پشاور شمشتو میں اسکول بس پر IED حملہ - معجزانہ طور پر جانی نقصان سے محفوظ*
یہ حساس ہدف پر حملہ خیبرپختونخوا حکومت اور پولیس کی کھلی ناکامی ہے۔
جب دشمن نیٹ ورکس KP کو نشانہ بنا رہے ہیں، PTI حکومت اور سہیل آفریدی کی تمام توجہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر ہے،
2 کروڑ 30 لاکھ انسان امداد کے لیے در بدر: وسائل پر خیمہ زن نااہل حکمران اپنی عوام کو کھلے آسمان تلے لاوارث چھوڑ کر بے حسی اور ڈھٹائی کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں!
_سنٹرل کرم آپریشن_
حالیہ IED دھماکوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کا خوارج کے خلاف بھرپور آپریشن جاری۔ افغان طالبان اور TTP کو شدید نقصان، کئی دہشت گرد ہلاک۔ عوام سے اپیل ہے کہ پروپیگنڈا سے بچیں اور مستند معلومات پر بھروسہ کریں۔
*کرم میں بڑا آپریشن:* IED دھماکوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کا فتنہ الخوارج (TTP) اور TTA کے خلاف بھرپور آپریشن جاری، شدید فائرنگ۔ متعدد دہشت گرد ہلاک، ٹھکانے اور نیٹ ورک تباہ، بھاری نقصان۔ راستے عارضی بند، کچھ خاندان محفوظ مقام منتقل۔ حتمی سرکاری تصدیق آنا باقی۔
واپسی کے بعد بھی روٹی، علاج اور کرایہ قرض پر: %63 ریٹرنی خاندانوں کو مناسب خوراک تک رسائی نہیں، جبکہ% 90 کا قرض واپسی کے بعد مزید بڑھا—5 سال بعد بھی بحالی عالمی امداد کی محتاج!
97 ارب کا کے پی سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ 5 شہروں کے لیے ہے۔
اس میں 32 ارب کی مبینہ بے ضابطگی کا انکشاف ہوا ہے۔
غیر رجسٹرڈ کمپنی کو بغیر کام کے اربوں ادا کرنے کا الزام ہے۔
جولائی 2025 میں PAC اور آڈٹ نے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
خیبر پختونخوا کے 97 ارب کے سٹیز پراجیکٹ میں 32 ارب کی مبینہ کرپشن کا انکشاف
نیب نے 3 ٹھیکیداروں کو 22 ستمبر کو طلب کر کے بینک اکاؤنٹس اور مالی ریکارڈ مانگ لیے
ٹینڈرز میں خلاف ورزی اور کم کام کے باوجود بھاری ادائیگیوں کی تحقیقات جاری
97 ارب میں سے 32 ارب کا ڈاکہ
خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبے میں ایک تہائی بجٹ کی کرپشن محض غفلت نہیں، منظم لوٹ مار ہے۔ زمین پر کام صفر، مگر افسران اور پسندیدہ ٹھیکیداروں کو اربوں کے ایڈوانس جاری۔ نیب کی طلبی ثابت کرتی ہے کہ یہ عوامی فنڈز پر سوچا سمجھا معاشی ڈاکہ ہے۔
مغربی افغانستان میں غربت اتنی بڑھی کہ لوگ گردے بیچنے پر مجبور، ہرات کی بستی "ایک گردے والا گاؤں" بن گئی۔ طالبان کی پابندی کے بعد بھی یہ دھندہ خفیہ جاری ہے اور دہشتگرد اسی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر بھرتیاں کر رہے ہیں۔
پکتیا کے طوطا خیل میں طالبان اور مزاحمتی فورسز میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
طالبان کی سخت پالیسیوں سے عوام میں غصہ اور مسلح مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
طالبانی حکومت امن قائم کرنے میں ناکام اور اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