اسمبلی کی کرسی پر بیٹھا یہ نوسرباز کس منہ سے آئین قانون کی بات کرتا ہے جب اسکے مقدس ایوان کے ممبران کو نقاب پوش یہاں سے اغوا کر لیتے ہیں 48 گھنٹے تک اگلوں نے تالے لگا کر اسکا آئین یرغمال بنائے رکھا ! یہ ٹوپیاں کروا رہا ہے نوسرباز ہیں سارے
Admitting that 2024 elections were massively rigged but justifying under the pretext that 2018 was also rigged. What moral right one is left with after this admission.
And why can’t both elections be investigated at the same time ?
میں بطور صحافی کہتا ہوں کہ 2018 کے الیکشن کا کوئی بھی حلقہ کھولیں اور 2024 کے الیکشن کا صرف ایک حلقہ کھولیں، نواز شریف کا حلقہ کھول لیں کہانی سامنے آجائے گی، حبیب اکرم
یہ وڈیو کل کے ایک شوکت خانم فنڈ ریزر کی ہے۔ یہ جو تالیاں اور دل سے عزت ہے ، یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر جگہ جہاں پاکستانی یا مسلمان بستے ہیں، وہاں ہوتی ہے جب عمران خان کی تصویر دکھائی جاتی ہے۔
عمران خان کی رہائی اور صحت قوم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ایک بندہ مایوسی ختم کر کے قوم کو متحد کرسکتا ہے!
#ImranKhanForNationalUnity
عمران خان جس روز وزیراعظم بنا تو عمران خان نے دھاندلی کے الزامات پر اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ اگر دھاندلی پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اگر کوئی حلقہ تحقیقات کے لیے کھولنا چاہتے ہیں تو تحریک انصاف تیار ہے۔ اسکے بعد اپوزیشن نے کبھی بھی کسی کمیشن یا کسی حلقہ جاتی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ بھی نوٹ کرنے والی بات ہے کہ 2013 کے انتخابات کے بعد اسی طرح کی کمیشن کے قیام کے لیے تحریک انصاف نے 126 دن دھرنا دیا لیکن ن لیگ نے کمیشن نہیں بنایا۔ تین سال تک تحریک انصاف صرف چار حلقوں میں تحقیقات کا مطالبہ کرتی رہی لیکن نواز شریف کو تحقیقات کی جرات نا ہوئی۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2018 میں تحریک انصاف کی دھاندلی پیٹیشنز کی تعداد کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ تھیں۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے الیکشن کی رات جنرل باجوہ سے مدد مانگنے کا اعتراف ٹی وی پر کیا۔ تحریک بائیس ، سو ، پانچ سو ، ہزار اور بارہ سو ووٹس کے مارجن سے بھی کئی نشستیں ہاری لیکن نا کوئی جعلی فارم سینتالیس بنا نا ضرورت سے زیادہ ووٹ مسترد کرکے اپنا امیدوار جتوایا گیا۔
جرنیلی صحافی عمر چیمہ بھی مان گئے کہ شہباز شریف نے 2024 کے الیکشن میں دھاندلی کا اعتراف جرم کر لیا ہے، جرنیلوں اور ن لیگ کے سانجھے صحافی کا کہنا تھا میں حیران ہوں شہباز شریف کو ایسا بیان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی
جناب سپیکر میں انتہائی احترام کیساتھ عرض کرنا چاہوں گا، کل آپ بھی ضرورت سے زیادہ جذباتی ہو گئے تھے، ہمارے کنٹینرز اور جلسوں میں جب میاں نواز شریف صاحب ارشاد فرماتے تھے تو وہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر ان کیخلاف تقریر نہیں کیا کرتے تھے اور کیا دفاع کے محکمے کو محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے ، مولانا فضل الرحمن
مہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا ہو جانا پاکستان کے ساتھ غداری ہے، جیسے شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں سزا دینا اس ملک کے ساتھ غداری تھی۔ ایوب خان سے لے کر عاصم منیر تک، سب جرنیلوں نے پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو فروغ دیا ہے۔ غدار مہرنگ نہیں، غدار تم ہو!
ایک آرمی چیف دنیا کے اسٹیج پر ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم کی ��ئینی حیثیت کو ثانوی کر رہا ہے، جو ��ہلے ہی غیر آئینی وزیرِ اعظم ہے۔
اس کی آئینی سزا عاصم منیر کو ہی بھگتنی پڑے گی!
ابصار عالم کی ٹی وی چینل میں اوریجنل ریٹنگ نکلوا لیں اور ان کی تنخواہ کی تفصیلات دیکھ لیں تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ اس گھٹیا انسان کو اتنی تنخواہ پر کیوں نوکری ملی ہوئی ہے ،
پھر آپ کو اس کے کشمیریوں کے خلاف گھٹیا وی لاگز کا سبب پتا چل جائے گا
شوباز، عمران خان نے تو وزیراعظم بنتے ہی کہا تھا جو حلقہ کھولنا ہے، کھول لو اور الیکشن 2018 کی تحقیقات کرا لو، تب بھی تم بھگوڑے ہوئ��۔ 2018 سے پہلے 1985 سے تحقیقات شروع کرو جب مارشل لاء کے گملے میں تمہاری پنیری لگائی گئی یا 1990 سے، جب پیسے تقسیم کرکے چھانگا مانگا متعارف کرایا تھا