السلام و علیکم
اے رب کائنات
تیرے خزانے دولت اور حکمت سے بھرپور ہیں
تو مالک کائنات ہے تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
ہم سب کو صحت و سلامتی دنیا و آخرت کی خیر
و برکتیں عطا فرما ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت
کے عذاب سے بچا آمین صبح بخیر
سلسلہ ایک زمین یا ردیف کئی شاعر
( اس سلسلے کا مقصد کسی طرح بھی شعرا کے درمیان مقابلہ نہیں)
یہ سلسلہ کیسا لگا ضرور بتائیے گا۔ شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اِس کی وہ جانے اُسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو، نبھاتے جاتے
احمد فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے
ہم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
کم نگاہی کے لیے عذر نا چاہے جاتے
کاش اے ابرِ بہاری! تیرے بہکے سے قدم
میری امید کے صحرا بھی گاہے جاتے
ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے
لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
ہے فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے
ہے ترے فتنہء رفتار کا شہرہ کیا کیا
گرچہ دیکھا نہ کسی نے سرِ راہے جاتے
دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
اور کچھ دن غم ہستی سے نبھائے جاتے
شان الحق حقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے
دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے
نقشِ پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے
تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی
اب حذر ہوتا ہے اس راہ سے آتے جاتے
شہرِ بے مہر ! کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا
ایک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے
پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے
دُور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے
ہر گھڑی اک جدا غم ہے جدائی اس کی
غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے
اُ س کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیر
اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے
نصیر ترابی