سہیل آفریدی سے امید تھی۔ ختم ہوگئی۔ اب لائحہ عمل والی امید کی بتی بنا لے�� بجٹ سرپلس ختم کرے۔ فوجی آپریشن کی سپورٹ ختم کرے۔ ڈرون حملوں پر آیف آئی آرز درج کروائے۔ نو مئی کے فالس فلیگ پر کمیشن کا کام شروع کروائے۔ ہر ہفتے اڈیالہ جائے۔ اسکے بعد اس کا لائحہ عمل بھی دیکھا جائے گا۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
ان لوگوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ عوام اب اس ڈرامے کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔ ان سے مزید اچھے کی توقع مت رکھیں۔
"میرا بیٹا ملٹری کورٹس کی وجہ سے جیل میں ہے کلبھوشن جس نے ہزاروں پاکستانیوں کو مارا اس کو اپیل کا حق ہے لیکن میرے بیٹے حسان نیازی کو اپیل کا حق نہیں ہے"۔ نورین نیازی
@Noreen_KhanPK#PakistanUnderAsimLaw
"میں چترال اپنی فیملی کو ملنے گئی تھی ایجینسی کو تکلیف اس لیے ہوئی کہ لوگ نکل آئے اس لیے انہوں نے مروت کو لانچ کیا جب مروت لانچ ہو سمجھو ایجینسی کو تکلیف ہوئی ہے"۔علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
اس ملک کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ملک کے عوام نے تباہی اور بربادی کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے۔ نہیں شریف انسانو نہیں ! یہ نصیب نہیں ہے ، تمہاری مجرمانہ خاموشی کا جرمانہ ہے۔
"یہ فرعون ہیں۔ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے عمران خان کے سارے حقوق معطل کردئیے ان کو قید تنہائی میں ڈال کر ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے یہ عدالتیں انصاف نہ��ں دینگی اب لوگ صرف خیبرپختونخواہ سے نہیں پورے پاکستان سے آئیں گے ۔جب تک ہم پریشر نہیں ڈالیں گے عمران خان کے حقوق بحال نہیں ہونگے"۔ علیمہ خان
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان ��ے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ ��رائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کی ریلیوں کے جس مومینٹم کو توڑا تھا علیمہ خانم نے دوبارہ بحال کردیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بھی بے شرمی اور ڈھٹائی کی بجائے اپنے مقصد کی جانب لوٹنا ہے۔
مراد سعید کا منظر عام پر آنا یا نہ آنا ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ منظر عام پر آکر ، آدھے گھنٹے بعد گرفتار ہوکر ، کسی ٹارچر سیل میں پہنچنے کی بجائے بہتر ہے کہ مراد سعید محفوظ رہیں اور محتاط رہیں۔ جن کے پاس اختیارات ہیں ، حکومت ہے ، عہدے ہیں تحریک چلانا بھی انہی کا کام ہے۔ یہ قریب قریب ویسا ہی مطالبہ ہے جو بے نامی اکاونٹس سے کیا جاتا ہے کہ سامنے آکر خود لیڈ کرلو۔
البتہ مراد سعید کے پاس انٹرنیٹ کی رسائی موجود ہے وہ سوشل میڈیا پر بیانیے کی مہم اٹھا سکتے ہیں۔ پختونخواہ حکومت کو دباؤ میں لاسکتے ہیں۔ بغیر کسی اختیار کے ، بغیر کسی عہدے کے ، بغیر کسی تنظیمی نیٹ ورک کے مراد سعید باہر آکر کچھ بھی نہیں کرپائے گا۔
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈھٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ ��مران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
اگر علیمہ خانم زیادہ متحرک ہوئیں یا عوام کو موبلائز کیا تو یقیننا انہیں گرفتار کرلیا جائے گا یا نظر بند کردیا جائے گا۔ فوج انہیں دبانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ لیکن اسکی ایک قیمت ہوگی اور وہ قیمت تحریک انصاف کی قیادت ، پختونخواہ حکومت اور اراکین اسمبلی ادا کریں گے۔
اصل منافقت کیا ہے؟ پاکستانی ذہنی طور پہ ملک اور حکومت میں فرق نہیں کر سکتے! تمام گلے سڑے پسماندہ معاشروں کا یہی حال ہے! مجرم حکومت کے ڈھانچے پہ کنٹرول کر کے، سینکڑوں لوگوں کو ہلاک اور لاتعداد کو جیلوں میں ڈالنے کے بعد بھی اپنے آپ کو ایک ملک قوم اور خاندان کے طور پہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ APPNA کے ڈگری یافتہ بےوقوف امریکہ میں بیٹھ کے ایک پاکستانی مجرم ٹولے کے نمائندے کی بکواس کو سن رہے ہیں! کسی کو خیال نہیں آرہا کہ ایک پاکستانی حکومت کا نمائن��ہ انھیں امریکہ کی سرزمین پہ کس نسبت سے لیکچر دے رہا ہے؟ اور وہ بھی ایک 503(c) تنظیم کے نمائندوں کو جو ہر وقت سیاست سے لاتعلقی کے بھاشن دیتے رہتے ہیں! مگر ایک غیر ملکی سیاسی شخصیت کا خفیہ لیکچر سن رہے ہیں!
