@chaudhry_khaula@Umar8804 یہ واپس نہ جاتا تو صبح تک دھرنے میں شہدا کی تعداد ہزاروں میں ہونی تھیں
کیا اپ کو علم نہیں اس دن ریاست کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اپکا وزیر داخلہ سرعام قتل کی دھمکی سٹیٹ میڈیا پر دے جکا تھا
لوگ مختصر عرصے کے لیے لڑنا یا جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ انکی اکثریت جلد نتائج مانگتی ہے۔ حالانکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سے عوام کی یہ لڑائی دراصل اعصاب کی ایک لمبی جنگ ہے۔ اس میں وہی جیتے گا جو صبر اور استقامت سے کام لے گا۔ مجھے گزشتہ چند دنوں میں کئی ایسے لوگوں سے مایوسی کی بو آئی جو شروع میں کافی مضبوط دکھائی دیتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اسی لیے انسان کو صبر کی اہمیت بار بار کلام پاک میں بھی بتائی۔ اسٹیبلشمنٹ یہ جانتی ہے کہ وہ لڑائی جتنی لمبی کھینچیں گے عملی جدوجہد والے اتنے مایوس ہوں گے مگر لوگوں کی مایوسی کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہو گئے ہیں بس وہ کوشش روک دیں گے یا کم کر دیں گے لیکن جیسے ہی کوئی امید جاگے گی تو پھر اکٹھے ہو جائیں گے۔ لہذا مایوس ہونے یا مایوسی پھیلانے کی بجائے ایک دیا جلائیے تاکہ روشنی بڑھے۔
بکواس نسلیں
کبھی امریکن پاکستانی ڈاکٹرز کا لائف سٹائل دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں۔ لیکن فوج نے انہیں بھی گھیر لیا۔ پروٹوکول ، پاکستان میں چھوٹے موٹے کام کاج اور ایک آدھ افسر سے تعلقات۔ یہ بس یہیں مر گئے۔ کیسے کیسے برج تھے جو رجیم چینج میں الٹ گئے دور سے کتنے معزز لگتے تھے۔ بڑے بڑے خان ، چوہدری اور وڈیرے فارم سینتالیس کا تھوک چاٹ کر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ تو نظریاتی تھے۔ اصول پرست تھے۔ وہ تو سب سے زیادہ گندے نکلے۔ جس چیز پر ساری زندگی تنقید کرتے رہے اسی کے حمایتی بن بیٹھے۔
زمین سے اٹھا اٹھا کر لوگ اقتدار کے آسمانوں پر پہنچائے گئے۔ جو یہ ہیرے تراشتا رہا اسکی مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں۔ جن کو اقتدار حکومت مل گیا وہ مڑ کر اسکی خبر بھی نہیں لیتے۔ جس کو جہاں جتنا حرام کمانے کا موقع ملتا ہے وہ کما رہا ہے۔ با عدلیہ سے کوئی بوجھ اٹھاپارہا ہے، نہ انتظامیہ سے ، اس ملک کے کسی ادارے میں کسی بھی قسم کی کوئی غیرت نہیں۔
کھلی آنکھوں سے ناانصافی دیکھتے ہیں ، ظلم دیکھتے ہیں خاموش رہتے ہیں۔ جس کے سینے میں خنجر چلتا ہے وہ ایک چیخ نکالتا ہے جو باقی سب سنتے بھی نہیں اور وہ خنجر پھر اپنا نیا شکار ڈھونڈ لیتا ہے۔ نہ علماء سے کچھ بن پایا نہ وکلاء سے۔ نہ عوام کچھ کرپائے نہ حکمران کچھ کر پائے۔ لیڈر شپ والے تو جیسے ساری کوالٹیز ہی اس ملک میں ناپید ہوچکیں۔ پھر ہم جیسے بچتے ہیں تو منہ چھپا کر چند لفظی نشتر چلا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق بھی ادا ہوا۔ یہ بکواس نسلیں ہیں۔
ہم ایک ملاقات نہیں ہم چاہتے ہیں عمران خان کے سارے حقوق بحال کریں یہ ایک ملاقات کراکے پھر چھ مہینے کے لئے قید تنہائی میں ڈال دیں گے، ان کی ملاقاتیں بحال ہوں ان کا ہسپتال میں علاج ہو ، ان کا ٹی وی ان کی اخبار کتابیں تمام حقوق بحال کیے جائیں ان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔ علیمہ خان
عمران خان کو عاصم منیر کی جیل میں جھوٹے مقدمات میں بیگناہ قید ہوئے 1058 اور بشریٰ بی بی کو 792 دن ہو چکے ہیں اور گزشتہ آٹھ ماہ سے عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی بدترین قید تنہائی میں ہیں، اس دوران عمران خان کی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے، عمران خان کو نہ ان کی فیملی، نہ ذاتی معالجین اور نہ ہی ان کے وکلاء سے ملنے دیا جاتا ہے، آج عمران خان کی غیر قانونی قید تنہائی کے خلاف ان کی بہن علیمہ خان کی درخواست او�� بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف ان کی بیٹی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں لگی ہوئی ہے۔
#ReleaseImranKhan
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
"عمر سعد بننے سے ڈرتا ہوں"
ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب مرگ گلرنگ سے منسوب.
