Look carefully, this small red dot is the state of Medina, which in a few years not only defeated the Roman Empire spread over 3 continents but also erased the 2nd superpower, the Persian Empire, from the map of the world. This was the power of our mighty #Khilafah! 🧵
Palestinians chant for the Pakistan Army to come and liberate them. Little do they know that the army plans on coming there — not to liberate them but to disarm the resistance. #Reject_Gaza_Peace_Board
Palestinians chant for the Pakistan Army to come and liberate them. Little do they know that the army plans on coming there — not to liberate them but to disarm the resistance.
#Reject_Gaza_Peace_Board
پریس ریلیز
پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے تو اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے بجائے فرعون ٹرمپ کا انتخاب کر لیا ہے، تو اے افواجِ پاکستان! اب تم فیصلہ کرو تم کس جانب کھڑے ہو؟
https://t.co/upUeFT6VGk
#Reject_Gaza_Peace_Board
میں اس آیت کے ایک حصے کی آپ کی اس تشریح سے شدید دل گرفتہ ہوں جسے آپ ہمارے حکمرانوں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غداری اور زیادتی کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہاں بالکل واضح طور پر فرماتا ہے: "الا یہ کہ تمہیں ان کی طرف سے کسی خطرے کا اندیشہ ہو"۔ اس کا اطلاق غزہ کے مستضعفین پر ہوتا ہے، جن کے لیے یہ عذر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ظالموں کے ساتھ ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کریں، جبکہ دل میں ان سے نفرت کریں اور انہیں برا سمجھیں۔
مثال کے طور پر امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ ابو الدرداءؓ نے فرمایا:
“ہم بعض لوگوں کے سامنے م��کرا دیتے ہیں حالانکہ ہمارے دل انہیں کوس رہے ہوتے ہیں۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مستضعفین دو سال سے زیادہ عرصے تک خالی ہاتھ ان کے خلاف لڑتے رہے، یہاں تک کہ ٹرمپ کے احکامات اور دھمکیوں پر آٹھ مسلم ممالک کے حکمرانوں کے دباؤ کے نتیجے میں جنگ بندی پر آمادہ ہونا پڑا۔ تو پھر آپ کس بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان مسلم افواج پر ہوتا ہے جو اس خطے اور اس جنگ سے باہر بیٹھی ہیں، جوہری ہتھیاروں، جنگی طیاروں اور بحری بیڑوں سے لیس ہیں، اور جنہیں کسی فوری خطرے یا مجبوری کا سامنا ہی نہیں؟
مزید یہ کہ ایسے اقدامات کے ذریعے یہ حکمران واضح طور پر اپنے لیے فائدے سمیٹ رہے ہیں، اور اس کی قیمت ان مستضعفین کی جانوں اور حالات سے ادا کی جا رہی ہے جنہیں وہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے منصوبوں اور خواہشات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں۔ یہ ہر تعریف کے مطابق صریح غداری ہے۔ اور ا��ر آپ یہ دلیل دیں کہ ہماری افواج کو خطرات لاحق ہیں، اس لیے سمجھوتہ بہتر ہے، تو پھر میرا سوال یہ ہے: کیا آپ نے کبھی کوئی جنگ دیکھی ہے جس میں افواج کو خطرات لاحق نہ ہوں؟
بدر، احد، مؤتہ، قادسیہ، یرموک — ان میں سے کون سی جنگ خطرے سے خالی تھی اور جس میں بڑے نقصانات نہ اٹھانے پڑے ہوں؟ اگر ہم آپ کی اس منطق کو مان لیں تو پھر کیا ہم کبھی لڑیں گے یا کسی حق پر کھڑے ہوں گے؟ اور اگر اب بھی اس معاملے میں آپ کو شبہ ہے تو قرآن کی وہ بے شمار دیگر آیات دیکھ لیجیے جو کفار کے سامنے سمجھوتے اور غلامی کو جائز ٹھہرانے والی ایسی تاویلات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔ مثلاً:
سورۃ الممتحنہ 60:1
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ عَدُوِّى وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَآءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِٱلْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا۟ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلْحَقِّ... وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُم�� فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی طرف محبت ڈال رہے ہو، حالانکہ وہ اس حق کا انکار کر چکے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے... اور تم میں سے جو کوئی یہ کرے گا وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔
سورۃ النساء 4:144
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا۟ لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًۭا مُّبِينًا
اے ایمان والو! ایمان والوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف کھلی دلیل فراہم کر دو؟
سورۃ المائدہ 5:51
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْيَهُ��دَ وَٱلنَّصَـٰرَىٰٓ أَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُۥ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہو جائے گا۔ بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
سورۃ الانفال 8:73
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ إِلَ��ا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌۭ فِى ٱلْأَرْضِ وَفَسَادٌۭ كَبِيرٌۭ
اور جنہوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اگر تم (ایمان والے) ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور شدید فساد برپا ہو جائے گا۔