ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔
وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:
’’کیا بات ہے؟‘‘
پڑوسی نے کہا:
’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پ��س کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘
اس نے کہا:
’’ان شاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘
وہ شخص بیان کرتا ہے:
’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔ یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔
نماز ختم ہوئی اور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔
اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔
گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:
’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘
میں نے پوچھا:
’کیوں؟‘
اس نے کہا:
’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا۔ اس میں بیس فلیٹ ہیں۔
کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘
میں بے اختیار پکار اٹھا:
’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘
اس نے کہا:
’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے مختص سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہے—ہمیشہ کے لیے۔‘
وہ شخص کہتا ہے:
’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی، ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا!
میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘
جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔
خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔
اس شخص نے اس سے پوچھا:
’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘
غریب پڑوسی نے جواب دیا:
’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔
البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجت�� رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘
اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔
نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے۔
@Shafiqkhosa90 Topic ,voice pitch،
۔ کلاس 10
ہمارا فزکس ٹیچر::::: مممممم پیچچچچ،،،،، آپ کو پتہ ھے نا عورتوں کی پیچ بڑی ھوتی ھے مممممممم اور مردوں کی پیچ کم۔۔ آآآآآااا ممممم،،، سمجھ تو گئے نااااا
غریب ملک کے امیر بھکاری جو گاڑی پر مانگنے آتے ہیں یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اور انہیں مانگنے پر ہرگز کچھہ نہ دیں۔
آپ اپنی زکوٰۃ خیرات اور صدقات اپنے گھر کے آس پاس اور اپنے محلے میں یا آپ کے جاننے والے جو مستحق لوگ ہیں ان کو دیں۔
آپ سب سے گزارش ہے اس ٹویٹ کو ریٹویٹ کرتے جائیں
انکی بچی کا 4 دن بعد نکاح ہے لیکن ابھی تک انکے پاس کوئی انتظام نہیں
احباب انتظام کردیں تو بیٹی کو عزت سے رخصت کرسکے گیں
لاہور سے77سالہ بیوہ اماں عذرہ بانو جو اکیلی بے سہارا ہیں
کرایہ کے کمرے میں اکیلی رہائش پزیر ہیں اولاد کا بھی سہارا نہیں
محلے کے کچھ لوگ خدا ترسی میں کھانا دے دیتے تھے لیکن اب وہ بھی بند ہوگیا
اماں جی سید ہیں اور بہت نیک عبادت گزار ہیں ہمارے پاس اپنی ماہانہ کمرے کے کرایہ اور راشن کی فریاد لے کر آئی اس عمر میں اکیلی کہا جائے ،
بہت پریشان ہیں انہون نے فریاد کی ہر مہینے آپ میرا ماہانہ 15 ہزار کرایہ اور راشن کی مدد کردیا کریں
ان کو کرایہ اور راشن پہنچانے لیے 20 ہزار درکار ہیں
سنتے جائیے سر دھنتے جائیے ۔۔ پاکستانی تاریخ کا بھیانک سکینڈل ۔تحریر سے متفق ہوں تو شئیر کرتے جائیں شاید ارباب اختیار تک ہماری اواز پہنچ سکے ۔۔ 👇🏾
وہ بچی چینی بول رہی تھی۔ اسلام آباد کی جھگیوں میں۔ کوئی سکول نہیں۔ کوئی ٹیچر نہیں۔ تو پھر اس معصوم کم سن بچی نے یہ زبان کہاں سے سیکھی۔
جب کسی نے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا کہ چینی لوگ ہمارے علاقے میں آتے ہیں۔ ہمیشہ آتے ہیں۔
بس یہیں سے ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جو آپ کو اندر سے ہلا کر رکھ دے گی۔
یہ صرف ایک وائرل ویڈیو نہیں ہے۔ یہ ایک پوری تجارت کا چہرہ ہے۔ ایک ایسا کاروبار جہاں مال ہماری بیٹیاں ہیں۔
اس سب کی شروعات سمجھنے کے لیے چین جانا ضروری ہے۔
چین نے دہائیوں پہلے ایک بچہ پالیسی لاگو کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ آج چین میں مردوں کی تعداد عورتوں سے کروڑوں زیادہ ہے اور جو لڑکیاں موجود ہیں وہ کسی بھی معمولی مرد سے شادی کرنے کو تیار نہیں۔
تو ان مردوں نے نظریں پھیریں اپنے پڑوسی ممالک کی طرف۔ پاکستان۔ بنگلہ دیش۔ میانما��۔ کمبوڈیا۔
