گورنر راج کے اثرات: ایک نوجوان کے خوابوں کی دکان بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی!
میڈیکل اسٹور گرایا گیا تو نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ شدید پریشان تھا، آب دیدہ آنکھوں کے ساتھ اپنی دکان کے بارے میں جواب دے رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بغیر کسی نوٹس کے اس کی دکان گرا دی گئی۔
گورنر راج کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شہریوں کے کاروبار اجاڑ دیے جائیں، لوگوں کو بے روزگار کر دیا جائے اور ان کی زندگی بھر کی محنت کو ملبے میں بدل دیا جائے۔ قانون پر عمل درآمد ضروری ہے، لیکن شہریوں کے حقوق اور قانونی تقاضوں کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
پنجاب میں شہریوں کو ایسے حالات کا سامنا کرتے طویل عرصہ گزر چکا ہے، اور اب خیبر پختونخوا میں بھی ایسی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
آخر ایک عام شہری کہاں جائے؟ اس نوجوان کے آنسو اور اس کی بے بسی کا جواب کون دے گا؟
گورنر راج ہو یا کوئی اور انتظامی نظام، شہریوں کے حقوق پامال کرنے کا لائسنس کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ ظلم اور ناانصافی کا یہ سلس��ہ بند ہونا چاہیے!
خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع کے بارے میں بنائی گئی مشاورتی کونسل کے پانچ ارکان نے کونسل کا رکن بننے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ایک ایسے رکن کا نام بھی کونسل میں شامل ہے جو دو سال قبل انتقال کر چکا ہے
سپیکر ایاز صادق کے ناک کے نیچے ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ کو 26 ویں غیر آئینی ترمیم کے وقت گریبان سے پکڑ کرکے، پارلیمنٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، پارلیمنٹ کا عزت استحصال کیا گیا تھا، یہ پہلی دفعہ نہیں تیسری دفعہ ہے، کہ توہین آمیز طریقے سے مولانا صاحب کی گرفتاری ہوتی آرہی ہے۔
کٹھن وقت ہے لیکن انشاء الله یہ وقت نکل جائےگا۔
فان مع العسر یسرا
شہباز شریف کے خلاف ٹی ٹی کیس کتنا مضبوط کیس تھا جو نیب کے قانون کے ترمیم کروا کے ختم کروایا گیا۔ ماہرقانون عبدالمعز جعفری کی ڈھائی منٹ کی یہ گفتگو سن کر آپکو پورا کیس اور کہانی سمجھ آجائے گا۔
ایک ہفتہ ہوگیا، کسی کو نہیں معلوم KP اسمبلی کا سپیکر کدھر ہے، منتخب وزیراعلی کدھر ہے،ایسے حالات میں بلاول صاحب اور دیگر حکومتی شخصیات کس منہ سے جمہوریت اور مذاکرات کی بات کررہےہیں،اگر جیل میں ویڈیو ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے،تومطلب حکومت جب چاہے ملاقات کرواسکتی ہے، نسیم زہرہ سےگفتگو
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور ��یخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی قیادت پشاور پہنچ گئی۔ محمود اچکزئی، علامہ ناصر عباس، اختر جان مینگل اور سینیٹر مشتاق نے گورنر راج کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی
“شہباز شریف صاحب سے پوچھا کہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ مسلئہ کیا ہے؟ اس بات پر وہ اپنے لیڈر سے ملاقات چاہتے ہیں اور انکو علاج کے لیے اسپتال لانا چاہتے ہیں، اس مطالبے پر آپ لاشیں بچھائیں گے؟ میں صبح سات بجے آپکے پاس گیا، آپ دو گھنٹے کے اندر اندر گِر گئے؟ اتنے مجبور حکمران ہو تم؟ آپ جعلی حکومت ہیں، آپ ہارے ہوئے لوگ ہیں۔ جو لوگ دھاندلی کے ذریعے آپکو اقتدار میں لائے ہیں یہ کرسی انہی کی مرہونِ منت ہے اور حقِ نمک ادا کررہے ہیں”۔
مولانا فضل الرحمان کا ملتان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب
In addition to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa and the Speaker of the Provincial Assembly, PTI’s provincial president and MNA Junaid Akbar Khan is also still missing. He was abducted by the regime on Sunday, and his whereabouts remain unknown.
