Haris Rauf in the crunch moments.
2022 WC vs India – Conceded 15 runs in the 19th over.
2024 WC vs USA – Failed to defend 15 runs in the final over.
Today vs India – Conceded 50 runs.
#PakistanCricket#PAKvsIND#INDvPAK
پاکستان کو ہار کُھلے دل سے قبول کرنی چاہیے، اپنی غلطیاں دیکھیں ب چ کوئی کلب لیول کی ٹیم بھی اتنا گھٹیا نہیں کھیلتی، 113 پر 1 آؤٹ، 146 پر سارے آؤٹ.. اوپر سے کیچ چھوڑ رہے، رن آؤٹ کے چانسز مس کررہے یہ بھڑوے.. اچھا ہوا ہار گئے 🤬🤬
#indvspak2025#INDvsPAK#PakistanCricket
@faizanlakhani He ruined other bowlers effort , if that was the case then why did other bowlers perform so well?
He can do his best but he conceded 50 runs...just for defending 147..🤦🏻
Pakistan with 241.5 million people… yet real talent remains unseen — maybe because they lack the right links with PCB. 🤦♂️
Pakistan cricket is heading towards a funeral, just like so many other sports in the country. #Cricket#PakistanCricket#PAKvsIND@TheRealPCB
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے کیونکہ یہ کیس جس شخص کے بیان کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا وہ گواہ ہی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔ اس کیس کو مزید کھینچنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہ بریگیڈیئر احمد اور کرنل ریحان نے بھی یہ بیان ��یا ہے کہ توشہ خانہ سے لیے گئے تحفوں کے کاغذات مکمل تھے۔ لیکن تمام ثبوتوں اور سرکاری گواہوں کے جھوٹے ثابت ہونے کے باوجود کیس کی سماعت جاری ہے۔ اگر سیاسی انتقام ہی مقصد نہ ہو تو اس جھوٹے کیس میں بھی میری اور بشرٰی بیگم کی بریت اسی ہفتے ہو جانی چاہیئے۔ جمعرات کو القادر کیس کی بھی بالآخر تاریخ دے دی گئی ہے۔ مجھے اب بھی امید ہے کہ عدالت میرٹ اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے ان مقدمات میں انصاف دے گی اور اس جھوٹے کیس میں رہائی ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے کرکٹ اور عاصم منیر نے پاکستان کا ایک جیسا حال کر دیا ہے۔ پاکستان میں ہر ادارہ اس وقت تباہی کا شکار ہے۔ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پ��ری قوم شوق سے دیکھتی ہے۔ کرکٹ کو بھی جب سے منظور نظر محسن نقوی کے حوالے کیا گیا ہے تباہی ہی تباہی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے 2021 میں بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی اور تب ایک باعتماد ٹیم تھی-
ان کے پاس میچ جیتنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ عاصم منیر اور محسن نقوی کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر بھیجا جائے اور سکندر سلطان راجہ، قاضی فائز عیسٰی کو امپائرنگ دی جائے اور ڈوگر کو تھرڈ امپائر بنا دیا جائے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ کو جیتنے کا یہی ایک طریقہ معلوم ہے
عاصم منیر کو سوچنا چاہئے کہ اپنے ناجائز اقتدار کو طول دینے کے لیے اس نے کیا کچھ کیا ہے:
سب سے پہلے جمہوریت ختم کی- 9 مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جو مجھے دو تہائی اکثریت دی اسے چھین کر اقتدار ان چوروں کے حوالے کر دیا گیا جنھوں نے عوام کا پیسہ لوٹنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ باوجود ڈکٹیٹرشپ کے مشرف کو اگر کوئی عوامی حمایت حاصل تھی تو اس کی دو وجوہات تھیں: ایک، اس نے میڈیا کو آزاد کیا تھا۔ دو، وہ ملک کے دو کرپٹ ترین خاندانوں یعنی شریف و زرداری خاندان کا احتساب کر رہا تھا۔ اب اسی سزا یافتہ کرپٹ مافیا کو دوبارہ ملک پر مسلط کر کے ملک کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
دوسرا، چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری سلب کر کے اسے ایک سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ ججز قابل تحسین ہیں جو آج بھی قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ججز پوری قوم کے ہیروز ہیں اور پوری قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے جنھوں نے ان کٹھن ترین حالات میں بھی حق کا علم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب، وہ ججز جو عاصم لأ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں، انھیں نہ تو تاریخ اور نہ ہی یہ قوم کبھی معاف کرے گی۔
تیسرا ملک میں ظلم کا بازار گرم کیا گیا، اخلاقی نظام کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کی گئیں- لوگوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ملٹری ٹرائل کر کے غیرقانونی سزائیں دی گئیں، اور یہ سلسلہ بنا کسی احتساب کے خوف کے جاری ہے۔
اپنی جماعت بالخصوص، علی امین ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر، کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اگر کوئی بات کرنی ہے تو اڈیالہ جیل آ کر مجھ سے کریں۔ آپ ان سے جتنی مذاکرات کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنا ہی ظلم و ستم کی شدت بڑھا کر ہماری جماعت کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کس قدر غیر انسانی عمل ہے کہ گوجرانوالہ میں دو سال سے بےگناہ قید قاسم کھوکھر کا بروقت علاج نہیں کروایا گیا جس سے اس کی جیل میں ہی موت واقع ہو گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی ورکرز جیل سے آ کر فوت ہو چکے ہیں۔۔۔ میں ان کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔
27 ستمبر کے پشاور جلسے میں پوری قوم شرکت کرے۔یہ جلسہ قانون کی بالادستی، آزاد میڈیا �� خودمختار عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ہے اس لیے پوری قوم کو یک زبان ہو کر نکلنا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور اس جلسے کے انتظامات کریں اور جنید اکبر ان کا ساتھ دیں۔ پوری پارٹی اور ورکرز اس جلسے کو تاریخی بنانے کے لیے محنت کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو 22 ستمبر ، 2025
Happy birthday sir Abhishek 🙏🏻 🎂 hope you take as many singles this year as many as you knock out of the park 🤪 Keep putting in the hard work! loads of love and wishes for a great year ahead! ❤️ @IamAbhiSharma4