دو سال پہلے چاق و چوبند ورکر سمیع وزیر آج 20 مہینے بعد زندہ لاش بن کر جیل سے رہا ہوا، سمیع وزیر کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے۔
پارٹی اور لیڈرشپ سے درخواست ہے کہ جلد سے جلد سمیع وزیر سے مل کر امدادی پیکج کا اعلان کریں
@PTIofficial
آج سے 10 سال پہلے 2014 میں آرمی پبلک سانحہ کے بعد جب عمران خان آل پارٹیز کانفرنس میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بیٹھا
تو خان نے کہا میری کسی سے آنا کے اختلافات نہیں اور نہ ہی ذاتی اختلافات ہیں۔ ہمیں اس ملک کی خاطر سب کو اکھٹا ہونا ہوگا ❤️
ہم افغانی نمک حرام ہیں
بھٹو جس نے آئین دیا کیا اُس کو پھانسی ہم نے دی؟ ڈاکٹر قدیر جس نے ایٹم بم دیا اُس کو نظر بند ہم نے کیا ؟ عمران خان جس نے تین کینسر ہسپتال دیے اُس کو جیل میں ہم نے ڈالا ؟
مارچ میں خیبر پختون خواہ ، پنجاب ، بلوچستان ، سندھ سے لاکھوں پاکستانی شریک تھے جن کا مقصد صرف اپنے آئینی اہداف حاصل کرنے تھے اُس کے باوجود ہمارے عہدوں پر فائز بڑے لیڈر کیوں نہیں ��ئیے
ساری پارٹی وکلاء کے حوالے اس لیے کی گئی تھی کہ توقع تھی یہی لوگ اس تحریک میں فرنٹ لائن پر ہوں گے۔ لیکن چند مخلص وکلاء جیسے فاتح برکی اور بدولہ اور دو اور وکیل جو وکیلوں کے کوٹ میں تھے جن کو میں نے ڈی چوک کے پاس دیکھا اور مجھ سے ملے کو چھوڑ کر، باقی بڑے نام کہاں تھے؟ چیئرمین، سیکرٹری جنرل سمیت وہ تمام وکلاء، جو خود کو بڑے وکیل کہلاتے ہیں، اس موقع پر کہاں غائب تھے؟ کیا ان کا کام صرف عہدوں کے مزے لینا ہے؟
اگر ان کو پہلے سے معلوم تھا کہ حالات خراب ہو سکتے ہیں تو انہوں نے مارچ کو کیوں نہیں روکا؟ فیصلے کا اختیار ان کے پاس تھا، عہدے ان کے پاس تھے، خان تک رسائی ان کے پاس تھی، پھر کارکنوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کا فیصلہ کس کے کہنے پر کیا؟ کیا یہ قیادت کا کام ہے کہ اپنے کارکنان کو لاوارث چھوڑ کر ان کے خون کا تماشا دیکھے؟
یہ ناقابلِ معافی جرم ہے! اب اندرونی احتساب ہوگا، اور وہ لوگ جو قیادت کے نام پر تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، انہیں جواب دینا ہوگا۔ خان کی رہائی کی تحریک کسی کے مف��دات کی بھینٹ نہیں چڑھے گی۔ یہ تحریک اب کارکنان کی ہے، اور جو قیادت میدان میں نہیں آسکتی، انہیں عہدوں سے ہٹانے کا وقت آ گیا ہے۔ تحریک میں خون شامل ہو چکا ہے، اور خون کبھی معاف نہیں کرتا!
ہماری قیادت نے ٹی وی شوز اور ویڈیو پیغامات میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے قافلے لائیں گے اور لیڈ کریں گے، لیکن قافلے تو دور کی بات، خود بھی نظر نہیں آئے۔ خاص طور پر پنجاب کی قیادت، جنہوں نے واٹس ایپ گروپس میں اعتماد دلایا تھا کہ وہ اپنے قافلوں کے ساتھ موجود ہوں گے، لیکن بعد میں کہیں دکھائی نہیں دیے۔
میرے پارٹی کے کارکنان کا ��ون اتنا سستا نہیں کہ اسے بھول جائیں۔ عمران خان ہماری ریڈ لائن ہیں، اور ان کی رہائی کی تحریک کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ قیادت اگر بزدل یا خوفزدہ ہے، تو ہو، لیکن میرے کپتان کی قوم بہادر اور غیرت مند ہے۔
جن تحریکوں میں قربانی اور خون شامل ہو جائے، وہ اپنے اہداف ضرور حاصل کرتی ہیں۔
سیاسی کمیٹی تو بس ایک “زوم کمیٹی” بن چکی ہے، جس کے پاس فیصلے کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں
خان صاحب کے سعودی عرب جانے کے بعد محمد بن سلمان پاکستان آئے تھے، خود کو پاکستان کا ایمبیسڈر کہا تھا، اگر انہوں نے یا اُن کی حکومت میں سے کسی نے جنرل باجوہ کو کال کر کے کہا تھا کہ یہ کیا اُٹھا لائے ہو تو پھر وہ خود خان صاحب کی حکومت میں یہاں کیوں آئے تھے؟؟ 🤔
سابق وزیراعظم عمران خان کے اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات:
"ہمارا احتجاج بالکل مؤخر یا معطل نہیں ہو گا۔
اگر مذاکرات میں ہمارے تین مطالبات کے حوالے سے بات ٹھوس انداز میں آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد میں ہمارا احتجاج celebrations میں بدل جائے گا۔ جمعے سے ہمارے قافلے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے نکلنا شروع ہو جائیں گے!
