جن کو پیدا کیا انکو بددعا کیسے دوں ؟؟
کراچی کے ایک اولڈ ہوم میں زندگی کے آخری دن گزارنے والا بزرگ کس بات پر رو پڑا ؟ ان بابا جی کے 11 بچے تھے ، 3 بیٹے اور آٹھ بیٹیاں ۔۔۔ سب سے بڑا بیٹا ان کے بغیر کھانا نہیں کھاتا تھا ، چاہے 2 وقت بھوکا رہنا پڑے افسوس وہ اللہ کو پیارا ہو گیا ۔۔ اسکے کچھ سال بعد دوسرا بیٹا بھی فوت ہو گیا ۔۔۔ آٹھ میں سے تین بیٹیاں بھی کم عمری میں فوت ہو گئیں ،باقی بیاہ کر اپنے گھروں کو چلی گئیں ۔۔۔ رہ گیا ایک بیٹا ،اسکی بیوی بڑی سخت نکلی ، ان بابا جی کو گالیاں دیا کرتی ۔ بدتمیزی کرتی اور مفت کی روٹیاں توڑنے والا قرار دیتی ۔ تنگ آکر ان بزرگ نے ایک دن اپنے بیٹے کو کہا ۔۔۔ بیٹااب اگر میں اس گھر میں رہا تو میرا دم گھٹ جائے گا ، تم مجھے آخری عمر کی ذلالت سے بچا لو اور مجھے کسی اولڈ ہوم میں چھوڑ آؤ جہاں تمہارا خرچہ بھی نہ ہو ۔۔۔ بیٹا مجھےیہاں دارالسکون میں چھوڑ گیا اور میں وا��عی سکون والی زندگی میں آگیا ۔۔۔۔ بہو کے حوالے سے کہنے لگے ، پرائی بیٹی تھی ، پرائی ہی نکلی مگر اسے بددعا نہیں دے سکتا کیونکہ وہ میرے بیٹے کی شریک حیات ہے ، اللہ کریم میرے بچوں کو ہنستا بستا اور خوش و خرم رکھے ، ہمارے تو جیسے تیسے گزر ہی جائیگی
ہر نان-ٹیکنیکل بندہ گوگل کو صرف چیزیں سرچ کرنے یا ویڈیوز دیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ ہوشیار لوگ اس کے فری ٹولز سے اپنے مہینوں کے کام منٹوں میں نکال رہے ہیں!
گوگل کے پاس ایسے دردنوں پاورفل ٹولز موجود ہیں جن کا 90 فیصد لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے۔
اگر آپ ان کا صحیح استعمال سیکھ لیں، تو کسی بھی تھرڈ پارٹی ایپ یا پیڈ سافٹ ویئر کے بغیر آپ کی لائف بہت آسان ہو جائے گی۔
یہ ہیں وہ 10 چھپے ہوئے گوگل ٹولز جو بالکل فری ہیں:
1. Google Keep (روزمرہ کے نوٹس اور پرچیاں)
اگر آپ دکان کا حساب کتاب، اچھے آئیڈیاز، یا سودا سلف کی لسٹ واٹس ایپ پر خود کو میسج کر کے یا کاغذ پر لکھ کر بھول جاتے ہیں، تو یہ بیسٹ ہے۔
اصل کام کیا ہے:
یہ ایک سمارٹ ڈائری ہے۔ آپ اس میں بولیں گے تو یہ خود اسے ٹائپ کر دے گا۔ اس میں بازار کی لسٹ بنانے کے لیے ٹک مارک کا فیچر بھی ہے، اور یہ موبائل اور کمپیوٹر دونوں پر ہر وقت اپڈیٹ رہتا ہے۔
2. Google Lens (کیمرے سے سرچ کریں)
موبائل کیمرے کا ایسا کمال استعمال جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ہوگا۔
اصل کام کیا ہے:
کسی بھی پروڈکٹ، پودے، یا مشین کے پرزے کی تصویر کھینچیں، یہ انٹرنیٹ سے اس کا نام اور قیمت نکال دے گا۔ اگر سامنے ک��ئی انگلش لکھی ہے، تو کیمرہ گھمائیں؛ یہ سیکنڈز میں اس انگلش کو لائیو اردو میں بدل کر دکھا دے گا۔
3. Google Alerts (مارکیٹ کی لائیو اپڈیٹس)
اگر آپ اپنے بزنس، کسی پروڈکٹ، یا پراپرٹی کے ریٹس پر نظر رکھنا چاہتے ہیں لیکن روزانہ سرچ کرنے کا ٹائم نہیں ہے۔
اصل کام کیا ہے:
اس ٹول میں جا کر اپنا کی ورڈ (جیسے "Shopify updates" یا "Real estate") سیٹ کر دیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی اس ٹاپک پر کوئی نئی خبر یا بلاگ آئے گا، گوگل خود آپ کو ای میل کر کے بتا دے گا۔
4. Google Fonts (فری اور پروفیشنل فونٹس)
اگر آپ اپنی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پوسٹس، یا بینرز کے لیے اچھے اور کمال کے فونٹس ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
اصل کام کیا ہے:
یہ دنیا کی سب سے بڑی فری فونٹس لائبریری ہے۔ یہاں آپ کو اردو کے بہترین فونٹس (جیسے نستعلیق وغیرہ) اور انگلش کے ہزاروں ماڈرن فونٹس بالکل فری ملتے ہیں جنہیں آپ کہیں بھی استعمال کر سکت�� ہیں۔
5. Google Drive Scan (کاغذات موبائل میں سیو کریں)
آفس کے ڈاکومنٹس، شناختی کارڈ کی کاپی، یا دکان کے بلز سنبھالنا ایک بڑی سردردی ہے۔
اصل کام کیا ہے:
گوگل ڈرائیو کی ایپ کھولیں اور پلس (+) پر کلک کر کے "Scan" چلائیں۔ یہ آپ کے موبائل کیمرے کو ایک اسکینر میں بدل دے گا جو ٹیڑھی تصویر کو بھی بالکل سیدھا اور صاف پی ڈی ایف (PDF) بنا کر محفوظ کر دے گا۔
6. Google Input Tools (آسان اردو ٹائپنگ)
اگر آپ کو کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ کرنا مشکل لگتا ہے کیونکہ آپ کا کی بورڈ صرف انگلش کا ہے۔
اصل کام کیا ہے:
اس ٹول کی مدد سے آپ رومن اردو لکھیں گے (جیسے: "kya hal hai") اور یہ کمپیوٹر پر خود بخود اسے خوبصورت اردو رسم الخط ("کیا حال ہے") میں تبدیل کرتا جائے گا۔
7. Google Sites (فری ون پیج ویب سائٹ)
اگر آپ کا کوئی چھوٹا بزنس، دکان یا پرسنل برانڈ ہے اور آپ ڈویلپر کو پیسے دیے بغیر اپنی ایک سادہ ویب سائٹ بنانا چاہتے ہیں۔
