شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
��بھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کوئٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
ا�� بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چل گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪
*اطلاع برائےلاوارث لاش*
إنا لله وإنا إليه راجعون۔
موضع نیلہ ، ضلع چکوال دریا سواں سے اس بچی کو نکالا گیا، پتہ نہیں پانی اسکو کہاں سے لایا ، تصویر آگے شیئر کرے تاکہ ورثاء کو پتہ چل جائے جزاک اللہ ۔۔
پلیز اس تصویر کو شیئر کریں، ثواب کے نیت سے شکریہ
03437076135
بلال ٹریولزسیالکوٹ والوں کا معصوم پھول
پر تشد��
معصوم بچہ اگر روزی روٹی کی خاطر بس میں
چڑھ ہی گیا تھا تو کون سی قیامت آگئی تھی؟؟
اگر ہوسکے تو بلال ٹریولز سیالکوٹ تک یہ ویڈیو پہنچائیں اور بائیکاٹ کریں۔
جب تک کہ یہ لوگ معصوم سے معافی نہ مانگے۔
معصوم کی سسکیاں تودیکھیں😭😭
“ ناپاک معاشرہ “
راولپنڈی 14 ماہ کے بچے کی لاش کیساتھ بیٹھی ماں،جس کا ریپ ہوا،بچے کو تشدد کرکے مارا گیا. تھانہ چونترہ کی حدود میں سفاک شخص کے ہاتھوں چاقو کے وار سے شدید زخمی ہونے والی خاتون نسیم بی بی ہسپتال میں دم توڑ گئیں__
اگر آپ اس شیطان صفت معاشرے میں رہتے ہوئے ایسے ظلم کو روک سکتے ہیں اور نہیں روک رہے، اس کے کیخلاف بول سکتے ہیں اور بول نہیں رہے، آپ اس برائی اور گناہ کے مذمت بھی نہیں کر رہے تو پھر “کلمہ پڑھ لیں” __ لعنت ہے ایسے معاشرے پہ لعنت ہے ایسی انسانیت پہ لعنت ہے ایسے قانون پہ اور لعنت ہے ایسے انصاف پہ __
جب یہ عزت لٹی ہوئی ماں اپنے ۱۴ ماہ کے بچے کیساتھ اللّہ پاک کے حضور پیش ہوگی تو اللّہ پاک کے جلال اور قہر سے اس پاک سر زمین اور اس میں بسنے والی عالیشان قوم کو اللّہ پاک کے عذاب سے کون بچا سکے گا؟؟؟؟
گزشتہ امتوں کی انتہا سے ڈر نہیں لگتا
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خدا سے ڈر نہیں لگتا
😢💔
کراچی شفیق کالونی کا ایک کاکروچ دو دن پہلے اس نالے میں گرنے والے اپنے کاکروچ بچے کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، حشرات الارض جیسی زندگی بسر کرتے کروڑوں پاکستانی کاکروچوں کا کرب اس ایک کاکروچ کے چہرے پہ دیکھا جاسکتا ہے
کیا آپ گوجرانوالہ میں شاہد نامی کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو رکشہ چلاتا ہو؟
یہ بچی سائرہ ��ے، جسے سال 2020 میں واپڈا ٹاؤن گوجرانوالہ سے ریسکیو کیا گیا تھا۔ سائرہ اپنے والد کا نام شاہد اور والدہ کا نام آسیہ بتاتی ہے۔ بچی کے مطابق وہ 4 بہن بھائی ہیں، جن کے نام حسن، حسین، سائرہ اور سارہ ہیں۔
سائرہ اپنا رہائشی پتہ بھی واپڈا ٹاؤن گوجرانوالہ بتاتی ہے۔
اگر آپ شاہد نامی کسی رکشہ ڈرائیور کو جانتے ہیں، یا اس بچی کے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں، تو براہِ کرم میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کریں۔ آپ کا تعاون اس بچی کو اس کے خاندان سے ملوا سکتا ہے۔
Contact:03090000015
Case id: 137015126
#merapyara #gujranwala #lostandfound
پلیز یہ پوسٹ صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں 👇
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتا تھا،
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے ��جھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
سارے مسئلے صحیح ہوجائیں گے۔بس چیف صاحب رفض کیءسپورٹ چھوڑیں۔ہرطرف جووپنگے ڈالے ان سے ہاتھ کھینچ کرصرف دفاعی کام جوان۔کی آئینی واخلاقی ڈیوٹی ہے۔اس پرفوکس کریں۔
یقین جانیے فتنہ رفض اورفرقہ پرسٹی کاجن جو تقریباسینے تک بوتل میں قید ہوچکاتھاپاکستان میں۔اسے بھی نکالااورمعیشت بھی ڈبوئ
Saudi Arabia’s Media Minister Salman al-Dosary says that relations between the Kingdom and the United Arab Emirates are rooted in a “shared history and heritage,” urging “responsible media” to counter misleading narratives and ensure accurate reporting on ties between the two countries.
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
#waliullahmaroof
پٹرول کے بڑھتے ہی TCS نے اپنے کوریئر کے چارجز بڑھا دیئے تھے ��و کہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے سے زیادہ تھے
اب جبکہ پٹرول سستا ہوچکا ہے لیکن TCS نے چارجز کم نہیں کیئے میں ابھی گیا تھا کوریئر کرنے کے لیے جب میں نے کہا کہ اب پٹرول سستا ہوچکا ہے تو چارجز کم کیوں نہیں کیئے تو کہتے ہیں کہ یہ مینجمنٹ کا کام ہے ہم جب منیجمنٹ کو کہتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ خاموشی سے لوگوں کی باتیں سن لیا کرو
اس ملک میں پٹرول بڑھتے ہی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں لیکن کم کرانے کے لئے کوئی ادارہ نہیں
کیا عوام یونہی لٹتے رہیں گے