پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے قیام کا فیصلہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک میں امن کے قیام کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اہم اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس، پیر کو مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب
اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر متحدہ اپوزیشن کے قیام اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان راب��ہ و تعاون کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں ملک کو
بلوچستان کی ترقی تک پاکستان ترقی نہیں کر سکتا،جائز شکایات ایک دفعہ نہیں، ہزار دفعہ بیٹھ کر سننے اور حل کرنے کے لیے تیار ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ"گوادر پورٹ اس پورے خطے کی ایک شاندار بندرگاہ ہے۔
@CMShehbaz
@CMShehbaz نقصان ہو رہا تھا۔ ہم نے تقریباً 70 ارب روپے کے تخمینے سے منصوبہ بنایا کہ 20 سے 22 ہزار ٹیوب ویلز کو بجلی کے بجائے شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔ بلوچستان حکومت نے 30 فیصد حصہ ڈالنے کی پیشکش کی، جبکہ وفاق نے 40 ارب روپے اس منصوبے میں فراہم کیے، اور آج الحمدللہ 20 ہزار سے
@PTIofficial@MKAchakzaiPKMAP اجلاس میں اپوزیشن اتحاد کی آئندہ کی سیاسی، پارلیمانی اور عوامی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور اس حوالے سے باہمی رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اعلامیہ
اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
@PTIofficial@MKAchakzaiPKMAP
@PTIofficial@MKAchakzaiPKMAP مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا گیا کہ وسیع تر اپوزیشن اتحاد سے پارلیمان اور عوام میں اپوزیشن کی آواز مزید مضبوط اور توانا ہوگی۔