اصل کام کیا ہے:
یہ بالکل فری ویب سائٹ بلڈر ہے۔ بغیر کسی کوڈنگ کے�� آپ صرف چیزیں ڈریگ اینڈ ڈراپ (Drag & Drop) کر کے 10 منٹ میں اپنے بزنس کی لائیو ویب سائٹ تیار کر سکتے ہیں۔
8. Google Trends (لوگ کیا سرچ کر رہے ہیں؟)
کوئی بھی نیا بزنس شروع کرنے یا سوشل میڈیا پر کام کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مارکیٹ میں کس چیز کا ٹرینڈ ہے۔
اصل کام کیا ہے:
یہ ٹول آپ کو لائیو گراف دکھاتا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کس چیز کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے اور کون سی چیز مارکیٹ میں فلاپ ہو رہی ہے، تاکہ آپ کا پیسہ اور وقت ضائع نہ ہو۔
9. Google Tasks (آج کے کاموں کی لسٹ)
اگر آپ صبح سوچتے ہیں کہ آج یہ 5 اہم کام کرنے ہیں، لیکن رات تک آدھے کام ذہن سے نکل جاتے ہیں۔
اصل کام کیا ہے:
یہ ٹول آپ کے جی میل اور کیلنڈر کے اندر ہی سیٹ ہو جاتا ہے۔ اپنے موبائل پر روز کے ٹاسک لکھیں، جیسے ہی وہ کام ہو جائے، ٹک مارک کر دیں۔ یہ آپ کے ڈسپلن کو بہت بہتر بنا دے گا۔
10. Google Find My Device (موبائل گم ہونے کا علاج)
یہ ایک ایسی سیٹنگ ہے جو ہر بندے کے موبائل میں ہر وقت آن ہونی چاہیے۔
اصل کام کیا ہے:
اگر آپ کا فون گھر میں کہیں کھو گیا ہے اور سائلنٹ پر ہے، یا باہر کہیں چوری ہو گیا ہے، تو آپ کسی بھی دوسرے فون سے لاگ ان کر کے اپنے فون پر فل والیوم میں گھنٹی بجا سکتے ہیں، اس کی لائیو لوکیشن دیکھ سکتے ہیں، اور گھر بیٹھے اس کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر سکتے ہیں۔
آخری بات:
ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ تب ہے جب وہ آپ کا پیسہ اور وقت دونوں بچائے۔ منجن بیچنے والوں کے مہن
“ پشین بلوچستان میں مولانا فضل الرحمان نے ایک شاندار جلسہ کرکے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا ہے۔ جلسہ میں حاضرین کی تعداد حیرت انگیز تھی۔ مولانا فضل الرحمان کا جلسہ اچھا خاصا بڑا تھا “ یہ تو ہوگیا وہ سب جو چند سو یا چند ہزار جگمگاتی روشنیاں دیکھ کر کوئی بھی تجزیہ کار بیان فرما دے گا۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کس جگہ سے اسمبلی میں ایم این اے ہیں؟ جی ہاں پشین سے کیونکہ وہ ڈیرہ سے اپنی نشستیں ہار گئے تھے۔ 2018 والی اسمبلی سے ہی مولانا باہر تھے کیونکہ تب بھی وہ ڈیرہ سے ہار گئے تھے۔ اس مرتبہ انہوں نے ساتھ پشین میں بھی کاغذات نامزدگی جمع کروالیے تھے تاکہ کم از کم اسمبلی میں تو موجود رہیں۔
کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پشین میں آبادی کا تناسب کیا ہے؟ جی ہاں تقریبا سو فیصد پشتون آبادی۔ پھر کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس علاقے میں جمعیت علمائے اسلام کے مدارس اور وہاں پڑھنے والے بچوں کی تعداد بالترتیب سینکڑوں اور ہزاروں میں ہے۔ پھر آپ کیا اس سے بھی دلچسپ بات جانتے کہ اس جلسے کا نام کیا تھا؟ جی ہاں “ جلسہ برائے تحفظ حقوق مدارس “۔
اب تحفظ مدارس کے نام پر آٹھ دس ہزار طلباء کو سامنے بٹھا کر مولانا نے جلسہ کھڑکا دیا ہے اور صحافی آپ کو مولانا کے اس جلسے سے متاثر کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ تبصرہ پاڑانہ بدنیتی کا کوئی علاج نہیں۔ لیکن جب جینوئن لوگ بھی اسی رو میں بہہ جاتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے۔
2016 میں عالمی تیل کی قیمت 40 ڈالر تھی، اور ڈالر کا ریٹ نواز شریف کو تقریباً 98 روپے ملا۔ تو مطلب نواز شریف تقریباً 27 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو 65 روپے میں دے رہا تھا۔
کچھ بے غیرت بار بار 65 کا حساب دیتے ان کو اصل حقیقت بتاؤ کہ وہ خود عالمی مارکیٹ سے 27 روپے پر خرید رہا تھا۔ اس وقت جو اسد عمر نے بات کی تھی۔ وہ درست تھی ۔ لیکن کچھ بد بخت جاہل نسل کے لوگ اسد عمر پر بکواس کرتے۔
2022 میں عالمی تیل کی قیمت 115 ڈالر تھی، اور ڈالر کا ریٹ عمران خان کو تقریباً 125 روپے ملا۔ لیکن اگر ڈالر کی وہ قیمت شمار کی جائے جو اُس وقت تقریباً 180 روپے تک جا چکی تھی، تو مطلب عمران خان تقریباً 150 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو تقریباً اسی قیمت پر دے رہا تھا۔
