صبح 8 بجے شانگلہ سے لاہور کیلئے نکلا تھا، رات 10 بجے کمرے پہنچ کر (14گھنٹے سفر )تھکاوٹ کے باوجود عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا انتظار کررہا تھا
اب مجھے نیند نہیں آرہی سوچا ایک سوال کروں شاید کوئی جواب دے
عمران ختم شد والے دانشوران کدھر ہیں ؟
#pti#خان_کی_واپسی_ناگزیر_ہے
اگر جیل میں سب سہولیات موجود تھیں تو عمران خان کی بینائی کیوں متاثر ہوئی؟
اگر صاف پانی , طبی سہولیات اور اور بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کی جا رہی تھی تو صحت کی یہ سنگین صورتحال کیسے پیدا ہوئی؟
کیا یہ محض اتفاق ہے یا دانستہ تاخیر اور غفلت؟
یہ سیاست نہیں، انسانی حقوق کا سوال ہے اور اب جواب دینا ہوگا۔
#ComeToStreetsForKhan
“This is not political; it is a matter of medical ethics, patient safety, and human rights.”
As serious concerns grow over the health of former Prime Minister Imran Khan, Dr. Mahwish speaks from a medical and ethical perspective, questioning his prolonged isolation, reported vision impairment, and the lack of transparent clinical disclosure.
If a detainee is unwell, the standard is clear:
- Independent medical examination
- Full transparency
- Compliance with international custodial health standards
This is accountability that demands resolution as soon as possible.
#KhanNeedsUrgentTreatment
فسطائی ہائیبرڈ رجیم کے ظلم کی ایک اور خوفناک مثال؛
رئیس احمد کی ناحق قید کو آج 1000دن مکمل ہو گئے،9 مئی 2023سے آج تک رئیس احمد بغیر کسی شفاف اور منصفانہ ٹرائل کے قید ہےپہلے فوجی تحویل، پھر کوٹ لکھپت جیل لاہور جہاں اس نےجسمانی وذہنی تکالیف، شدید تنہائی،صحت کے مسائل،تعلیم سے محرومی
شانگلہ کا ہونہار زہین رئیس احمد بھی اسی ملک کے ہر باہمت، باشعور اور ذمہ دار نوجوان کی طرح ناانصافی کے خلاف پُرامن آواز بلند کر رہا تھا۔
مگر پاکستان میں #AsimLaw کے تحت پُرامن احتجاج کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ رئیس کو غیر قانونی قید میں ایک ہزار دن سے زائد ہو چکے ہیں۔
رئیس کے ساتھ کیا جانے والا غیر قانونی، غیر انسانی اور ظالمانہ سلوک پاکستان کی عدلیہ پر ایک ایسا مستقل داغ ہے جس نے اسے انصاف دینے میں بری طرح ناکامی دکھائی۔
#EndMilitaryTrials
پڑھے لکھے، محبتِ وطن نوجوانوں کو گرفتار کرو،انہیں اس حال تک پہنچا دو کہ پہچانے نہ جائیں اور یہ سب صرف اس لیے کہ انہوں نے آئینی حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے؟
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید رئیس احمد انصاف کا منتظر!
