صوبیدار کے بیٹے کو اعزازی شمشیر دے کر وزیرستان یا خضدار بھیجیں گے آرمی چیف کا داماد بھتیجا فوج سے س��ل سروس میں لے آئے ہیں۔
ہمیں علم ہے یہ میرٹ والی کیسی فلم ہے۔
پاک فوج جس دن تسلیم کرلے گی کہ قوم کو اس سے نفرت ہوگئی ہے اس دن پاک فوج اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس نفرت ختم کرنے کا ایک ہی رستہ ہے جو سیدھا بیرکوں اور مورچوں کو جاتا ہے اور اس سڑک کا پہلا سٹاپ اڈیالہ ہے۔
جب تک فوج خود کو دھوکہ دیتی رہے گی ، خود سے جھوٹ بولتی رہے گی فوج کی ذلت بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ہزاروں لاکھوں لوگ فوج پر ہنس رہے ہیں۔ جنازوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔ نہ فائر وال کام آئی ہے نہ چالیس نیوز چینلز کام آئے ہیں نہ آئی ایس پی آر کی ا��بوں روپے کی مہمات۔
یہ نفرت آسمان سے نہیں اتری ، کسی بھارتی، کسی جمائما ، کسی اوورسیز کسی یوٹیوبر کے کہنے سے نہیں آئی۔ یہ ذلت فوج نے بہت محنت سے کمائی ہے۔ فوج کے ساتھ جو ہورہا ہے اسکی ذمہ دار فوج ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں اتنا بہادر آدمی نہیں دیکھا!
باقی نیلسن منڈیلا، ولادیمیر لینن, مہاتما گاندھی, ماؤ زی تنگ, چی گویرا یا فیڈل کاسترو ہو انکی کہانیاں سنی ہے, لیکن عمران خان کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہےہیں!!
عمران خان ہمارے معاشرے کی ساخت کو سمجھ گئے تھے جب ان سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ آپ نے پارٹی میں کچھی ایسے لوگ لے لئے ہیں جن پہ سوالات اٹھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا تھا فرشتے کہاں سے لاؤں؟ ہم عام لوگ ڈر جاتے ہیں یا ہمیں خواہشات فتح کرلیتی ہیں عمران خان ایک ہی ہے!
کیا کوئی تصور بھی کرسکتا ہے کہ دنیا کے ایک”جمہوری” ملک کی فوج نےایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کو تین سال سے قید میں ڈال رکھا ہو، بیوی بھی جیل میں اور بہنیں بھی۔
خاندان اور وکیلوں سمیت کسی سے ملاقات کرنے کی بھی اجازت نہ ہو۔ کونسا ملک ہوسکتا ہے بھلا؟
چار ہمسائے ہیں۔ تین دشمن بنا لیے ہیں۔ تینوں سے تجارت بند ہے۔ چوتھے سے مہنگے قرضے لیے اب اسکے پراجیکٹس بھی ویران کردیے۔ پانچ صوبے ہیں۔ ایک میں فوج موومنٹ نہیں کرسکتی۔ دوسرے میں گورنر راج ، تیسرے میں کٹھ پتلی حکومت اور چوتھا حمایت کے بدلے ٹھگوں کو دے رکھا ہے پانچویں میں بھی عوامی نماندہ حکومت نہیں۔ ملحق ریاست میں شدید احتجاج دھرنے چل رہے ہیں۔
کچھ عرصے بعد کوئی جرنیل کہے گا یہ سارا سیاسی مسئلہ تھا۔ سیاستدانوں کی کمزوریاں تھیں۔ ملک ہی ایسا تھا۔ گرمی ہے بہت تھی۔ دور ہی بہت تھا۔
نہ لہجے میں اعتماد نہ آواز میں جان نہ تقریب میں موجود افراد سے آنکھیں ملا کر بات کرنے کی جرات ۔ پرچیاں دیکھ کر پڑھنے والے ادارے کے سربراہان کا یہ حال یہ تو سوچیں باقیوں کا کیا حال ہو گا؟!
اسی لیے انہیں پرچیاں پڑھنے والے سیاست دان پسند ہیں، کیونکہ وہ بھی انہی کی طرح نااہل اور نالائق ہیں۔
عمران خان سے حسد اور احساسِ کمتری میں مبتلا ہو کر یہ لوگ اپنی انا کی تسکین تو کر رہے ہیں، مگر اس کی قیمت پورا ملک تباہی کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