اور 2026 میں اس وقت عالمی تیل کی قیمت تقریباً 95 ڈالر ہے، جبکہ ڈالر کا ریٹ شہباز شریف کو تقریباً 180 روپے ملا۔ لیکن اگر آج کے دن کے ڈالر ریٹ، یعنی تقریباً 280 روپے، کو حساب میں لیا جائے تو مطلب شہباز شریف تقریباً 170 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو 400 روپے کے قریب دے رہا ہے۔ یعنی ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 200 روپے سے بھی اوپر ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملک تباہ و برباد ہو جائے اور عوام مہنگائی میں پس رہی ہو، تب بھی عوام کی کھال سے ایک لیٹر پر 200 روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اور جب اس پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سپورٹرز کو شرم دلاؤ تو الٹا وہ ہم پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں اور عمران خان پر ب��واس شروع کر دیتے ہیں
کوئی پڑھا لکھا ن لیک یا پی پی کا سپورٹر دلیل سے جواب دے گا کہ جب سازش سے حکومت لی فوج کے مدد سے تو ملک کو کتنا آگے لے گئے؟؟
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے ��یا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
*"کول پاور کا کالا دھندا" —
ن لیگ کے 40 سالہ تجربے کا شاہکار*🚨
*پروجیکٹ:* ساہیوال کول پاور پلانٹ — 1320 میگاواٹ
*بانی:* میاں صاحب کا "ویژن"
*نعرہ:* "روشنیاں بحال، جیبیں مالا مال"
*1. پلانٹ لگانے کا "ماسٹر اسٹروک"*
2015 میں سوچا: "بجلی چاہیے؟ چلو کوئلے سے بنا لیتے ہیں"
لیکن کوئلہ کہاں سے؟
تھر میں کوئلہ پڑا ہے؟ نہیں جی، وہ تو "سستا" ہے، کمیشن نہیں بنے گا۔
حل نکالا: انڈونیشیا اور ساؤتھ افریقہ سے کوئلہ منگواؤ۔
کراچی پورٹ سے ساہیوال تک 1000 کلومیٹر روزانہ ٹرین چلاؤ۔
روز 12,000 ٹن کوئلہ — یعنی 200 ٹرک روزانہ
عقل پوچھے: "بھائی زرعی زمین پر، نہر کے کنارے، کوئلے کا پلانٹ؟"
جواب ملا: "چپ کر، یہ ترقی ہے"
*لاگت:* 1.91 ارب ڈالر = 200 ارب روپے
*بونس:* 1700 ایکڑ زمین پنجاب حکومت نے "مفت" دے دی — قوم کی زمین، داماد جیسی
*ریلوے لائن:* یوسف والا سے پلانٹ تک علیحدہ بچھائی — کیونکہ "پسندیدہ ٹھیکیدار" کو بھی کھلانا تھا
*2. معاہدہ — "قوم کو بیچنے کا سرٹیفکیٹ"*
بجلی کا ریٹ طے کیا: 8.80 روپے فی یونٹ، 30 سال کے لیے
شرط: چلے نہ چلے، "کیپیسٹی چارج" دو
یعنی پلانٹ بند پڑا ہو تب بھی اربوں دو — IPPs کو "گھر بیٹھے تنخواہ"
*3. کوئلے کا کمال — "امپورٹ میں کمیشن، سپلائی میں کرپشن"*
2020: کوئلہ 60 ڈالر فی ٹن
2021: 114 ڈالر فی ٹن
2022: 253 ڈالر فی ٹن
جیسے ہی کوئلہ مہنگا ہوا، پلانٹ بند۔ کیونکہ "منافع" نہیں تھا۔
لیکن "کیپیسٹی چارج" جاری رہا۔
*اور سنیں:* مارچ 2024 میں پتا چلا
بازار میں کوئلہ 45,000 روپے ٹن
پلانٹ کو بیچا 74,000 روپے ٹن
18 مہینے میں 40-50 ارب کی "اوور چارجنگ"
کیوں؟ کیونکہ ٹھیکیدار "زیادہ پسندیدہ" تھے
نام نہ لو، بس سمجھ جاؤ — "تجربہ کار ٹیم" کا کمال
*4. ایک سال کا حساب — "قومی خزانے پر ڈاکہ"*
2023-24 میں ساہیوال پلانٹ:
چلا صرف 65 دن — یعنی 17.95%
بجلی بنائی: 2.08 ارب یونٹ
اصل خرچہ: 40.98 ارب = 19.75 روپے یونٹ
لیکن حکومت نے ادائیگی کی:
*کیپیسٹی چارج: 117.28 ارب = 56.52 روپے یونٹ*
*کل ادائیگی: 158.26 ارب = 76.27 روپے یونٹ*
یعنی بجلی بنانے پر 40 ارب لگے، بند رکھنے کے 117 ارب لے لیے
یہ ہے "کاروباری دماغ" — پلانٹ چلاؤ تو گھاٹا، بند رکھو تو منافع
*5. تینوں پلانٹس کا اجتماعی جنازہ*
ساہیوال + پورٹ قاسم + حبکو:
سالانہ خرچہ: 82 ارب
سالانہ ادائ��گی: 464 ارب
*زائد پیمنٹ: 381 ارب — صرف ایک سال میں*
ایک رپورٹ کے مطابق کیپیسٹی پیمنٹ 700 ارب سالانہ
جبکہ تینوں پلانٹس کی کل لاگت تھی 605 ارب
مطلب 1 سال کی "رینٹ" میں پورا پلانٹ دو بار بن سکتا تھا
*6. انکوائری کا انجام — "نیب ترمیم زندہ باد"*
483 ارب کی کرپشن پکڑی گئی
175 ارب صرف ان 3 پلانٹس کی
جولائی 2023: نیب ترمیم آئی، فائل بند
کیونکہ "احتساب سب کا" — سوائے "تجربہ کاروں" کے
*7. نیا U-Turn — "تھر کوئلے کا لالی پاپ"*
2024 میں اچانک یاد آیا: "تھر میں تو کوئلہ ہے"
اب امپورٹڈ سے لوکل پر شفٹ کریں گے
واہ، 10 سال بعد عقل آئی
لیکن رکو — اس کے لیے چاہیے:
پلانٹ ترمیم: 1 ارب ڈالر = 300 ارب روپے
نئی ریلوے لائن 105 کلومیٹر: 58 ارب روپے
پیسہ کہاں سے؟ "ایک اور قرضہ لے لو"
یعنی پہلے امپورٹڈ کوئلے کے نام پر لوٹا
اب "لوکل شفٹنگ" کے نام پر پھر لوٹو
*نچوڑ — ن لیگ کا "ترقیاتی ماڈل":*
1. مہنگا پروجیکٹ لاؤ — کمیشن پکا
2. امپورٹ پر زور دو — ڈالر باہر، کمیشن اندر
3. کیپیسٹی چارج لگواؤ — چلے نہ چلے، اربوں پکے
4. کوئلہ مہنگا بیچو — پسندیدہ ٹھیکیدار خوش
5. انکوائری آئے — نیب ترمیم سے بند کروا دو
6. 10 سال بعد U-Turn لو — نئے ٹھیکے، نیا کمیشن
*قوم کو کیا ملا؟*
76 روپے یونٹ بجلی، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ
381 ارب سالانہ "ہوا میں" ادائیگی
اور TV پر نعرہ: "ہم نے موٹروے بنائی، ہم نے پلانٹ لگائے"