سپریم کورٹ نے 7 مئی 2025 کے اپنے مختصر فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی تھی کہ 45 دن کے اندر آرمی ایکٹ میں ترمیم کی جائے تاکہ ملٹری کورٹس سے سزا پانے والوں کو ہائیکورٹس میں اپیل کا حق مل سکے۔
233 دن گزر گئے
نہ کوئی ترمیم ہوئی،
نہ فیصلے کی کاپی ملی،
نہ ہی اپیل کا حق دیا گیا
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
رئیس خان کو ۹ مئی فالس فلیگ کیس میں فوجی عدالت نے غیر قانونی طور پر چھ سال قید کی ظالمانہ سزا سنائی۔ یہ انصاف نہیں، انتقام ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ ہارتا ہے، اور سچ کبھی نہیں دبایا جا سکتا۔۔۔۔
رئیس خان کو ۹ مئی فالس فلیگ کیس میں فوجی عدالت نے غیر قانونی طور پر چھ سال قید کی ظالمانہ سزا سنائی۔ یہ انصاف نہیں، انتقام ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ ہارتا ہے، اور سچ کبھی نہیں دبایا جا سکتا۔۔۔۔
رئیس احمد کے بھائی کی اپیل:
ناجائز ملٹری کورٹ سے چھ برس کی سزا پانے والے اور پچھلے دو سال سے بیگناہ قید رئیس احمد کی کوٹ لکھپت جیل میں طبیعت انتہائی ناساز ہے لیکن جیل انتظامیہ طبی امداد فراہم کرنے اے انکاری ہے۔ گردے میں پتھری عدم توجہی کے باعث سنگین صورتحال بھی اختیار کر سکتی ہے اور اس طرح کے مسائل میں میڈیکل ریکارڈ اور ہسٹری ہونا انتہائی ضروری ہے۔ رئیس متعدد بار اپنی درد کی شکایت بے چکا ہے، اہل خانہ کی داد فریاد پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
نیز اس طرح کے مسائل کو جیل کلینک یا ڈسپینسری کے بجائے ماہرین کی زیرنگرانی ہونا چاہیے۔ جیل حکام کا غیر سنجیدہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ مظلوم نوجوان محض کسی کی انا کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں ورنہ اس ملک میں بڑے بڑے چوروں کو اہتمام کے ساتھ مسند پیش کی جاتی ہے۔
@QasimKhanSuri رئیس احمد دو سال سے قید میں ہیں، نو مئی کے کیس میں چھ سال کی سزا بھگت رہے ہیں، ان کو گردے کی پتھری کی شکایت ھے اور کئی دن سے شدید درد میں مبتلا ہیں، جیل حکام نے ان کو مناسب علاج کی سہولت نہیں دی ھے ان کے تمام طبی ریکارڈز بھی روک لیے گئے ہیں ان کو علاج کی ضرورت ھے۔
@OfficialDGISPR
⚠️ ریاستی فسطائیت کا شکار ایک اور بیگناہ اسیر رئیس احمد جس کو جیل میں طبی سہولیات میسر نہیں!
رئیس احمد دو سال سے قید میں ہیں، نو مئی کے نام نہاد جھو��ے اور غیر قانونی فوجی ٹرائل کے بعد چھ سال کی سزا بھگت رہے ہیں، ان کو گردے کی پتھری کی شکایت ہے اور کئی دن سے شدید درد میں مبتلا ہیں، مگر نہ صرف جیل حکام نے ان کو مناسب علاج کی سہولت دی ہے بلکہ ملٹری حکام نے ان کے تمام طبی ریکارڈز بھی روک لیے گئے ہیں تاکہ مزید اذیت دے کر ان کو توڑا جائے۔
واضح رہے یہ وہی رئیس احمد ہے جس کو جبری بیان کی خاطر ملٹری تحویل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، پہلے بھی کئی قیدیوں کو اسی طرح علاج سے محروم رکھا گیا اور کئی کے ساتھ سنگین واقعات ہوئے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریس احمد کو فوری اور مکمل طبی امداد دی جائے اور سیاسی انتقام کی یہ ظلم و ستم کی پالیسی ختم کی جائے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PoliticalVictimization
رئیس احمد کو پہلے کور کمانڈر والے مقدمہ میں گرفتار کیا اور پھر 25 مئی کو ملٹری والے لے گئے ملٹری کورٹ سے چھ سال سزا ہوئی اب یہ سزا باقی ملٹری کورٹ والوں کے ساتھ کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں اور ان کی طبیعت شدید خراب ہے اور ان کو ہسپتال داخل نہیں کرایا جا رہا
اواز اٹھائیں
یہ رئیس احمد پی ٹی آئی کا وہ ورکر ہے جس کو 9 مئی کیس میں ملٹری ٹرائل سے 6 سال سزا سنائی گئی ہےاوروہ اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہا ہے رئیس احمد کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس وقت رئیس احمد جیل میں بہت سخت بیمار ہے لیکن ہمیں اپنے بھائی کا علاج نہیں کروانے دیاجا رہا
رئیس بھائی کے لیے آواز اٹھائیں تا کہ انکا بروقت علاج ممکن ہو سکے
@PTIofficial Raees' story can be heard here.
It breaks my heart learning how they are treating the political prisoners.
Whenever I hear his name, Raees Ahmad, my heart goes soft and I recall what they did to him. 🥹
#PrisonersOfConscience#ReleasePoliticalPrisoners
https://t.co/4xdTFF6Xaa