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ہم نے احتجاج اور مذاکرات کے لیے اپنا تین نکاتی ایجنڈا دیا ہوا ہے۔ جب دوسری پارٹی اپنے نکات سامنے رکھے گی تو بات کریں گے۔ مذاکرات ان کے ساتھ ہوں گے جن کے پاس طاقت ہے۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ طاقت کس کے پاس ہے؟
فروری کے بعد میں نے دو کالز دی ہیں۔ چار اکتوبر کو صرف اپنی پارٹی کو نکلنے کی کال دی اور چوبیس نومبر کو پوری قوم کو نکلنے کی کال دی ہے۔ کیونکہ یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی تحریک ہے-
ملک آئین کے تحت نہیں چلایا جا رہا۔ اگر ملک آئین کے مطابق چلتا تو ملک کی سب سے بڑی جماعت کو نشانہ نہ بنایا جاتا۔
تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ہمارا نشان تک چھین لیا گیا اس کے باوجود ہم 8 فروری کو ہونے والا الیکشن دو تہائی اکثریت سے جیتے۔ الیکشن فراڈ کو ہوئے ہوئے دس مہینے گزر گئے ہیں اتنا عرصہ گرنے کے باوجود الیکشن ٹربیونلز نے اور خصوصا�� پنجاب میں کتنے کیسیز کا فیصلہ کیا ہے؟
ہمارے ورکرز اور رہنماء ڈیڑھ سال سے جھوٹے مقدمات میں بغیر کسی ثبوت کے جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انکی ضمانتیں کیوں نہیں لی جاتیں؟
کہا جاتا ہے کہ میں نے فوج پہ حملہ کرنے کی بات کی۔ میری ویڈیوز موجود ہیں میں نے کبھی کسی پہ حملہ کی ترغیب نہیں دی۔ جب نو مئی کو رینجرز کی طرف سے مجھے غیر قانونی طور پہ اغوا کیا گیا تو اس کے مناظر عوام کے سامنے آئے جس پہ ردعمل آیا۔ میں تو ان کی تحویل میں تھا، مجھے کیسے علم ہوتا کہ باہر کیا کیا ہوا؟
نہتی عورتیں، بچے فوج پہ کیسے حملہ آور ہو سکتے ہیں؟ کیا یاسمین راشد ٹینک پہ سوار تھیں جو انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کر دیا؟ ان کی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں مسلسل پرامن رہنے کی تلقین کر رہی ہیں-
صرف ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ Political Engagement ہونا لازم ہوتا ہے- ملک میں صرف تحریک انصاف ہی واحد وفاقی پارٹی ہے جو کہ دہشت گردی کے مسئلے سے سیاسی طور پہ نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ملک کو صرف عوامی مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی قوتیں ہی اکٹھا رکھ سکتی ہیں۔"
غریب کے بچوں کی لاشیں کھوتے پر لاد کر لائی جا رہی ہیں جبکہ ان کے جنازوں م��ں شرکت کرنیوالے ہیلی کاپٹروں پر تشریف لائیں گے اور فوج کی قربانیاں آپ کو بتائیں گے کیا ان کے لیے ہیلی کاپٹر نہیں بھیجا جا سکتاتھا ؟؟https://t.co/NeYudG6OeP
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیےآواز اٹھائیں۔
پاکستان کےکروڑوں نوجوان،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،طلباء و طالبات آگے بڑھیں اورڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے اپناحصہ ڈالیں۔
حکومت پاکستان نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں اعلٰی سطحی وفدبھیج کرعافیہ کی رہائی کیلئےسنجیدگی دکھائیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے انکی بہن فوزیہ صدیقی کی اس اپیل کو غور سے سنئیے آپ بڑی آسانی کے ساتھ ایک قانونی طریقے سے انکی آواز میں اپنی آواز ملا سکتے ہیں
جنیواء نواز شریف کے استقبال سے زیادہ خوبصورت استقبال شہریار آفریدی کا ہوا ہیں گزشتہ رات برطانیہ میں سابق وزیر داخلہ شہریار آفریدی کا پی ٹی آے کا سنئیر رہنما راجہ ماجد کے گھر آمد اہم گفتگو اور عمران خان کا پیغام اوورسیزپاکستانیوں تک پہنچایا
@ShehryarAfridi1#عمران_خان_تو_آئے_گا