*سچ یہ ہے:*
پلانٹ نہیں لگائے، "ATM مشینیں" لگائی ہیں
جو 30 سال تک قوم کی جیب سے پیسے نکالتی رہیں گی
اور نام ہے "ترقی، تجربہ، کارکردگی"
#کول_پاور_کالا_دھندا #کیپیسٹی_چارج_کا_ڈاکہ
اللہ پاکستان کو اس فتنے سے بچائے۔ آمین
ایک کسان نے مُردہ سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا
تھوڑی ہی دیر بعد 70-80 چوہے اُس سور کی بدبو سے کھنچ کر کنویں میں کود پڑے۔ اُن کے لیے یہ آسان غذا تھی۔ اُنہوں نے مل کر سور کو کھا لیا۔
لیکن اصل مشکل تب شروع ہوئی جب کھانے کے بعد اُنہوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی — تب اُنہیں احساس ہوا کہ وہ اس کنویں میں پھنس چکے ہیں۔
دن گزرتے گئے، کھانا ختم ہوگیا، بھوک نے شدت پکڑی۔ چند ہی دنوں میں وہ کنواں جہنم بن گیا۔ زندہ رہنے کے لیے چوہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کیا اور پھر کھانا بھی۔
آہستہ آہستہ سب ختم ہوگئے۔
آدھے مہینے بعد اُس کنویں میں صرف ایک چوہا بچا تھا، جس کی آنکھیں خون کی طرح لال ہوچکی تھیں۔
اتنے میں کسان واپس آیا، اُس نے کنویں میں رسی ڈالی اور آخری چوہے کو باہر نکال کر کھیت میں چھوڑ دیا۔
اب سوال: کیا کسان کو اُس چوہے پر رحم آگیا تھا؟
حقیقت کچھ اور تھی۔
وہ چوہا مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ اپنی ہی جنس کو کھانے کا عادی ہوچکا تھا، اس لیے وہ اب اناج نہیں کھاتا تھا۔ کھیت میں جاتے ہی وہ پاگلوں کی طرح دوسرے چوہوں کا شکار کرنے لگا۔
اور یہی ہے اصل Divide Trap — جہاں اوپر بیٹھے لوگ خود کبھی نہیں لڑتے، بس ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ نیچے والے لوگ آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو ختم کردیں۔
سچ یہ ہے کہ بہت سے لوگ پوری زندگی دوسروں کو ہرانے میں لگا دیتے ہیں، لیکن اُنہیں کبھی سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود کسی اور کے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں۔
اس لیے کسی اور کے بنائے جال میں مت پھنسو — اور اگر کبھی پھنس بھی جاؤ تو لڑو مت، باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ کہانی کیا کہتی ہے؟
پچھلے ڈیڑھ سال میں پاکستان کا نظام تیزی سے زوال پذیر ہوا ہے:
· انفراسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے — سڑکیں، پل، اسپتال، سکول سب تباہ حال ہیں۔
· لسانیت (زبان پر بنیاد تعصب) اپنے عروج پر ہے — ایک دوسرے کو پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ، مہاجر کہہ کر کاٹا جا رہا ہے۔
· بنیادی اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ انسان صرف اپنی جلد کی فکر کرتا ہے۔ رو��ی، بجلی، گیس، دوائی — سب عوام کی پہنچ سے باہر۔
· معاشی، اخلاقی، خاندانی اور مذہبی حوالوں سے ماحول زہریلا ہو چکا ہے:
· معاشی طور پر مہنگائی نے انسان کو حیوان بنا دیا ہے۔
· اخلاقی طور پر جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور کرپشن عام ہو چکی ہے۔
· خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے — والدین کے ساتھ بے عزتی، بہن بھائیوں میں لالچ، رشتوں میں دوریاں۔
· مذہبی طور پر فرقہ واریت نے لوگوں کو آپس میں کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ ہر گروہ دوسرے کو کافر یا بدعتی قرار دیتا ہے۔
*نتیجہ:* آج پاکستان کا معاملہ بالکل اسی کنویں جیسا ہو چکا ہے، جہاں عوام ایک دوسرے کو نوچ کھا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی اصل دشمن (اوپر بیٹھے کرپٹ حکمرانوں، بیوروکریٹس، اور زمیندار جاگیرداروں) کو بھول کر اپنے ہی پڑوسی، اپنی ہی نسل، اپنے ہی مذہب کے لوگوں کو دشمن سمجھ لیا ہے۔
اور اوپر بیٹھے لوگ؟وہ آرام سے اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں، ہماری لڑائیوں پر ہنستے ہیں، اور نئے ’مردہ سور‘ پھینکنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حقیقی سبق:
· دوسروں کے بنائے ہوئے لسانی، فرقہ وارانہ، سیاسی جال میں مت پھنسو۔
· ��ب تم اپنے ہی بھائی کو کاٹو گے تو (بااثر طبقہ) خوش ہوگا۔
· لڑو مت — باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔ اتحاد کرو، اصل دشمن پہچانو۔
· ورنہ یہ کہانی حقیقت بن جائے گی: کنواں خالی، اور صرف ایک لال آنکھوں والا چوہا باقی — جو خود بھی پاگل ہو چکا ہے۔
یاددہانی یاددہانی یاددہانی
•عمران خان نے ملک کی نصف آبادی کا علاج صحت کارڈ سے تقریبا مفت کردیا
•تحریک انصاف نے پختونخواہ میں 350 منی ہائیڈل پراجیکٹ مکمل کیے
•عمران خان کے تین سال میں درآمدات میں سات آٹھ ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا
•یہ درآمدات نواز شریف کے سنہری دور میں بڑھ نا سکیں اب پانچ چ�� ارب ڈالرز گر چکی ہیں
•عمران خان کے دور میں طویل عرصے بعد دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے ڈیمز پر کام کا آغاز ہوا
•عمران خان نے ماحولیاتی آلودگی سے لڑنے کے لیے اربوں درخت لگائے
•عمران خان نے انتہائی غریب طبقات کے لیے پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنائے
•طویل عرصے بعد عمران خان نے ملک میں نئے شہر بسانے کا آغاز کیا ؛ راوی اربن پراجیکٹ
•عمران خان نے تین سال میں ساٹھ لاکھ کے قریب روزگار کے مواقع پیدا کیے
•عمران خان کے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھی جو فوجی قبضے کے بعد سے گر رہی ہے
•عمران خان کے دور میں نا ڈرون حملے ہوئے ، نا دہشتگردی نا فوجی آپریشن
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو آئی سی یو (ICU) تک پہنچانے والا اصل 'قاتل' کون ہے؟
وہ ہیں 90 نجی بجلی گھر (IPPs)۔
ان کے مالکان اور معاہدوں کی لرزہ خیز تفصیلات جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے. ان خون آشام اداروں کی ملکیت کا بٹوارہ کچھ یوں ہے
شریف خاندان و ن لیگی رہنما: 44%
زرداری و پی پی پی رہنما: 24%
اسٹیبلشمنٹ: 10%
یعنی 78% حصہ صرف ان تین طاقتور گروپس کے پاس ہے۔
باقی 16% چینی و عرب سرمایہ کار اور 6% دیگر کے پاس ہے اور اس پرظلم کی انتہا دیکھیے
یہ بجلی گھر پاکستان کی ضرورت سے 125% زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دکھا کر لگائے گئے،
مگر حقیقت میں صرف 48% بجلی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن عوام سے قیمت پورے 125% کی وصول کی جا رہی ہے
اسی لوٹ مار کا نتیجہ ہے کہ پچھلے 5 سال میں عوام کی جیب سے 6 ہزار ارب نکلوانے کے باوجود یہ ملک آج بھی ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہی وہ 90 لوگ ہیں جو ملک کی شوگر، سٹیل، سیمنٹ اور گاڑیوں کی صنعت پر بھی قابض ہیں۔ یہ ہے وہ نظام ج�� پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
منقول
میڈیکل انڈسٹری کے وہ 4 بڑے جھوٹ جو آپ کو کبھی نہیں بتائے جاتے!
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری صحت کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں مشہور کر دی گئی ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک واسطہ نہیں؟ آج ہم ان چار بڑے مغالطوں سے پردہ اٹھائیں گے جو شاید آپ کی زندگی بدل دیں۔ چوتھی بات تو آپ کو واقعی حیران کر دے گی!
1. ڈاکٹرز کا کام بیماری مٹانا ہے؟
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید طب (Medicine) کی تعلیم زیادہ تر بیماری کو "مینیج" کرنے یا علامات کو دبانے کے گرد گھومتی ہے، اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے نہیں۔ یہ بات خود کئی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ ادویات اکثر صرف وقت گزارنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
2. کیا پرانی بیماریاں کبھی ختم نہیں ہوتیں؟
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک بار شوگر یا بلڈ پریشر ہو گیا تو یہ کبھی پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ذرا سوچیے! جب ہماری سخت ہڈی ٹوٹتی ہے، تو جسم اسے خود ہی جوڑ لیتا ہے، ہم صرف اسے سہارا دیتے ہیں۔ تو کیا وہی جسم اندرونی بیماریوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا؟ یاد رکھیں، 90 فیصد بیماریو�� کی جڑ جسم میں رکی ہوئی گندگی (Toxins) ہے، جسے درست غذا اور وقت دے کر صاف کیا جا سکتا ہے۔
3. دوا کھاؤ اور شفایاب ہو جاؤ؟
یہ ایک بہت بڑا وہم ہے۔ کسی بھی گولی میں کوئی "انٹیلیجنس" یا سینسر نہیں ہوتا کہ وہ صرف بیمار حصے پر اثر کر��۔ جب ہم دوا کھاتے ہیں، تو وہ ہمارے جسم کے مفید بیکٹیریا کو بھی مار دیتی ہے۔ نتیجہ؟ ایک بیماری دبتی ہے تو دس نئی پیدا ہو جاتی ہیں اور انسان ادویات کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس جاتا ہے۔
4. کیا بیماریاں واقعی وراثتی (Genetic) ہوتی ہیں؟
سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ اگر آپ کے والدین کو کوئی بیماری تھی تو وہ آپ کو لازمی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ جینز کا اثر صرف 20 سے 30 فیصد ہوتا ہے، اور آپ اپنے طرزِ زندگی سے انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اصل میں بیماریاں وراثتی نہیں ہوتیں، بلکہ "باورچی خانہ" وراثتی ہوتا ہے۔ اگر آپ وہی کچھ کھا رہے ہیں جو آپ کے والدین کھاتے تھے، تو ظاہر ہے بیماریاں بھی وہی ہوں گی!