Shameful! APPNA’s forum was used to attack Imran Khan. Has the APPNA BOD officially joined PML-N? With what credibility can they still claim to be a non-political forum? They have clearly aligned themselves with Pakistan’s corrupt elite and the military establishment.
حیرت انگیز : ایک طرف APPNA موجودہ لیڈرشپ نے پاکستانی ڈاکٹرز کو پاکستان میں جاری فسطائیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لئے ایک کمرہ تک نہیں لینے دیا۔ ہوٹل کو ��نع کر دیا کہ ہم غیر سیاسی ہیں۔
دوسری طرف یہی لیڈرشپ احسن اقبال کے ساتھ وہیں پر ��فیہ میٹنگ کرتے ہیں۔ کیا احسن اقبال سیاستدان نہیں۔ اب APPNA غیر سیاسی نہیں ؟
یہ دوہرا معیار اور یقیننا چوہدری نظام دین کا پریشر ہے۔ لیکن یہ افسوسناک ہے۔ اس پر آواز اٹھائیں۔ اگر ڈاکٹرز امریکہ میں اپنے حقوق نہیں لے سکیں گے تو پاکستان میں جمہوریت اور رول آف لا کو کیا سپورٹ کرنی ہے۔ آئندہ ووٹ دیتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ لوگوں کا قول اور فعل ہے کیا۔
الیکشن کمیشن کا ایک نوٹس شریف خاندان کا چھوٹا بڑا دونوں پیشاب بند کرسکتا ہے کہ آپ نے جعلی الیکشن کی مدد سے نشستیں جیتیں ، آپ آئین سے غداری کے مرتکب ہوئے اور اب تیاری پکڑیں۔ایسے میں پرلے درجے کے احمق وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ڈار فیملی کے کیسز اس لیے کھل رہے ہیں کہ فوج اسحاق ڈار کی جگہ محسن نقوی کو وزیر خارجہ بنانا چاہتی ہے۔ البتہ کوئی واردات سامنے آنے پر ایک گروپ دوسرے کو جی بھر کے ذلیل ضرور کرسکتا ہے۔ وہی ہو رہا ہے۔
فوج شریف خاندان سے جو تقاضا کرے گی وہ ملے گا۔ صرف دو دن ہوا چلی کہ اٹھائیسویں ترمیم میں فیلڈ مارشل کو صدر بنایا جارہا ہے یا زرداری گروپ کو کٹ ٹو سائز کیا جارہا ہے ، بلاول اور زرداری نے فورا فیلڈ مارشل کے اعضائے مخصوصہ سر پر اٹھا لیے اور خصوصی جلسے منعقد کرکے پالش پھیرنے لگے۔
فوج جس وقت محسن نقوی کو وزیر خارجہ یا وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کرلے گی اسی وقت مطالبہ پورا ہوگا۔ عمران خان جو کچھ برداشت کرگیا شریف و زرداری خاندان ہر مرتبہ اس آزمائش سے فرار ہوئے۔ لہذا گزارش ہے کہ اگر مگر چونکہ چنانچہ لیکن شاید وغیرہ والے تبصرہ پاڑوں سے پرہیز کریں۔
ڈی آئی جی فیصل کامران اور ذیشان دونوں ہی ن��از شریف کے ذاتی ملازمین بنے ہوے ہیں ذیشان تو ہر جگہ میاں صاحب کیساتھ بھی جاتا ہے اس سٹوری میں واضح طور پہ دیکھا جا سکتا ہے کہ فیصل کامران پہلے سے ہی ذہین بنا کر اس معاملے کو کاروباری تنازعے کا رنگ دے رہا ہے تاکہ معاملے کی سنگینی دبای جا سکے