مولانا فضل الرحمٰن بھی سیاست کے ایسے ڈاکٹر ہیں کہ انجکشن ایک مریض کو لگاتے ہیں، مگر چیخیں پوری وارڈ کی نکلتی ہیں! 🤣🔥
لگتا ہے سیاسی انجکشن بھی بڑا کمال کا ہے! 💉😂
Mosin Naqvi Sahib And Governor Sahib
🔥 مولانا فضل الرحمٰن کا جلسہ، اور مخالفی�� کے سیاسی ایوانوں میں زلزلہ! 🔥
😂 اسٹیبلشمنٹ کے حامیوں ��ور سیاسی مخالفین کی خدمت میں ایک چھوٹی سی ویڈیو حاضر ہے!
ان شاء اللہ! سیاسی دنگل میں اصل امتحان سب کا ہوگا
مولانا فضل الرحمٰن میدان میں ڈٹ گئے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے آخر کس کونے میں پناہ لیں گے؟
ابھی تو سیاسی میچ شروع ہوا ہے، تماشائی بھی دیکھیں گے اور کھلاڑی بھی
سیاست میں دعوے نہیں، میدان میں کردار دکھانا پڑتا ہے!
🔥 یہ سیاسی میچ ان شاء اللہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہی جیتیں گے! 🔥
اب سوال یہ ہے کہ اگر مولانا صاحب نے سیاسی میدان میں بازی پلٹ دی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) والو! پھر آپ ��یا کرو گے؟ 😂
#Goverraj_Na_Manzoor
مولانا فضل الرحمٰن سے سیاسی جنگ جیتنا اتنا آسان نہیں، کیونکہ مولانا صاحب سیاست کی وہ بساط ہیں جس پر چال چلنے والے بھی کئی بار خود مات کھا جاتے ہیں! 😂
#MaulanaInMultan
کل رات جس گاڑی پر یوتھیوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، اگر وہ واقعی اسلام آباد آئی جی کی گاڑی تھی تو یہ سیاسی اندھی عقیدت کی ایک عجیب مثال ہے۔ پہلے تصدیق کریں، پھر جذباتی فیصلے کریں؛ ورنہ سیاست مذاق بن کر رہ جاتی ہے
۔ زندگی چند لمحوں کی مہمان ہے، اس لیے ہر وقت اللہ کو یاد رکھو، نیکی کرو اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھو۔ موت آنے سے پہلے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرو۔
ہے۔
ہم اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے لیے امن چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پشتون علاقوں میں ہمیشہ کے لیے جنگ، بمباری اور خوف کا خاتمہ ہو۔ ہماری آنے والی نسلیں امن کے سائے میں زندگی گزاریں، یہی ہماری سب سے بڑی خواہش ہے۔
پاکستان سے ایک سوال: 14 اگست پشتون کیوں نہیں مناتے؟
پاکستان سے ایک سوال ہے کہ 14 اگست کا دن بہت سے پاکستانیوں کے لیے خوشی، آزادی اور جشن کا دن ہے، لیکن ہم پاکستانی پشتون اس دن کو کیوں نہیں مناتے؟
پاکستان! آپ بہت ظالم ہیں، آپ بہت درندہ ہیں۔ پاکستان سے پاکستانی قبائلی علاقوں پر
اگست نہیں مناتے، کیونکہ ہمارے دلوں میں ابھی بھی اپنے علاقوں کی تباہی، اپنے لوگوں کے خون اور اپنے پیاروں کی جدائی کے زخم موجود ہیں۔ جب تک امن، انصاف، عزت اور برابر کے حقوق کا احساس پیدا نہیں ہوتا، ہمارے لیے جشنِ آزادی کے نعروں سے زیادہ اہم اپنے لوگوں کا درد اور ان کے مستقبل کی فکر