یاد رکھیں: آپ کا جسم دنیا کی بہترین لیبارٹری ہے، اسے صرف صحیح ایندھن (غذا) اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔۔
اسرائیل میں قید 11000 فلسطینیوں کو 90 دن میں پھانسی دینے کا بل پاس ہونے پر پاکستان اور عرب حکمران گونگے ہو گئے ۔ جماعت اسلامی ' فضل الرحمان سمیت مذہبی علمبرداروں کی زبانوں کو لقوہ مار گیا
اس پر بھارتی اینکر روبیکا لیاقت نے وہ بولا کہ دل چیر کر رکھ دیا
ڈوب مرو بے شرمو
مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی اصل وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان ٹائم کا فرق ہے ۔ جب ٹرمپ دھمکیاں دیتا ہے تو ایرانی سو رہے ہوتے ہیں اور جب وہ اٹھ کر ان دھمکیوں کا جواب دیتے ہیں اس وقت ٹرمپ سورہا ہوتا ہے ۔۔
اس چکر میں ہمارے والے جگراتے کاٹ کاٹ کر پاگل ہوچکے ہیں آبناۓ ہرمز کھولتے ہیں تو پنڈی اسلام آباد بند کرنا پڑتا ہے
پنڈی اسلام آباد کھولتے ہیں تو آبناۓ ہرمز بند ہو جاتا ہے
اِسی چکر میں پنڈی اسلام آباد کُھلتے بند ہوتے پاکستانیوں کا بیڑہ تقریباََ غرق ہو چکا ہے
ایک بھائ کا کمنٹ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فوری ریلیف کا پروگرام ہے، اسلئے جاری رہنا چاہئے
جواب: ہم پندرہ سال سے 5000 ارب سے فوری ریلیف پر خرچ کر چکے ہیں، کیا حاصل کیا؟
چلیں آپ کو سمجھتا ہوں کہ فوری ریلیف کیا ہوتا ہے؟ بنگلہ دیش کے ڈاکٹر یونس کا پروگرام پڑھیں، کبھی ایک روپیہ بھی کسی کو فوری ریلیف کیلئے نہیں دیا، لیکن ایک کروڑ لوگوں کو قرض دیکر، کاروبار اور سکل ڈویلپمنٹ پر راہنمائی دیکر اپنے پیروں پر کھڑا کیا، اس پروگرام کو دُنیا بھر نے کاپی کیا، اس پروگرام میں 95 فیصد عورتوں نے فائدہ اُٹھایا
اگر آپ ایک بھوکے شخص کو روازنہ مچھلی دیں گے وہ کبھی زندگی میں مچھلی پکڑنا نہیں سیکھے گا، لیکن اگر آپ اُسے مچھلی پکڑنا سکھائیں گے اور مچھلی پکڑنے کے اوزار لیکر دیں گے تو وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاۓ گا اور کبھی بھیک کا انتظار نہیں کرے گا،
بینظیر انکم پروگرام ایک غریب آدمی کو بھکاری بنانے کا زندگی بھر کا فارمولہ ہے
وہ امارات جس نے حد سے بڑھ کر کھیلا
بیس سال کی چال کیسے الٹی پڑی — اور پاکستان کے لیے سنہری موقع
متحدہ عرب امارات نے چند دہائیوں میں ریت کے ٹیلوں پر ایک چمکتا ہوا شہر کھڑا کر دیا۔ دبئی آج دنیا کا مالیاتی مرکز ہے، لیکن اس چ��ک کے پیچھے ایک سوچی سمجھی چال بھی ہے جو اب آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہے۔
پاکستان کے ساتھ امارات کا رویہ کبھی بھی خالص دوستی پر مبنی نہیں رہا۔ یہ ایک حساب کتاب تھا — پاکستان کو مالی طور پر کمزور رکھو، اس کی بندرگاہیں ناکارہ رکھو، اور دبئی کو خطے کا واحد تجارتی مرکز بنائے رکھو۔ یہ کھیل دو عشروں تک چلتا رہا۔ اب وقت نے پلٹا کھایا ہے۔
قرض کا ہتھیار
امارات نے پاکستان کے مرکزی بینک میں اربوں ڈالر جمع رکھے۔ یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کا اہم حصہ تھی۔ جب بھی اسلام آباد کو قرض کی مہلت چاہیے ہوئی، ابوظہبی کی خوشنودی لازم تھی۔ اس سال جب پاکستان نے شرح سود کم کرانے اور مدت بڑھانے کی درخواست کی تو امارات نے انکار کر دیا اور ساڑھے ت��ن ارب ڈالر واپس مانگ لیے۔
یہ محض مالی معاملہ نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔
کراچی کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا
2008 سے 2015 تک کراچی آگ اور خون میں ڈوبا رہا۔ ہر سال ہزاروں افراد ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی نذر ہوئے۔ بندرگاہ کے قریب کاروبار ناممکن ہو گیا۔ سرمایہ کار بھاگ گئے۔
پاکستانی انٹیلی جنس کی تحقیقات بار بار یہ نتیجہ نکالتی رہیں کہ اس تشدد کی مالی رگیں دبئی سے جڑی تھیں۔ وجہ سیدھی تھی — کراچی کی بندرگاہ اگر ترقی کرے تو دبئی کو چیلنج کرے۔ اسے کبھی ترقی نہ کرنے دو۔
بلوچستان میں گوادر کے خلاف بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ علیحدگی پسند تنظیموں کو خلیجی نیٹ ورکس سے مالی مدد ملتی رہی تاکہ چین کی مدد سے بننے والی گوادر بندرگاہ کبھی فعال نہ ہو سکے۔
دو بندرگاہیں، دو طریقے، ایک مقصد — دبئی کی بالادستی قائم رکھنا۔
اسرائیل سے دوستی اور اس کی قیمت
2020 میں امارات نے اسرائیل سے تعلقات قائم کر لیے۔ اس وقت یہ چال بہت ہوشیارانہ لگی — اسرائیلی ٹیکنالوجی، امریکی سرپرستی اور مغربی سیاسی اثرورسوخ ایک ساتھ مل گئے۔
لیکن اس کا دوسرا رخ بھی تھا۔ پاکستان، مصر، اندونیشیا، ترکی — پوری اسلامی دنیا کی عوام نے اسے غزہ کے ساتھ دھوکہ سمجھا۔ جب تک معاملہ سفارتی کاغذات تک محدود تھا، اسے قابو میں رکھا جا سکتا تھا۔ لیکن جب فروری 2026 میں ایران نے آپریشن ایپک فیوری شروع کیا اور امارات کا اسرائیل نواز کردار سب کے سامنے آ گیا، تو اسلامی دنیا میں امارات کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
آپریشن ایپک فیوری — سب کچھ ایک ساتھ ٹوٹا
ایران کے اس آپریشن نے امارات کی بیس سالہ حکمت عملی کے تمام ستون ایک ساتھ ہلا دیے۔
