پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا اربابِ اختیار کے نام کھلا خط!
صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان ایم بی سومرو کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے کارکنوں کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پی آر اے پاکستان اظہارِ تشویش کرتی ہے۔ خط میں وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات وصوبائی وزراء اطلاعات، چیئرپرسن پیمرا، اعلیٰ عدلیہ، پارلیمانی کمیٹیوں اور ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کی گیا ہے۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے پاکستان) نے الیکٹرانک میڈیا سے صحافیوں اور دیگر کارکنوں کی برطرفیوں اور تین تین ماہ تک تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کی سخت مذمت کی ہے۔
پی آر اے پاکستان مسلسل کئی ماہ تک تنخواہیں ادا نہ کرنے اور بغیر نوٹس کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کرنے کے عمل کو ورکر دشمن، انتہائی سفاکانہ اور کارکنوں کے معاشی استحصال کے مترادف قرار دیتی ہے۔ ٹی وی چینلز کی جانب سے برطرفیوں اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی میں غفلت کارکنوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
پی آر اے پاکستان کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق *آج نیوز* نے اپنے صحافیوں اور دیگر کارکنوں کو گزشتہ تین ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کیں، جبکہ بعض ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی۔ مزید برآں، دو روز قبل آج نیوز نے اسلام آباد، لاہور، پشاور اور کراچی کے ڈیسک سے کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کیا اور ڈیسک بند کر دیے۔
اسی طرح *نیو نیوز* اور ایک نیوز نے اسلام آباد میں اپنے صحافیوں اور کارکنوں کو تین تین ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کیں، جبکہ *بول نیوز، 365 نیوز اور کیپیٹل ٹی وی* کے کارکنوں کو دو دو ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی اطلاعات ہیں۔ *سنو نیوز* نے بھی اسلام آباد میں اپنے کارکنوں کو دو ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کیں۔
*سنو نیوز* نے چند ماہ قبل بھی بڑے پیمانے پر کارکنوں کو بے روزگار کیا تھا، جس کے خلاف پی آر اے پاکستان نے واک آؤٹ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محترم عطا اللہ تارڑ نے سنو نیوز کے اشتہارات بند کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم افسوس ناک طور پر یہ پابندی 24 گھنٹے سے زیادہ برقرار نہ رہ سکی۔ اشتہارات کی بندش کے بعد سنو نیوز انتظامیہ کی وزیر اطلاعات سے ملاقات اور کیے گئے وعدوں پر بھی تاحال عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
اسی طرح *نیوز ون، پبلک نیوز اور چینل فائیو* کی جانب سے بھی کارکنوں کو ایک ایک ماہ کی تنخواہ ادا نہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ *ابتک نیوز* کے متعدد کارکنوں کو اگست اور ستمبر کی مکمل تنخواہیں تاحال ادا نہیں کی گئیں۔
پی آر اے پاکستان کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ *ڈان نیوز* نے اسلام آباد میں کام کرنے والے اپنے رپورٹرز اور دیگر کارکنوں کو ستمبر کی مکمل تنخواہ ادا نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق نصف تنخواہ ادا کی گئی ہے، جبکہ باقی رقم بعد میں ادا کی جائے گی۔
*ایکسپریس نیوز، 24 نیوز اور 92 نیوز* جیسے ادارے اپنے کارکنوں کو باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہیں ادا کرتے رہے ہیں، تاہم اب بعض ملازمین کو مہینہ مکمل ہونے کے بعد پہلے ہفتے اور بعض کو دوسرے ہفتے کے بعد تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔ پی آر اے پاکستان ان اداروں کی انتظامیہ سے انتہائی احترام کے ساتھ اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی اچھی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے ماہانہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں اور مہینہ مکمل ہونے کے بعد کم از کم پہلے ہفتے میں تمام کارکنوں کو مکمل تنخواہیں ادا کریں۔
پی آر اے پاکستان وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ سے مطالبہ کرتی ہے کہ ٹی وی چینلز سے کارکنوں کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سخت نوٹس لیا جائے اور صحافیوں سمیت تمام میڈیا ورکرز کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
پی آر اے پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان اور آئینی عدالت کے سربراہ سے بھی درخواست کرتی ہے کہ ٹی وی چینلز اور اخبارات سے صحافیوں اور دیگر کارکنوں کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے کا نوٹس لیا جائے تاکہ اس مسلسل ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
پی آر اے پاکستان استدعا کرتی ہے کہ ٹی وی چینلز کے مالکان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے اسلام آباد میں قائم ان کے دفاتر میں کام کرنے والے صحافیوں، کیمرہ مینوں اور دیگر کارکنوں کی تفصیلات حاصل کی جائیں۔ عدالت خود جائزہ لے کہ مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے اسلام آباد میں مقرر کردہ عملہ وفاقی دارالحکومت کی اہم بیٹس کی مؤثر کوریج کے لیے کافی ہے یا نہیں۔
1/2
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا
(ﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو:
"اے میرے رب! (میرے) ان دونوں (والدین ) پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔"
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
لگا دیں مارشل لاء!
لگانا ہے تو لگا دیں، مجھے کیا ڈرا رہے ہیں؟
گورنر راج کی دھمکیاں ہمیں دے رہے ہیں؟
تمھیں چیلنج کرتا ہوں، لگا کے دکھاؤ گورنر راج۔
میں چیلنج کرتا ہوں، لگاؤ۔
کہ گورنر راج لگا دیں گے، ایمرجنسی نافذ کر دیں گے۔
میں دوبارہ کہتا ہوں، ہمت پکڑو، لگا کر تو دیکھو۔
لگاؤ پھر، ہمت ہے تو لگا دو گورنر راج۔
لانگ مارچ کے حوالے سے بات کرنے والوں کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے، میڈیا بات کرتا ہے تو اس پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، لیکن یہ کچھ نہیں کر پائیں گے ایک کال پر پورا پاکستان نکل آیا ہم کیا مانگ رہے ہیں؟ صرف یہی کہ اس ملک میں رول آف لا ہو، عدلیہ آزاد ہو، خان صاحب کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے۔
انصاف لائرز فورم کراچی کے جنرل سیکرٹری بیریسٹر شعیب کھٹیان کا ویڈیو پیغام