانے پڑتے ہیں تاکہ یہ مشینیں رواں رہیں
گھریلو شادی شدہ عورتیں اکثر ایسے ہی گھوڑی بنتی ہیں
شلوار اتار کے، قمیض اوپر، صرف گانڈ اور ممے آزاد
کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
میرے خیال میں ہاں — کیونکہ اس میں شرم اور شہوت دونوں رہتے ہیں۔
تم بتاؤ — ایسے جزوی کپڑوں میں چودنے کا مزہ زیادہ ہے یا پورے ننگا کر کے
گھریلو شادی شدہ عورتیں اکثر ایسے ہی گھوڑی بنتی ہیں
شلوار اتار کے، قمیض اوپر، صرف گانڈ اور ممے آزاد
کیا یہ بات ٹ��یک ہے؟
میرے خیال میں ہاں — کیونکہ اس میں شرم اور شہوت دونوں رہتے ہیں۔
تم بتاؤ — ایسے جزوی کپڑوں میں چودنے کا مزہ زیادہ ہے یا پورے ننگا کر کے
گھریلو شادی شدہ عورتیں اکثر ایسے ہی گھوڑی بنتی ہیں
شلوار اتار کے، قمیض اوپر، صرف گانڈ اور ممے آزاد
کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
میرے خیال میں ہاں — کیونکہ اس میں شرم اور شہوت دونوں رہتے ہیں۔
تم بتاؤ — ایسے جزوی کپڑوں میں چودنے کا مزہ زیادہ ہے یا پورے ننگا کر کے
اکثر شادیوں میں دلہنوں سے زیادہ باقی عورتیں غیر مردوں سے چدتی ہیں اور وہیں جہاں دلہن اپنی کنواری سیل توڑواتی ہے باقی عورتیں تحفتا اپنی گانڈ کی سیل پیش کرتی ہیں اور ہر زیب تن کئے ہوئے کپڑے کو تن سے جدا کر کے محض اپنے میک اپ اور جیولری کے حسن سے اپنے یاروں کو راضی کرتی ہیں
اکثر شادیوں میں دلہنوں سے زیادہ باقی عورتیں غیر مردوں سے چدتی ہیں اور وہیں جہاں دلہن اپنی کنواری سیل توڑواتی ہے باقی عورتیں تحفتا اپنی گانڈ کی سیل پیش کرتی ہیں اور ہر زیب تن کئے ہوئے کپڑے کو تن سے جدا کر کے محض اپنے میک اپ اور جیولری کے حسن سے اپنے یاروں کو راضی کرتی ہیں
اکثر شادیوں میں دلہنوں سے زیادہ باقی عورتیں غیر مردوں سے چدتی ہیں اور وہیں جہاں دلہن اپنی کنواری سیل توڑواتی ہے باقی عورتیں تحفتا اپنی گانڈ کی سیل پیش کرتی ہیں اور ہر زیب تن کئے ہوئے کپڑے کو تن سے جدا کر کے محض اپنے میک اپ اور جیولری کے حسن سے اپنے یاروں کو راضی کرتی ہیں
چھاتیوں کی لہریں، جیسے سمندر کی خاموش موجیں ہر دھڑکن پر اٹھتی ہیں، اور دل کو ڈبو دیتی ہیں
جب سر رکھا ان پر تو لگا، دنیا بھول گیا ہوں
یہ دو پہاڑ نہیں، یہ تو سکون کا گھر ہے میرا
چھاتیوں کی لہریں، جیسے سمندر کی خاموش موجیں ہر دھڑکن پر اٹھتی ہیں، اور دل کو ڈبو دیتی ہیں
جب سر رکھا ان پر تو لگا، دنیا بھول گیا ہوں
یہ دو پہاڑ نہیں، یہ تو سکون کا گھر ہے میرا
چھاتیوں کی لہریں، جیسے سمندر کی خاموش موجیں ہر دھڑکن پر اٹھتی ہیں، اور دل کو ڈبو دیتی ہیں
جب سر رکھا ان پر تو لگا، دنیا بھول گیا ہوں
یہ دو پہاڑ نہیں، یہ تو سکون کا گھر ہے میرا
گرمی میں عورتیں اتنی آزاد خیال ہو کر سب کے درمیان ایسے کام کاج کر رہی ہوتی ہے جس سے ان کے موٹے موٹے ممے قمیضوں سے صاف نکلتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہے اور یہ بھی ان کو سب پتا ہوتا کے کون کون ان کو دیکھ رہا اور کس کس کا ل اکڑ چکا ہے پر اس وقت وہ جان بوج کر بھولی بن رہی ہوتی ہے
گرمی م��ں عورتیں اتنی آزاد خیال ہو کر سب کے درمیان ایسے کام کاج کر رہی ہوتی ہے جس سے ان کے موٹے موٹے ممے قمیضوں سے صاف نکلتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہے اور یہ بھی ان کو سب پتا ہوتا کے کون کون ان کو دیکھ رہا اور کس کس کا ل اکڑ چکا ہے پر اس وقت وہ جان بوج کر بھولی بن رہی ہوتی ہے