کسی مسلمان کو ہم معاف نہیں کریں گے جس کے ہاتھ میں کچھ تھا پھر بھی اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا ۔۔فلسطین کے صحافی غزہ کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پربات کرتے رو پڑے ۔۔
یہ ضرور پڑھیں 🥺
ایران کی وہ جنگ حکمت عملی اب سامنے آ گئی ہے جس نے رات گئے پوری دنیا کو ششدر کر دیا تھا۔
اسرائیل کے پہلے جان لیوا حملے کے بعد ایران مفلوج ہو چکا تھا۔ وہ وقت بھی آیا کہ جب تہران کے آسمان پر خوف کے سائے منڈلا رہے تھے۔ اسرائیلی ڈرونز اور کروز میزائلوں نے ایران کے خوابوں کو ملبے میں بدل دیا تھا۔
پورے ملک کا ایئر ڈیفنس سسٹم جا�� ہو چکا تھا ، نہ کوئی سگنل آ رہا تھا، نہ کوئی کمانڈ جا رہی تھی۔ ایران کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے میزائل لانچنگ بیسز مٹی میں ملا دیے گئے تھے اور وہ فوجی قیادت جو مربوط جنگی حکمت عملی پہ عملدرآمد کر سکتے تھے وہ سب خاموش قبروں کی نذر ہو چکے تھے۔ ایران کی ٹاپ فوجی قیادت اور نیوکلیئر سائنسدان ایک ہی رات میں شہید ہو گئے تھے اور پورا کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم بکھر چکا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ فارس کی سرزمین ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی اور اسرائیل اپنی جیت کا جشن تل ابیب کی سڑکوں پر ناچتے ہوئے منائے گا۔ دنیا حیران تھی اور عالمِ اسلام غم میں ڈوبا ہوا تھا ۔
لیکن پھر چپ کے اس پردے میں ایک سرگوشی گونجی۔
ایران کی قیادت نے آخری امید کے طور پر رابطہ کیا ایک ایسی شخصیت سے جو سائنسی مہارت کے ساتھ ساتھ جدید جنگی حکمت عملیوں کا ماہر مانا جاتا یے اور جدید جنگی حکمت عملیوں سے جنگوں کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ اسی شخصیت کی سربراہی میں یوکرین نے بھی روس میں کاروائی کر کے چالیس لڑاکا طیارے مار گرائے تھے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اسے کال کی ۔
"حضور! ہمیں بچا لیں۔"
کچھ دیر گہری خاموشی چھائی رہی اور پھر دوسری جانب سے صرف ایک جملہ بولا گیا :
"کھیل اب میری مرضی سے چلے گا!"
انہوں نے فوراً ایران کو ایک ایسا جنگی پلان دیا جو نہ صرف جدید سائنسی اور ٹیکنیکل بنیادوں پر کھڑا تھا بلکہ نفسیاتی حملے کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔
تہران کی فیکٹریوں میں ان کی نگرانی میں ریورس انجینئرنگ سے وہی میزائل دوبارہ بنائے گئے جو کبھی اسرائیل نے ایران پر برسائے تھے۔ مگر اس بار وہ دوست کے بھیس میں دشمن کے خلاف پلٹائے جانے والے تیر تھے۔ آئرن ڈوم کنفیوز ہو گیا کہ یہ میزائل سرائیل کے ہیں یا کسی دشمن ملک کے۔ اس نے اسرائیل پہ ایسی ایکوریسی اور ٹائمنگ سے میزائل برسائے کہ اسرائیلی دفاعی نظام مفلوج ہو گیا۔
کچھ ہی دیر میں دنیا نے دیکھا کہ اسرائیل کا وہ شہر جس نے کبھی فلسطینی بچوں کی چیخوں پر بے نیازی سے فائر ورکس جلائے تھے، اب خود راکھ اور دھوئیں کا منظر بن چکا تھا۔ فوجی کمانڈ سینٹر تباہ ہو چکا تھا، اسرائیلی میڈیا چیخ چیخ کر پوچھ رہا تھا:
"یہ ہوا کیا؟ ہمارا ایئرن ڈوم کیوں فیل ہو گیا؟"
کسی کے پاس جواب نہ تھا، سوائے اس ایک فقرے کے جو موساد کی انٹیلیجنس رپورٹ میں لکھا تھا:
"ہمیں ایران نے نہیں بلکہ دنیا کے عظیم ذہن اور دفاعی ماہر میاں نواز شریف نے شکست دی ہے "
دوستو یہی وہ دماغ تھا جس نے پاکستان کی بھارت کے خلاف جنگی حکمت عملیوں کی بنیاد رکھی اور حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں اسی نے جنگ ڈیزائن کی تھی ، یہی ہے وہ ہیرا جس نے جے ایف 17 تھنڈر اور جے ٹین سی جیسے طیارے ڈیزائن کیے اور اس نے ریورس انجینئرنگ سے پاکستان کو کئی جدید میزائل دہے ۔ یہ وہ عظیم سائنسدان ہے جس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ۔ یہ سب کچھ انھوں نے ایسے وقت میں کیا جب ان کے دماغ کی 80 فیصد شریانیں بند تھیں۔
افسوس کہ ہم نے ایسے شخص سے کبوتر اڑا کر واپس لندن بھیج دیا جہاں شایان جیسے بدتمیز بچے دن رات اس کا جینا حرام کر رہے ہیں ۔
جو قومیں اپنے ہیروز کی قدر نہیں کرتیں ، ان پہ فیلڈ مارشل مسلط ہوتے ہیں۔
ناصر جھنگوی کی وال سے
This photo should be on the front page of every major British newspaper.
But it won’t be — because, like the political class, they’re complicit.
It’s their genocide too.
🔴 غزہ میں نقل مکانی کے دوران ایک بچی کے دل دہلا دینے والے الفاظ!
"میری ٹانگ سے خون بہہ رہا ہے، میں چل نہیں سکتی، ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ 😭😭😭😭"