#EndEnforcedDissapearences #PakistanUnderFascism
"آج ایک دفعہ پھر پاکستان میں تاریخ رقم ہو رہی ہے۔چار سال کی ہر قسم کی ریاستی بربریت کے باوجود پاکستانی سڑکوں پر ہیں"۔
یہ صرف احتجاج نہیں بلکہ اپنی زندگی، اپنے حقوق، اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ایک پکار ہے۔ محسن نقوی، آصف زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور عاصم منیر جیسے چہروں کی شکل میں ملک پر قابض اس مافیا سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ کن لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں؟
"تمہارے سامنے یہ تمہاری ہی قوم کے لوگ ہیں، تمہاری ہی بہنیں، مائیں اور بیٹیاں ہیں"۔
وقت آ گیا ہے کہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں، اس ظالم قبضہ مافیا کا ساتھ چھوڑیں، اور "اپ��ے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اس قبضہ مافیا سے پاکستان کو آزاد کرائیں، کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے"۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نہیں پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے لگائی۔ اس وقت دہشتگردوں کے خلاف ایک کاروائی نہیں ہوئی تین دن سے تمام ادارے پی ٹی آئی کارکنان،عہدیداران اور ممبران اسمبلی کے اغواء،گھروں میں توڑ پھوڑ اور پی ٹی آئی کے صوبے بھر میں کروائے گئے کاموں کی تختیاں اتارنے میں مصروف ہیں۔
آئینی عدالت میں بھی انصاف کا اپنا ہی نظامِ الاوقات ہے پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف درخواست ہو، اور درخواست گزار شیر افضل مروت یا کریانے کے تاجر وقاص ملک ہوں، تو فیصلے ایسی برق رفتاری سے آتے ہیں جیسے انصاف نہیں، ایکسپریس سروس چل رہی ہو۔
لیکن جہاں آئین و قانون کے تحت پی ٹی آئی کو ریلیف ملنے کا امکان ہو، وہاں قانون کی باریکیاں، طریقۂ کار کی پیچیدگیاں اور ناقابلِ سماعت ہونے کے اعتراضات فوراً حرکت میں آ جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ مخالف کے خلاف انصاف سپر فاسٹ، اپنے حق میں انصاف فائلوں میں دفن، اور آئینی ریلیف کی باری آئے تو دروازے پر تختی لٹک جاتی ��ے: ’’درخواست ناقابلِ سماعت ہے!‘‘
واہ رے نظامِ انصاف! یہاں شاید فیصلہ قانون کی روح دیکھ کر نہیں، درخواست گزار کا نام دیکھ کر جلدی میں لکھا جاتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر انصاف سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس کی رفتار اور دروازے الگ الگ کیوں ہیں؟
پختونخوا میں گورنر راج لگا کر منتخب عوامی حکومت ہٹانے کے بعد اب صوبے بھر سے پی ٹی آئی کے ترقیاتی کاموں والی تختیاں ہٹ��ئی جا رہی ہیں۔
کیا ایسا کرنے سے پختونخوا میں پی ٹی آئی ختم ہو جائے گی؟
ماشإللہ پشاور ضلعے کا CCPO اور SSP اپنی کرسی بچانے کے لیے اتنے over efficient ہو گئے ہیں کہ دوسرے ضلعے خیبر میں ڈیوٹی دینے جا رہے ہیں
اور وہ بکتر بند گ��ڑیاں استعمال کر رہے ہیں جنہیں دہشتگردوں کے خلاف استعمال کرنا تھا
یہ گاڑیاں پیسے دینے کے باوجود جب تک گورنر راج نہیں لگایا گیا تب تک آرڈیننس فیکٹری نے خیبرپختونخوا کو نہیں دیں
اب یہ گاڑیاں سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں