@WajSKhan@MichaelKugelman@gzeromedia Afny mulk ke badtareen halaat chor ker to India ja rona ro rahan han yar barh me jaye India afny mulk ke fiker jaro
قاسم علی شاہ صاحب سے گزارش ہے کہ ملک میں اچھے خاصے مافیاز کے ہوتے ہوئے صرف اور صرف نسبتا بہتر قیادت پر تنقید کرنا اس وقت اس لیے ممکن نہیں ہے کہ نوجوان خاصے جزبات میں ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے غلط فیصلوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔
میں نے سب لیڈروں کے گھوڑے چیک کئے۔ عمران خان کے گھوڑے میں اکڑ، شہباز شریف کے گھوڑے میں لچک جبکہ نواز شریف کے گھوڑے میں تھکن دیکھی۔ مشہور گھوڑا شناس قاسم علی شاہ
اگر سارے فیصلے قیامت پر ہی چھوڑ دیئے جائیں تو یہ دنیا جہنم بن جائے طاقتور جو مرضی کریں۔ جنگل کا قانون ہو۔ سزا اور جزا کا تصور جسے انسان نے صدیوں تک سمجھا اور اس پر دنیا کو چلا یا ہے ایک لازمی جزو ہے۔ وہی معاشرے ترقی کر گئے جہاں قانون کی حکمرانی رہی۔
یہ 5 جون 1992 کا دن تھا، ٹنڈو بہاول سندھ کے گاؤں میں
ایک حاضر سروس میجر ارشد جمیل نے پاک فوج کے دستے کے ساتھ چھاپہ مار کر 9 کسانوں کو گاڑیوں میں بٹھایا اور جامشورو کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے لے جا کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
فوج کے ان افسران نے الزام لگایا کہ⬇️
چند دن پہلے بھی میرا ایک ویزہ رکوایا گیا ہے۔ آج پھر ایک لگا ہوا ویزہ کینسل ہوا ہے۔ اسی طرح ارشد بھائی کا دبئی کا ویزہ نا صرف کینسل کروایا گیا بلکہ انہیں دوبارہ ویزہ دینے سے بھی روکا گیا۔ وہی کھیل وہی کھلاڑی اور وہی مونس جیسے مہرے
معیشت بدستور بدحال اور دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔ کہا گیا ڈالر دو سو پر آ جائے گا، مہنگائ کم اور آئی ایم ایف کو سیدھا کر دیں گے۔اُلٹا آئی ایم ایف نے مزید ٹیکس لگانے تک اگلی قسط دینے سے ہی انکار کر دیا۔ دوست ممالک بھی پریشان۔ تو پھر مفتاح کو بلی چڑھا کر صرف وزیر بننا مقصود تھا؟
باجوہ کے چھ سال سیاست میں بھرپور مداخلت کا عملی نمونہ ہیں کسی وزیراعظم کسی جماعت کو چلنے نئیں دیا تمام اداروں کے تقدس کو پامال کیا آئین قانون پارلیمان عدلیہ کا مذاق اڑایا اپنے ہی اداروں کوباربار فتح کرنیکی ناکام کوشش کی بے پناہ ظلم کیے وردی نہ اتارنے کی پلاننگ مشرف سے بڑھ کر کی۔