جب قرض مانگ کر یا مہنگی بجلی گیس سے عوام کو لوٹ کر ملک چلانا تو یہ جو لاکھوں کی تعداد میں افسر شاہی بھرتی کر رکھی اسے گھر بھیج دیں مفت کے لیترے پال رکھے ان کی کارکردگی تو صفر ہے
پنجاب میں ایک مشیر کے دفتر کی شان و شوکت دیکھایی دو دن سے نون لیگ کے عہدے دار مجھے گالیاں دے رہے ہیں کیا یہ سب ٹھاٹ باٹھ ذاتی پیسوں سے کر رہے جو سوال نہی ہو سکتا ؟
پچھلے الیکشن میں نون کے بڑے بڑے لیڈر ہارے سعد رفیق ہارے خرم دستگیر ہارے رانا ثنا ہارے جاوید لطیف ہارے طلال چوہدری ہارے یہ وہ لیڈران تھے جو آمریت میں بھی جیت جاتے تھے ابھی تو یہ اس حال میں تھا کہ فوج آپ کے ساتھ تھی عمران جیل میں تھا ان کے پاس الیکشن سمبل نہی تھا ان کی لیڈرشپ مفرور تھی اگلے الیکشن میں تو ان سب وزیروں کی ضمانتیں ضبط ہونی جو لائن میں لگے عوام کو مہنگے پیٹرول کے فضائل بتا رہے
جب عوامی نفرت بڑھ جائے تو فوج بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے وہ یہ بوجھ برداشت نہی کرتی ہے
ہمیں کہہ رہے پیٹرول قیمت پر تنقید اور عوام کے حق میں بات کر کے آپ کی “وقعت” نہی رہے گی
ویسے جن وزیروں حکومتی عہدیداروں نے پیٹرول کے حق میں پوسٹیں کیں ان کئ عوام میں “وقعت “ آپ کمنٹ میں دیکھ لیں ابھی تو یہ طاقت میں تو اتنے جوتے عوام مار رہی حکومت سے نکلیں گے تو کیا حا�� ہو گا وقعت کا ؟
سیف اعوان پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ صاحبہ کے ساتھ کام کرتا ہے شاید وزارت اطلاعات کا کنسلٹنٹ ہے یا ایڈوائزر وغیرہ ہے ان کو تو مفت گاڑیاں اور فون تک ��ل جاتے ہیں اگر جیب سے پیٹرول ��لواتے تو یقین کیججے ایسی ٹویٹ نا کرتے جہاں یہ بیٹھے وہاں تو لاکھ کا لیٹر بھی پیٹرول سستا لگے گا کیونکہ اربوں والی آسامیاں ہیں پیٹرول کی تکلیف اس عام بندے کو جو پہلے ہی فاقوں کے قریب ہے
عوام کو پیٹرول سے زیادہ غصہ ایسی چولوں پر ہے
گذشتہ چند گھنٹوں میں جس نے بھی سوشل میڈیا پر پاک فوج کی حمائت میں بات کی اس کی پوسٹ کے نیچے اسے تین طرفہ گالیاں پڑیں۔ افغانیوں، یوتھیوں اور بھارتیوں نے کسریں نکال دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاک فوج کی حمائت کے دعویدار ایوارڈ یافتہ کہاں تھے؟
🫤
جب بجلی بلوں پر ہم ٹرینڈ چلا رہے تھے اس نے کافی گاکےاان دی تھیں اس کے بعد مرکز والے آفیشل سرکاری راتب خور گروپ نے اسے سر پر اٹھا لیا وزیر اطلاعات تارڑ صاحب اس کے گھر بھی تشریف لے گے تھے اس کے خلاف سرکاری ٹرینڈ کیوں نہی چلا رہے یا پھر یہ گالیاں کہیں سے فرمائشی ہیں ؟
پی پی اور پی ٹی آئئ کی مفاہمت ایک دن نہی چلی اب پھڈا یہ پڑ گیا کہ پی پی کہہ رہی باغ جناح کے اندر جلسہ کرو جبکہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہم سڑک پر جلسہ کریں گے جلد ہی بات گالم گلوچ گریبان تک پہنچنے گئ
چلے تھے مفاہمت کے بادشاہ بننے اب دیکھاو رواداری وضعداری وغیرہ وغیرہ
دیکھیں جناب آصف علی زرداری کو ایوان صدر میں اس لئے بیٹھنا تھا کہ جو مقدمات ان کے خلاف پاکستان کے اندر اور عالی سطح پر زیر سماعت ہیں، یا مستقبل میں ہونے ہیں، ان سے بچنے اور بچے رہنے کی واحد صورت، ایوان صدر میں بیٹھنا تھا، تا کہ بطور صدر ان کو استثنی حاصل رہے۔ اب جب کہ ستائیسویں ترمیم میں انہیں استثنی مل گیا ہے تو بہتر ہے کہ ایوان صدر کو کسی بہتر کام کے لئے استعمال کر لیا جائے۔ ویسے بھی انہیں اگر اسلام آباد رہنے کا شوق ہے تو ملک ریاض انہیں لاہور کی طرح بہت خوبصورت اور قیمتی گھر بنا کر دے گیا ہوا ہے۔ اس میں رہا جا سکتا ہے۔
صبح بخیر
جناب سب پر بھاری صاحب نے پنجاب میں پی ٹی آئی کے لانچنگ منصوبے کی حمائت و مدد اس لئے کی تھی کہ اس طور پنجاب میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑے گی اور نتیجے میں پیپلزپارٹی کو واپسی کا موقع مل جائے گا، تا ہم پی ٹی آئی ظہر آجڑی کے ہاتھوں میں آتے ہی اس کی بجائے پوری پپلز پارٹی کو ہی کھا گئی۔ میں سعید غنی کی طرف سے استقبال دیکھ کے یاد آیا۔
مرسوں مرسوں ووٹ نہ ڈیسوں
😂😂😂