.
يا قدسُ ... يا مدينتي
يا قدسُ ... يا حبيبتي
غداً .. غداً .. سيُزهر الليمون
وتفرح السنابلُ الخضراءُ والغصون
وتضحك العيون
وترجع الحمائمُ المهاجرة
إلى السقوف الطاهرة
ويرجع الأطفال يلعبون
ويلتقي الآباء والبنون
على رُباكِ الزاهرة
يا بلدي .. يا بلدَ السلام والزيتون ..
#فلسطين#غزة
نہ لباس کی قلت، نہ سہولتوں کا فقدان، اور نہ رسوائی و بدنامی کے داغ ہیں، اور نہ بے توقیری و ذلت کے خار ہیں،
آخر اپنی بساط ہی کیا ہے، کہ یہ شرف و فضیلت، یہ سہولت و عافیت ہمارے دامن میں رکھی دی گئی، جبکہ سارا نامۂ حیات عصیاں و بے بندگی سے مجسم پڑا ہے "
- منقول
" کبھی کبھی یہ سوچ کر عجیب وحشت ہوتی ہے، اور دل خوفزدہ ہوتا ہے، کہ دیگر لوگ تو بھوک، پیاس، اور برہنگی والی زندگی جی رہے ہیں اور کچھ رسوا و بدنام ہورہے ہیں، رازوں کے کھل جانے کا عذاب جھیل رہے ہیں، دھتکارے جارہے ہیں،
مگر ادھر ایسا کیا خاص دھرا ہے، کہ نہ بھوک کی مشقت ہے، +
بلاوا ہے چلا ہوں سوئے طیبہ
لرزتا لڑکھڑاتا سر جھکائے
گنا��وں کا ہے سر پر بوجھ بھاری
پریشاں ہوں اسے اب کون اٹھائے
نہیں کچھ آرزو اب واپسی کی
وہیں رکھے خدا واپس نہ لائے
"دس سال کے بعد میرے آنگن میں ایک پھول کھلا مگر ایک کھنڈر سے مدرسے میں ولادت کے دو گھنٹے بعد ہی بمباری میں میرا پھول، میری ادھ کھلی کلی، جس کی خوشبو بھی میں نہ سونگھ سکی، جس کا نام بھی میں نہ رکھ سکی، اپنے باپ سمیت مسل دی گئی، وہ دونوں مجھے اس ظالم دنیا میں تنہا چھوڑ گئے"
- غزہ
تم اور میں غزہ کے اس باپ کا غم کیا جانیں جو اپنے نومولود جڑواں بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کے لئے گیا تھا، مگر جب واپس آیا تو نہ اس کے بچے تھے، نہ بچوں کی ماں تھی، بس ان کے بدلے اس کے ہاتھ میں کاغذ کے دو ٹکڑے رہ گئے تھے، وہ سب اسے اس ظالم دنیا میں تنہا چھوڑے جا چکے تھے..
ہمارا اولمپکس تو یہی ہے، ہمارے ایتھلیٹس بھی یہی ہیں، ہمارے گولڈ میڈلز بھی یہی ہیں، ہماری عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز بھی یہی بے سر و ساماں سر پھرے ہیں جو امت کا درد دل میں سلگائے عالمِ کفر پر لرزہ طاری کیے ہوئے ہیں
تم سمجھتے ہو ہم باطل کے آگے جھک جائیں گے، خوف سے رک جائیں گے؟ ارے ہمیں موت کا کیا ڈر؟ ہم تو جنت کی آرزو میں موت کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں، اگر یہاں ڈھلتے ہیں تو وہاں ابھرتے ہیں، ہم غیرت ماؤں کی گود میں پاتے ہیں، ہمیں جرأت کے نغمے باپ سناتے ہیں، ہم عزت سے جیتے، شان سے جاتے ہیں!
شیخ آپ کے رب کا آپ سے کیا معاملہ ہے کہ امت کے دل آپ کی یاد سے معمور رہتے ہیں؟ یقیناً آپ کا سودا کامیاب رہا، آپ کامیاب رہے، اور آپ کے بعد آپ کے ہونہار رجال اور قابلِ فخر شاگرد آپ ہی کے منہج پر ڈٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی، وہ اپنی منزل کے منتظر ہیں!
في الوقت الذي تتقطع أشلاء إخواننا في غزة، نجد تراشقًا أعمى بين المثبتة والمؤولة!
هذا يضلل النووي
وذاك يضلل ابن تيمية..
هؤلاء لم يشمّوا رائحة العلم
ولم يتحلوا برداء الحكمة
وهم عبء على الأمة لا ردءًا لها
سلام ہو ان مبارک نفوس پر جو دس ماہ سے سروں پر کفن باندھے اپنے لہو سے دینِ اسلام کی آبیاری کرتے ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ وہ اُمت جو جینے کا عزم کر لے اس کے مٹنے کا کیا سوال؟ اس سے تو موت بھی دور بھاگتی ہے، سلام ہو اس بے سر و ساماں قافلۂ حق پر جس نے اس دور میں قرون اولی کی یاد دلائی!
"سنجعل نتنياهو يلعن اليوم الذي ولدته فيه أمه"
اللهم اجعله خير خلف لخير سلف واربط على قلبه و اكتب في عهده النصر و التمكين للأمة واجعل بداية عهده سبباً لزوال الكيان المحتل
" مسلمان اسلام سے ہے اور اسلام سرحدوں میں قید نہیں "
اپنی نسلوں کو سمجھاؤ کہ مسلمان کا وطن پرست اور قوم پرست ہونے سے کیا نقصان ہوتا ہے. حب الوطنی کے طاغوت کو توڑ کر وحدت کو اپناؤ. یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور الگ الگ جھنڈے تمہیں کبھی متحد ہونے نہیں دیں گے!
ہمارے شیخ کو کہا تھاکہ: "لوکنت تفاحة لأکلتک، اگر تم سیب ہوتے تو میں تمہیں کھا لیتا"
اللہ تعالیٰ ہماری قوم، ملک و ملت کو بھی اس ہیرے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی زندگی میں ان کے علوم و فیوض سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے�� آمین
منقول
ہیرے کی قدر جوہری جانتا ہے، لوہار کو کبھی اس کی قدر کا احساس نہیں ہوسکتا۔ یہ استنبول میں منعقدہ حدیث کی مجلس کا نظارہ ہے جس میں عرب و عجم کے بڑے علماء شریک ہیں۔ اس مجلس میں ہمارے حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ کا جس والہانہ و عاشقانہ انداز میں استقبال کیا ++
جا رہا ہے وہ ہم سب کے لیے بحیثیت پاکستانی بہت اعزاز کی بات ہے۔ اس سے عالم عرب میں حضرت کی قدر و منزلت کا بھی احساس ہو رہا ہے کہ عرب باوجود اپنے فخر و افتخار کے، علم و فقہ کے بحرِِ بیکراں شیخ تقی کے کیسے دیوانے و گرویدہ ہوئے ہیں۔ شیخ عبد الفتاح ابوغدۃ نے بھی اسی وارفتگی میں