کربلا کے المیے میں تین کردار نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں:
پہلا کردار: حسینؑ
وہ جو باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔
حق کی راہ پر آخر دم تک ڈٹے رہتے ہیں۔
اپنے اہلِ خانہ اور جانثار ساتھیوں کی قربانی پیش کرتے ہیں،
لیکن مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
وہ اپنے ہدف کی قیمت جان دے کر ادا کرتے ہیں
اور اسی قربانی کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں۔
ان کا خون، تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔
دوسرا کردار: یزید
وہ جو سب کو اپنی اطاعت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
اختلاف کو برداشت نہیں کرتا۔
اپنی ضد پر اڑا رہتا ہے، چاہے نواسۂ رسولؐ کا سر قلم ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
وہ اپنی دنیا سنوارتا ہے،
مگر ضمیر اور تاریخ دونوں کے ہاتھوں رسوا ہو جاتا ہے۔
جو پاتا ہے وہ ظاہری اقتدار ہے،
اور جو کھوتا ہے وہ ابدی نجات۔
تیسرا کردار: عمر سعد
مورخین کے مطابق، وہ آٹھ محرم تک تذبذب اور کشمکش میں مبتلا رہا۔
دل چاہتا ہے کہ خدا بھی ناراض نہ ہو، اور یزید بھی خوش رہے۔
چاہتا ہے کہ حسینؑ کی رضا بھی مل جائے،
اور ری کی حکومت بھی ہاتھ سے نہ جائے۔
دنیا کی عزت بھی درکار ہے،
اور آخرت کی نجات بھی مطلوب۔
وہ نہ اقتدار کی حرص چھوڑ سکتا ہے،
نہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی جرأت کر پاتا ہے۔
یعنی: “ہم آب میخواهد، ہم خرما” —
یہ بھی چاہیے، وہ بھی چاہیے۔
لیکن انجام کیا ہوتا ہے؟
نہ حکومت ملتی ہے، نہ عزت بچتی ہے۔
نہ دنیا ہاتھ آتی ہے، نہ آخرت سنورتی ہے۔
صرف ندامت باقی رہ جاتی ہے… ہمیشہ کے لیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم جیسے عام لوگ نہ حسینؑ جیسی جرأت رکھتے ہیں، نہ یزید جیسی طاقت و وسائل۔
مگر سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ:
ہم میں اکثر عمر سعد بننے کے قریب ہوتے ہیں — وہ جو فیصلہ نہیں کر پاتا، اور سب کچھ کھو بیٹھتا ہے.
سب سے زیادہ خوف مجھے اُس کردار سے ہے…
جو حق کو پہچان کر بھی خاموش رہتا ہے.
میں عمر سعد بننے سے ڈرتا ہوں.
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
@PakForeverIA پرتگال کی ٹیم بہتر ہے فرق صرف یہ ہے میسی کے ساتھ ٹیم کمبینیش اچھا ہے۔۔
میسی ملک کیلئے زیادہ اچھا کھیلتا ہے جبکہ رونالڈو کلب لیول پر بران�� ہے ۔
تقریبا دو سال پہلے پی ٹی آئی سے جب لوگوں کو چن چن کر کمپنی اپنے ساتھ ملا رہی تھی تو انہیں بتایا گیا تھا کہ کھل کر کھیلو، عمران خان اب کبھی دن کی روشنی نہيں د��کھے گا۔ 😡