فوج تحریک انصاف کے ہاتھوں کارکردگی ، الیکشن ، میڈیا ، احتجاج ، بیانیے اور مقبولیت میں ہر جگہ شکست کھا چکی ہے۔
بندوق کی طاقت کے خلاف تو خود فوج بنگالیوں اور بلوچوں کے سامنے نہیں ٹھہر پائی۔
جو سیاست عمران خان سوچ کے کر رہے ہیں، تو عمران خان کے بھنور میں یہ پھنس چکے ہیں، عمران خان چاہتے تھے کہ اسٹبلشمنٹ اپنا ہی ہتھیار بھی چلا لے گورنر راج لگا کر، ذیشان عزیز
سہیل آفریدی سے جب بات ہوئی تو انہیں کہا یہ گورنر راج لگا سکتے ہیں تو سہیل نے کہا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے،جو یہ شق منوانا چاہتے ہیں وہ مان نہیں سکتے۔
سلمان اکرم راجہ
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
عاصمہ جہانگیر گروپ، قاضی جیسے جج، اور پاکستان کی لبرل سیکیولر کلاس فوج کا سب سے بڑا خفیہ ہتھیار تھا جسے آخر کار پاکستان کو مکمل تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا اس سے پہلے اس ہتھیار کی عالمی سطح پہ ساکھ بنائی گئی کیا پرفیکٹ منصوبہ بندی تھی کمال!!!
Both the establishment and the government are caught in 'Imran Khan's trap'. Now i Believe the 'long march' was not just moving aimlessly through KP; it was shaping public sentiment and preparing the people of KP for a state of emergency and its aftermath.
اگر ایوب خان کا مارشل لاء ریڈیو ، ضیاء کا مارشل لاء اخبار ، مشرف کا ٹی وی کی وجہ سے لگا ہے تو سوشل میڈیا عاصم منیر کی حرکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہے۔
فوج نے کٹھ پتلیوں کی مدد سے مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات کا کہا اور مولانا سے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کی متحرک قیادت وزیراعلی ہاوس پہنچ گئی۔ جہاں سے فوج نے انہیں حراست میں لے لیا۔ مولانا جس سٹیچر کا آدمی ہے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کرسکتا۔ لیکن بہرحال مولانا کو جھانسا دیکر استعمال کرلیا گیا اسی لیے مولانا استعمال ہوجانے کی شرمندگی کی وجہ سے غصے میں بھی تھے۔
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
عمران خان نے دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑی اگر وہ تب اسمبلیاں نا توڑتے تو یہی ہوتا جو آج خیبرپختونخوا میں ہوا ہے،
اگر عمران خان اسمبلیاں نا توڑتے تو بہت آسانی سے گورنر راج لگا لیتے، لیکن عمران خان نے انہیں بے نقاب کر دیا ہے، ڈاکٹر شہباز گل
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سہیل افریدی کو اندازہ نہیں ہوگا کہ ایمرجنسی بھی لگ سکتی ہے ؟
اور اگر اندازہ تھا، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس کے لیے تیاری نہیں کی ہوگی؟
اگر تحریک انصاف ایمرجنسی کے لیے تیار تھی، تو پھر مزاحمت کا ایک نیا اغاز ہوگا۔
تو دیکھتے ہیں
یاد رکھیں
ایمرجنسی تب لگتی ہے جب حالات اور معاملات کنٹرول میں نہ رہیں۔ گنڈاپور کے لانگ مارچ کی طرح اگر موجودہ مارچ بھی فکس میچ ہوتا تو ایمرجنسی لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
تاریخ گواہ ہے ایمرجنسی جس نے بھی لگائی وہ زیادہ دن نہیں ٹِک پایا۔
بظاہر لگتا ہے کہ شاہ جی نے سہیل آفریدی کو ٹریپ کر لیا۔
لیکن یہ بظاہر ہے۔
اصل میں سہیل آفریدی نے پیارے شاہ جی کو ٹریپ کر لیا۔ بہت بھاری غلطی کروا دی۔
کھیل ختم نہیں ہوا۔ بلکہ ابھی تو شروع ہوا ہے اصل میں۔