دائی کی بچی ہونا غلط نہیں
دائی ہونا بھی غلط نہیں
دائی کی بچی ہوتے ہوئے،
دائی ہوتے ہوئے،
کوئی قابلیت نا ہوتے ہوئے،
اسٹیبلشمنٹ کے پیروں سے چِپک کر عہدے پر بیٹھے ہوئے
عوام کا پیسہ کھا کر اکڑ دکھانا غلط ہے۔
اگر میرے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا ہے بھئی؟ نواز شریف
اگر مریم نے جہاز خریدا ہے تو خریدا ہے بھئی، مریم اورنگزیب
یہ ہے ”ہم حکمران خاندان“ کا طرہ امتیاز ۔! کر لو جو کرنا ہے: سحرش منیر مان
@SMunirMaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
چاچا اپنی کمائی سے اپنے بچے کا کفن تو نہ خرید سکا مگر یقین مانیں گیارہ ارب کے جہاز میں اس چاچے کے بھی پیسے شامل ہیں ۔ آصف خان احمدانی
@Asifspeaks2
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
"8 فروری کو میں ایک ٹی وی پر کمنٹیٹر کی حیثیت سے موجود تھا، رات چار بجے تک ایسا لگتا تھا کہ ن لیگ وائپ آؤٹ ہو چکی ہے اور تحریک انصاف کے لوگ جن کے پاس نشان نہیں تھا، وہ جیت رہے تھے ۔لاہور جو کبھی �� لیگ کا گڑھ ہوا کرتا تھا وہاں سےشاید وہ ایک آدھ سیٹ جیتے ۔ نواز شریف ہار چکے تھے ، یہی حال مریم کا تھا، وزیراعظم کا بھی الیکشن مشکوک تھا، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے"۔ صحافی زاہد حسین
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
حکمرانوں کی بے شرمی اور منافقت کا تماشہ دیکھیے؛ ایک طرف ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر بڑے معصومانہ انداز میں شکوہ کیا جاتا ہے کہ "ایکشن کمیٹی ہم سے بیٹھ کر بات نہیں کرتی، مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں"۔ لیکن دوسری طرف جب اپوزیشن کا ایک معتبر وفد زمینی حقائق جاننے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کے لیے راولا کوٹ جانے لگتا ہے، تو انہیں راستے میں ہی روک دیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی سینیٹ کے قائدین حزب اختلاف محمود اچکزئی،علامہ راجہ ناصر عباس،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر،خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ اخونزادہ حسین یوسفزئی پر مشتمل وفد کو آزاد کشمیر جانے سے روک کر حکومت نے خود اپنے جھوٹے بیانیے کا جنازہ نکال دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر حکومت سچی ہے اور واقعی کچھ چھپانے کو نہیں ہے، تو یہ خوف کیسا؟
جب آپ سیاسی قیادت کو عوام اور ایکشن کمیٹی سے ملنے ہی نہیں دیں گے، تو مسائل کا سیاسی حل کیسے نکلے گا؟ طاقت کے زور پر آوازیں دبانے اور راستے روکنے کا یہی وہ آمرانہ رویہ ہے جس نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے، رکاوٹیں کھڑی کرنے سے سچ نہیں چھپے گا، بلکہ عو��می غصے میں مزید اضافہ ہوگا۔
🚨 القادر کیس میں 16 سماعتوں اور 16 ماہ کی تاخیر کے بعد اب ہمیں عدالت کہہ رہی ہے کہ مرکزی اپیل پر دلائل دیں ، ہم کیسے مرکزی اپیل پر دلائل دیں جبکہ ہمارا ضمانت کا کیس 10 منٹ کا ہے،
بیرسٹر سلمان صفدر
"میں نے ن لیگ کو ووٹ دیا ہے لیکن اب مجھے خود پہ لعنت بھیجنا پڑرہی ہے، مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ اس لیول کے لوگ ہیں۔ ہمارے چہروں پر رونق نہیں کیونکہ ہمیں ذہنی طور پر ٹارچر کیا جا رہا ہے، ہر بندہ پریشان ہے۔ گاڑی بیچ کر بائیک پر آگیا ہوں، یہ خوشحالی دے رہے ہیں؟ بڑے بڑے اشتہارات دیتے ہیں کہ ہم نے یہ کردیا، وہ کردیا۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اشتہارات دینے سے خوشحالی نہیں آتی"۔ لاہور میں ن لیگی ووٹر کی گفتگو
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
🚨ان عدالتوں کو بند کیا جائے ۰ علیمہ خان کا مطالبہ
ان عدالتوں پر ان ججز کے پروٹوکول پر قوم کے اربوں روپے کے اخراجات ہو رہے ہیں بہتر ہے ان عدالتوں کو بند کر دیا جائے 26ویں ترمیم لائی گئی 27ویں ترمیم لائی گئی اب 28ویں ترمیم کی تیاریاں ہیں
علیمہ خان
🚨قاضی فائز عیسی کا سوشل میڈیا پر انٹرویو دیکھا یہ وہ چیف جسٹس تھا جس نے عمران خان کی جماعت سے انتخابی نشان چھینا یہ وہ شخص ہے جس نے ناانصافی عدالتوں میں لائی اور آج باہر بیٹھ کر انگریزی میں انٹرویو دے رہا ہے ۰
علیمہ خان
علیمہ خان کی گفتگو 🚨
قاضی فائز عیسٰی سپریم کورٹ میں کتنی تکبر سے عمران خان کی بات کرتا تھا، پارٹی کا نشان بھی چھین لیا اور کل انٹرویو میں کہہ رہا تھا کہ سارے فیصلے میرے ہاتھ میں نہیں تھے۔
قاضی فائز عیسٰی ت�� نے اپنے عہدے سے غداری کی
سہیل وڑائچ کو ٹاسک دیا گیا ہے وہ معیشت نہ چلنے اور سیاست نہ کرنے کو بنیاد بنا کرحکومت کے جانے کی بات کر رہے ہیں
معیشت نہیں چل رہی تو کیا حکومت معیشت چلا رہی ہے ؟
سیاست وہ کیسے کریں انہیں سیاسی طریقے سے لا��ا ہی نہیں گیا یہ سب اسٹبلشمنٹ کی ناکامیاں چھپانے کا طریقہ ہے
مطیع اللہ جان
آزاد کشمیر: مشہور کشمیری شاعر اور صحافی احمد فرہاد کو باغ سے 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔احمد فرہاد نے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی اور وہ عبوری ضمانت پر تھے، اس وقت وہ کالعدم قرار دی گئی عوامی تحریک کو رپورٹ کر رہے تھے۔
یہ بالکل درست بات ہے۔۔۔ شاہ محمود قریشی صاحب نے بڑی قربانی دی ہے۔ان کو رہا ہو کر عمران خان سے ملاقات کی کوشش کرنی چاہئے۔ پی ٹی آئی کو اس وقت سیاسی بصیرت اور تجربے کے حامل لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