پاکستان سب سے آسان ہدف تھا کیونکہ چین اور پاکستان کے سیاسی تعلقات بہت گہرے ہیں۔ سی پیک کے بعد یہاں چینی شہریوں کی آمدورفت اور بھی آسان ہو گئی۔
اس سے فائدہ اٹھایا گیا۔ بھرپور فائدہ۔
یہ لوگ کیسے کام کرتے تھے۔ پہلے ایک دلال آتا تھا۔ کبھی کسی فنکشن میں۔ کبھی گرجا گھر کے باہر۔ وہ غریب عیسائی خاندانوں کو نشانہ بناتا تھا۔ ان سے کہتا تھا کہ ایک امیر چینی تاجر نے آپ کی بیٹی کو پسند کیا ہے۔ کرسچن ہے۔ نیک آدمی ہے۔ بیٹی کی زندگی بدل جائے گی اور ہر ماہ آپ کو بھی پیسے آتے رہیں گے۔
غریب باپ نے سوچا کہ شاید یہی بیٹی کا مستقبل ہو۔
2019 میں اسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیق نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم سے نکالی گئی ایک فہرست میں 600 سے زائد ایسی پاکستانی لڑکیوں کے نام تھے جن کا نکاح چینی مردوں سے ہ��ا تھا اور جو پھر واپس نہیں آئیں۔ ہر نام کے ساتھ شناختی نمبر۔ شوہر کا نام۔ نکاح کی تاریخ۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپریل 2019 میں خبردار کیا کہ یہ لڑکیاں چین میں جنسی غلامی کے خطرے میں ہیں۔
وہاں جا کر انہیں پتہ چلتا تھا کہ شوہر ک��سچن نہیں ہے۔ اور جو وعدے کیے گئے تھے وہ سب جھوٹ تھے۔ انہیں چین کے دور دراز دیہی علاقوں میں قید کر دیا جاتا تھا جہاں پولیس کی رسائی نہیں ہوتی تھی۔ پھر انہیں مجبور کیا جاتا تھا اپنا جسم بیچنے کے لیے۔
ایک لڑکی کی قیمت اس بازار میں 65 ہزار ڈالر تک پہنچتی تھی۔ ماں باپ کو ملتے تھے صرف 1500 ڈالر۔ باقی سب دلالوں کی جیب میں جاتا تھا۔
ایف آئی اے نے ایکشن لیا۔ چھاپے مارے۔ 52 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن پھر وہی ہوا جو پاکستان میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ گواہ پیچھے ہٹ گئے۔ کوئی ڈرا کر۔ کوئی خریدا گیا۔ عدالت نے 31 چینی ملزمان کو بری کر دیا۔ جنہیں ضمانت ملی انہیں فوری ملک سے باہر بھیج د��ا گیا۔ تحقیق کاروں پر دباؤ ڈالا گیا کیس بند کرنے کا۔ صحافیوں کو کہا گیا کم لکھو۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی محققہ مادیہ افضل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان نے انصاف کی بجائے چین سے اپنے تعلقات کو ترجیح دی۔
اور پھر دنیا کو لگا یہ سب بند ہو گیا۔
لیکن بند نہیں ہوا۔
مارچ 2025 میں ٹریبیون پر ایک خبر شائع ہوئی۔ ایف آئی اے نے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا جو پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے بہانے اسمگل کر رہا تھا۔ متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ اسے اچھی نوکری اور شادی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اسی سال ایف آئی اے نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک اسمگلنگ نیٹ ورک کو اس وقت پکڑا جب وہ راولپنڈی سے خواتین کو چین روانہ کرنے والا تھا۔ کاغذات کا بغور جائزہ لینے پر حکام کو شک ہوا اور گرفتاریاں ہوئیں۔
چین کے سرکاری پراسیکیوٹر کے دفتر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 1546 افراد کو انسانی اسمگلنگ اور جعلی شادیوں کے جرائم میں گرفتار کیا گیا۔ یعنی یہ کوئی ماضی کی بات نہیں ہے۔ یہ آج بھی ہو رہا ہے۔
اب اس بچی کی ویڈیو کی طرف واپس آتے ہیں۔
وہ بچی جو اسلام آباد کی جھگی میں رہتی ہے اور روانی سے چینی بولتی ہے۔ وہ بچی جو کہتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے یہاں ہمیشہ آتے ہیں۔
کیا یہ محض سیاحت ہے۔
کیا یہ محض کاروبار ہے۔
پاکستان کی حکومت کو 2019 میں بھی معلوم تھا۔ ایف آئی اے نے رپورٹ سیدھی وزیراعظم عمران خان کو بھیجی تھی جس میں 52 چینی شہریوں اور 20 پاکستانی ملزمان کی تفصیل تھی۔ پھر بھی کچھ نہیں بدلا۔
یہ خاموشی جرم ہے۔
اگر ہمارے اندر تھوڑی بھی غیرت باقی ہے تو اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ اپنے حلقے میں بات کریں۔ اداروں کو بتائیں کہ پاکستان کے غریب علاقوں میں ایک ایسا کاروبار چل رہا ہے جہاں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو تجارتی مال سمجھا جاتا
سیالکوٹ :
ٹریفک وارڈن نے ایک پاکستانی شہری کا اوورسیز لائسنس پھاڑ دیا ،
اوپر سے لے کر نیچے تک سب فرعون ہیں ، جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے مگر پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں
اس .معذور بچی کی پوسٹ ہر دفعہ ریپوسٹ ہوتی ہے اور الحمداللّہ ہر دفعہ اسکے لئیے کہیں نہ کہیں سے مدد آ جاتی ہے
12 ہزار مذید آیا، پہنچایا، بیشک ان دعاؤں میں آپکا بھی حصہ ہے