جب ہندوستا�� کے ساتھ جنگ کا معاملہ آیا تو ہم نے اپنے ملک اور قوم کا ساتھ دیا۔ جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو بھی ہم نے اصولی مؤقف اختیار کیا۔ لیکن ہم غلامانہ طرزِ فکر اور غلامانہ سیاست کے حامی نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمن صاحب
آج بھی دو ہزار چوبیس کے الیکشن کی روش برقرار ہے، جتنے ضمنی الیکشن ہوئے ہیں عینی شاہدین، کہ آج بھی شکست خوردہ لوگ جو ضمنی الیکشن میں ہار چکے ہیں ان کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ پانچ ہزار ووٹ لینے والا ہارا ہوا ہے اور پانچ سو ووٹ لینے والا جیتا ہوا ہے، شرم انی چاہیے اس انتخابی نظام کو، اس الیکشن کمیشن کو اور ان قوتوں کو جو اس قسم کے نتائج کے لیے اپنے ریاستی قوت کو استعمال کرتے ہیں، کیا تبدی��ی آئی ہے تمہارے اندر؟
اگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم خوشامد کر کے سیاست کریں گے تو یہ جمعیۃ علماء اسلام کی روش نہیں ہے، یہ جمعیۃ علماء اسلام کی تربیت نہیں ہے، ہم نے سر اٹھا کر چلنا سیکھا ہے اور اپنے اکابرین سے سیکھا ہے اور وہی روش چلے گی، کہاں تک جانا چاہتے ہو یہ آپ بتائیں، ہم آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ سمندر نے کہا مچھلی سے کب تک تیرتے رہو گے؟ تو مچھلی نے کہا جب ��ک تیرے اندر موجیں مارنی کی طاقت ہے اس وقت تک میرے اندر تیرنی کی بھی طاقت ہے۔
اس حوالے سے ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو بہت بڑا اجتماع ہوگا اور اچھا میلہ لگے گا ان شاءاللہ اور عوام کو اعتماد دلائے جائے گا کہ آپ تنہا نہیں ہیں، کوئی تو ہے جو آپ کے پشت پر کھڑا ہے اور آپ کے حق کی بات کر رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں اہم پریس کانفرنس
#نکلو_مولانا_کے_سنگ