ضروری تو نہیں کہ ہر انسیسٹ کا آغاز لڑکے کی طرف سے ہو، کچھ میری بڑی بہن جیسی گرم گشتیاں بھی ہوتی ہیں
جنہیں مرد دیکھ کر صرف اُس کا لوڑا نظر آتا ہے آپس کا رشتہ نہیں جب ان کی چوت کی گرمی انہیں لن لینے پر مجبور کردے تو بڑے مزے سے خود سواری کرتی ہیں
آج کل کی مدرسے والی بچیاں بھی بارہ پندرہ کی عمر میں بوائے فرینڈ بنا لیتی ہے اور اُن کے لیے ننگی ہونے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی
اور اس کی وجہ والد ہیں جو بچپن سے انہیں اس کام کی لت لگاتے ہیں۔ جب لالی پاپ کی جگہ لوڑا چسایا جائے گا تو بیٹی رنڈی ہی بنے گی
یہ کام کس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ میں نے ماما جان اور چچی دونوں کے ساتھ ایسے مزے کیے ہوئے ہیں۔ اُن کی ٹانگیں دباتے ہوئے کئی بار پھدی مسل کر اُنہیں مزا دیا ہے
چچی جان تو کئی بار فل گرم ہوکر خود میرا ہاتھ پکڑتی ہیں اور اپنی شلوار میں ڈال دیتی ہیں
چھوٹی بہنیں تو بچپن سے ہی بڑے بھائی کو گود میں بی��ھ کر پیار لینے کی عادی ہوتی ہیں
فرق اتنا ہے کہ تھوڑی جوانی چڑھنے پر دونوں کے کپڑے اتر جاتے ہیں اور بھائی کے دلائے گئے لالی پاپ کی جگہ اُس کا لوڑا لے لیتا ہے
جب تک ایسے ہینڈسم اور تگڑے لوڑے والے دیور گھروں میں موجود ہیں ہم عورتوں کو پھدی کی آگ بھجانے کے لیے کسی نامحرم کی ضرورت نہیں
دیور کے ساتھ ہم بستری بیک وقت بھائی اور بیٹے دونوں سے چدوانے والا مزا دیتی ہے
جس کے پاس اتنی پیاری مکھن ملائی جیسی طلاق یافتہ یا بیوہ ماں ہو اس بیٹے کو نہ کسی گرل فرینڈ کی ضرورت ہے نا بیوی کی
میں اس لڑکے کی جگہ ہوتا تو پوری زندگی اپنی امی جان کے ساتھ ہی بیوی والا رشتہ بنا کر رکھنے کو ترجیح دیتا
بس یہی ہے ہماری پارسا پردہ دار بہنوں کی اصلیت۔ گھر سے جاتے ہوئے جو دکھاوے کا پردہ کر کے نکلتی ہیں وہ ان کی پھدیوں کے اندر جل رہی آگ کو نہیں بھُجا سکتا
اس کام کے لیے اُنہیں شہر کے بدنامِ زمانہ ہوٹلوں میں جا کر اپنے یاروں کے ساتھ رنگ رلیاں منانا پڑتی ہیں
ہر بیٹا بچپن سےماں کو ایک شریف عورت کے روپ میں دیک��تا ہے جو کوئی غلط کام کرنا تو کیا اس بارے سوچتی بھی نہیں لیکن نوجو��نی میں حقیقت کھل جاتی ہے
میری آنکھیں تب کھلیں جب بارہ سال کا تھا اور ابو کی غیر موجودگی میں والدہ کو چچا کے لن پر ایسے ہی اچھلتے دیکھا
حالانکہ شوہر کا بھی لوڑا اچھے سائز کا ہے جو کسی بھی لڑکی کے پھدی پھاڑ کر رکھ سکتا ہے لیکن پھر بھی اُن کے سامنے نامحرم کا لوڑا لینے کا اپنا ہی مزا ہے
جب نامحرم مرد میرے اوپر چڑھ کر پھدی کھول کر مجھے کسنگ کرتا ہے تو میرے شوہر کا لوڑا پتھر جیسا سخت ہوجاتا ہے
ہر بیٹا بچپن سےماں کو ایک شریف عورت کے روپ میں دیکھتا ہے جو کوئی غلط کام کرنا تو کیا اس بارے سوچتی بھی نہیں لیکن نوجوانی میں زیادہ تر حقیقت کھل جاتی ہے
میری آنکھیں تب کھلیں جب بارہ سال کا تھا اور ابو کی غیر موجودگی میں والدہ کو چاچو کے بستر میں دیکھا
اگر آپ بھی ایک نوکری پیشہ آدمی ہیں اور آپ اپنے دفتر میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی پانا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس سب سے بہترین آپشن اپنی بیوی کو استعمال کرنا ہے
اپنی بیوی کو اپنے باس کی رنڈی بنائیں اور جتنا چاہے پیسا کمائیں
گھوڑی بنا کر چودنا اور کسے پسند ہے سب سے زیادہ ؟
مجھے یہ پوزیشن اس لیے سب سے زیادہ پسند ہے کہ جب میں اپنی بہن کو گھوڑی بنا کر چودتا ہوں تو میرا آٹھ انچ کا لن اُس کی بچہ دانی پر لگتا ہے اور وہ مزے سے تڑپ اٹھتی ہیں اور جنگلی کتیا کی طرح چدوانے لگتی ہیں
جب تک ایسے خوبصورت بدن والی سگی بہن گھر پر موجود ہو تو بیوی لانا بھی جرم ہونا چاہیے
��ہن بھائی کو چاہیے کہ جتنا عرصہ ہوسکے زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے مزے لیں اور پھر شادی کروائیں تاکہ سیکس میں پہلے سے ہی ماہر ہوچکے ہوں
سسرال والوں نے چود چود کر باجی کے گلاب جیسے بدن کا یہ حال کر دیا ہے کہ پیٹ بھی نکل آیا ہے اور ممے بھی لٹک گئے
لیکن قربان جاؤں کہ میری بہن کے چہرے پر آج بھی ویسی ہی تروتازگی اور رونق ہے۔ ایک ایسی ویڈیو بھیج کر موڈ فریش کردیتی ہے