دبئی کی اصل طاقت امن اور استحکام کا تصور تھا۔ خلیج میں جنگ نے یہ تصور توڑ دیا۔ جہازرانی مہنگی ہو گئی۔ امیر لوگ سنگاپور اور لندن کی طرف دیکھنے لگے۔ اسرائیل کے ساتھ اتحاد جو کل فائدہ مند لگتا تھا آج اسلامی دنیا میں بوجھ بن گیا۔
سعودی عرب نے فوری طور پر موقع بھانپا۔ جب پاکستان کو امارات کے پیسے واپس کرنے پڑے تو ریاض اور دوحہ نے پانچ ارب ڈالر کی یقین دہانی کرا دی۔ یہ محض مالی مدد نہیں تھی — یہ خلیج میں طاقت کا نیا توازن تھا۔
کراچی کی واپسی
جنرل راحیل شریف کے رینجرز آپریشن نے 2013 میں وہ ڈھانچہ توڑا جس نے کراچی کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ ٹارگٹ کلنگ ہزاروں سے سو سے بھی کم ہو گئی۔ بھتہ خوری ختم ہوئی۔ کاروبار لوٹا۔ بندرگاہ کی تجارت بحال ہونے لگی۔
آج پاکستان تین بندرگاہوں کی بیک وقت ترقی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ کراچی جو دبائی گئی تھی اب بحال ہو رہی ہے۔ گوادر جو چینی سرمایہ کاری سے مضبوط ہے آگے بڑھ رہی ہے۔ پورٹ قاسم صنعتی ترقی میں وسعت پا رہی ہے۔
وہ تینوں بندرگاہیں جن کو امارات نے دبائے رکھا، اب بیک وقت جاگ رہی ہیں۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہیے
تاریخ میں موقع دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتا — بس گزر جاتا ہے۔
گوادر کو قومی سلامتی کی ترجیح دی جائے — جیسے کبھی ایٹمی پروگرام کو دی گئی تھی۔ چینی سرمایہ کاری موجود ہے، سعودی ریفائنری کا وعدہ ہے، وسطی ایشیائی ممالک منتظر ہیں — صرف عزم اور تسلسل چاہیے۔
کراچی کی بحالی کو مستقل بنایا جائے۔ وہ مالیاتی نیٹ ورک جنہوں نے شہر کو دہائیوں تباہ رکھا، انہیں دوبارہ فعال نہ ہونے دیا جائے۔
سعودی عرب اور قطر کے ساتھ تعلقات گہرے کیے جائیں — لیکن ہوشیاری کے ساتھ۔ ایک سرپرست کی جگہ دوسرا سرپرست نہ آئے۔ اصل ہدف ہر قسم کے یکطرفہ انحصار سے آزادی ہے۔
اور سب سے اہم — پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ جب پوری مسلم امہ دیکھ رہی ہے کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، یہ مقام ایک بہت بڑا سفارتی اثاثہ ہے۔ اسے ضائع نہ کیا جائے۔
آخری بات — جغرافیہ ہمیشہ جیتتا ہے
منقول
#Pakistan #maritime
🚨🚨🚨بے حس قوم 🚨🚨🚨
موٹر سائیکل کی ٹینکی زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر کی ہوتی ہے اور عام 1300cc کار کی ٹینکی زیادہ سے زیادہ 50لٹر کی ہوتی ہے
ساری ساری رات لائن میں لگ کر ملک بھر سے لاکھوں لوگوں نے موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کروا کر 550روپے اور گاڑی کی ٹینکی فل کروا کر 2500روپے کی بچت کی
یہ پٹرول کتنے دن چلا لو گے چار دن ایک ہفتہ بس اور پھر اس کے بعد پھر مہنگا پٹرول ہی ڈلواؤ گے نا
اس کی بجائے اگر پٹرول مہنگا ہونے پر یہی لاکھوں لوگ صرف ایک بار تمام روڈ جام کر دیں اور واپس سستا ہونے تک نہ کھولیں تو 24 گھنٹوں میں قیمتیں واپس آ جائیں
لیکن افسوس صد افسوس یہ بات سمجھاتا سمجھتا عمران خان اڑھائی سے جیل میں پڑا ہؤا ہے کہ میں تو برداشت کرلوں گا آپ نہیں کر سکو گے آج بھی یہ قوم لاکھوں کی تعداد میں نکلتی ہے تو پٹرول ڈلوانے نہ کہ پٹرول سستا کروانے
چاندی کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے
سونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ اُس کی طلب بہت زیادہ ہے مگر ایک سال سے چاندی سمیت ہر دھات کی قیمت بڑھنے کی پیشگوئیاں ماہر فلکیات بھی کررہے تھے، کہ دنیا میں مالیاتی نظام اور معاشی پالیسیوں میں کچھ ایسی تبدیلیاں ہونے جارہی ہیں کہ سونا چاندی نہیں عام لوگوں کی طرح پہنچ سے باہر ہوجائے گا.
اب دنیاوی یا مادی وجوہات دیکھتے ہیں ۔
کسی بھی چیز کی قیمت تب بڑھتی ہے جب اُس کی مانگ میں بڑھ جاتی ہے۔ اب مانگ یعنی ڈیمانڈ کیوں بڑھی ہے چاندی کی اُس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تو چاندی صرف زیورات میں استعمال ہوتی تھی، سکوں میں، تعویز وغیرہ میں، تھوڑا سا حصہ سرمایہ کاری کا شامل ہوتا تھا اور تھوڑا بہت صنعتوں میں استعمال ہوتا تھا۔ اب وقت کیساتھ کیا تبدیلیاں آئی ہیں
ہوا یہ ہے کہ چاندی کے اب نئے نئے استعمال نکل کر سامنے آرہے ہیں۔ یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ چاندی بجلی کا اچھا موصل ہے یعنی چاندی میں بجلی کیلئے رُکاوٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔اب جب سے دنیا میں الیکٹرک گاڑیاں بننا شروع ہوئی ہیں تو اُس کی ہر بیٹری میں ایک کلو چاندی لگ رہی ہے یہ چاندی کی قیمتیں بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
دوسرا سولر پینلز میں بھی چاندی لگنے لگ گئی ہے۔ اس وقت آپ جو موبائل، آئی پیڈ، لیپ ٹاپ استعمال کررہے ہیں اِن سب میں بھی تھوڑی تھوڑی چاندی لگی ہوتی ہے۔
ان سب کے مقابلے میں چاندی کو حاصل کرنے کے زرائع جو ��یں وہ محدود ہیں کیونکہ چاندی تب ملتی ہے جب مختلف دھاتوں کو مائن کرتے ہیں تو اُس میں سے تھوڑی تھوڑی چاندی نکلتی ہے اور کم ہی معلوم ہے کہ چاندی کے زرائع کہاں کہاں ہیں۔
سب بڑی چاندی کی مائن میکسکو میں ہے جہاں مختلف دھاتوں سے جتنی چاندی نکلنی ہے وہ آنے والے دوسالوں کیلئے سامسنگ نے ایڈوانس پیسے دیکر پابند کر دیا ہے کہ وہاں سے جو چاندی نکلی وہ صرف سامسنگ ہی لے سکے گا۔
اس طرح بیٹریوں کی بھرمار ��ی وجہ سے چاندی کا صنعتی استعمال بہت زیادہ بڑھ چکاہے جبکہ اس کے وسائل محدود ہیں اسلئے چاندی کی قیمت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے اور ابھی اگلے ایک ڈیڑھ سال مزید بڑھنی ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موبائل یا بیٹری تو 2026 میں بننا شروع نہیں ہوئے یہ تو 2000 کی کہانی ہے ۔۔
ٹیکنالوجی میں وقت کیساتھ بدلاو آیا ہے اور بیٹری کی مدت بڑھانے کیلئے چاندی استعمال ہونا شروع ہوئی ہے
بہترین زندگی گزارنے کے لئے 35 سال کی عمر سے پہلے کے اہداف:
1. کم از کم تین آمدنی کے ذرائع بنائیں (نوکری، سرمایہ کاری، سائیڈ ہسل)۔
2. اتنی بچت اور سرمایہ کاری کریں کہ 6 سے 12 ماہ کے اخراجات آرام سے پورے ہو سکیں۔
3. زیادہ سود والے قرضوں سے مکمل نجات حاصل کریں، خاص طور پر کریڈٹ کارڈ کے قرض سے۔
4. پیسے، ٹیکس اور سرمایہ کاری کے نظام کو حقیقت میں سمجھیں، صرف سنیں نہیں بلکہ سیکھیں۔
5. ایسے لوگوں کا مضبوط نیٹ ورک بنائیں جو آپ سے بہتر ہوں، رہنمائی کرنے والے اور ہم خیال افراد۔
6. جسمانی صحت کو ترجیح دیں: ورزش، اچھی نیند اور باقاعدہ طبی معائنہ۔
7. ایک ایسی ہائی اِنکم اسکل میں مہارت حاصل کریں جو آپ کسی بھی وقت پیسہ کمانے کے لیے استعمال کر سکیں۔
8. نئی جگہوں کا سفر کریں تاکہ سوچ وسیع ہو اور زندگی کے تجربات بڑھیں۔
9. روز��نہ نظم و ضبط پیدا کریں: جلدی اٹھنا، اہداف طے کرنا اور مستقل مزاجی سے عمل کرنا۔
👇😍 !! Love love love THIS
آپ ہر نماز میں التحیات پڑھتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آیا؟
اور ایک بار جب آپ کو معلوم ہو گیا تو
آپ کی نماز میں خشوع و خضوع بہت بڑھ جاۓ گا انشاءﷲ۔
اس لمحے کا تصور کریں۔ خالق کائنات کے سامنے کھڑا ہونا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے السلام علیکم نہیں کہا۔ کیونکہ آپ اللہ کو سلامتی کی دعا نہیں دے سکتے، کیونکہ اللّه تو بذات خود سلامتی کا سرچشمہ ہے۔
اس کے بجائے، آپﷺ نے فرمایا:
"التحیات لللّٰہ وَ صّلوٰۃ والطیّبات"
"تمام سلام اور تمام دعائیں اور سب کچھ خالص صرف "اللہ" ہی کے لیے ہے"
اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا،
"السَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّہاَ النبّیُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَكَاتُهُ"
"اے نبیﷺ۔۔ آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں"
خالق کی طرف سے اس کے رسولﷺ کو براہ راست سلام۔ لیکن آپ ﷺ کا خلوص دیکھیے۔ اللّه کی بارگاہ میں بھی آپﷺ نے ہمیں یاد رکھا۔ ہمیں یعنی اپنی امت کو نہیں بھول . اور فرمایا،
"السّلام علینا و علٰی عبادِ اللہِ الصّال��ین۔"
"سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر"
(یعنی ہم سب پر سلامتی بھیجی۔ اور ہر نیک بندے پر۔ آپ اور مجھ سمیت۔ اللّه ہمیں صالحین میں شامل ہونے کی توفیق دے۔ آمین)
آپﷺ نے اپنی پوری امت کو اس لازوال لمحے میں کھینچ لیا۔ جب آپ یہ کہتے ہیں، تو آپ سب سے اونچے آسمانوں پر دستخط شدہ امن معاہدے کا حصہ ہیں۔
اس قیمتی تبادلے کا مشاہدہ کرتے ہوئے، آسمانی فرشتے یک زباں ہو کر بولے۔
"اشھد اللہ الٰہ الاّ اللہ و اَشھدُ انَّ محمّداً عَبدُہُ و رسولُہُ"
فرشتوں نے گواہی دی:
"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اور محمدﷺ اللّه کے بندے اور رسول ہیں"
یہی وجہ ہے کہ التحیات کا خاتمہ شہادت پر ہوتا ہے۔
کیونکہ صلاۃ صرف مشق نہیں ہے۔
اس کی گواہی آسمانوں پر دی گئی ہے۔
جب بھی آپ نماز میں بیٹھتے ہیں.
آپ اس لمحے کی بازگشت کر رہے ہیں۔
ایک قیمتی مکالمے میں دوبارہ داخل ہونا جو اللّه اور اس کے رسولﷺ کے درمیان تھا اور اس مکالمے کا خوبصورت اختتام فرشتوں کے متحد ہو کر شہادت کی خوبصورت صدا بل��د کر کے ہوا۔
(یاد رکھیے۔ نماز ہے ہی دعا۔ اللّه اور اس کی مخلوق کا خوبصورت تعلق جوڑنے کا لازوال ذریعہ۔ اس کو سمجھ کر پڑھا جاۓ تو انسان عبادت کی لذت محسوس کرتا ہے۔ اللّه سے یقین سے مانگیں۔ اپنی دعا کی قبولیت پر %100 یقین رکھ کر مانگیں۔
ہر وقت اللّه کی موجودگی کا احساس مضبوط رکھیں۔ وہ ہر وقت، ہر جگہ ہے۔ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ نہ آپ کی تکلیف، نہ آپ کا تقوٰی، نہ آپ کی خلوص دل سے مانگی گئی دعا۔
وہ دعاؤں کا سننے اور قبول کرنے والا ہے۔ وہ کہتا ہے مجھ سے مانگو۔ وہ عطاء کرتا نہیں تھکتا۔ تم مانگنے میں کیوں کوتاہی کرتے ہو؟ اس سے مانگو۔ وہی عطاء کرے گا۔ یقین رکھو۔ اس کی رحمت ��ہت قریب ہے۔
اللّه ہمیں اپنے خاص لوگوں میں شامل کر لے جن سے وہ راضی ہو اور رسولﷺ کو ان کے اپنے امتی ہونے پر روز محشر خوشی ہو اور آپﷺ اللّه کے آگے سرخرو ہوں کہ اس امت کی بخشش کے لئے میں نے رو رو کر اللّه سے دعائیں مانگی تھیں۔ میری امت نے میرا مان رکھ لیا اور اللّه کا راستہ چن لیا)
صحیح البخاری
حدیث نمبر۔ 831، 835
مسلم، حدیث نمبر: 402–403
التحیات کے الفاظ اور صلاۃ میں اس کے مقام کی تصدیق اسی روایت کے ساتھ کرتا ہے۔
فتح الباری (تفسیر صحیح البخاری)
ابن حجر نے التحیات کے الفاظ کی وضاحت کی ہے۔
شرح صحیح مسلم از امام نووی