عاصم منیر تم ملک میں ایک گالی بن چکے ہو۔ میں چاہتا ہوں تم فیلڈ مارشل رہو، اپنی وجہ سے تم فوج کو گالیاں پڑوا رہے ہو! میرے گھر کے دروازے پر تمہاری جانب سے بھیجے گئے اس جرائم پیشہ کو سنو۔ میرے دروازے پر کھڑا آدمی مولانا فضل الرحمن اور مفتی محمود کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہے۔
میرے خلاف نعرے لگاتے! یہ ایک کرنل اور پولیس کے زیرِ سایہ آئے۔
پھر جب مولانا اور دیگر کہتے ہیں کہ کور کمانڈرز کے گھر کے باہر جائیں گے، کیا کور کمانڈرز کے گھر کا تقدس ہمارے گھروں سے زیادہ ہے؟ کیوں نہیں کوئی جائے گا!
تم اس ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہو۔ ایوب خان نے بھی غنڈوں کو استعمال کیا تھا۔ ایوب خان مر گیا اور لوگوں نے اس کے غنڈوں کو بھی مار دیا۔
یہ میرے گھر کے دروازے پر کھڑا تمہارا نیا کور کمانڈر، یہ اسکی تقریر رہی، اور یہ اسکے خلاف تمام FIR's۔ یہی آدمی ملا تھا؟
عمران خان کی بہنوں کو سلام۔ نورین نیازی نے جو کہا ہے کے پاکستان اسرائیلی پیس بورڈ میں شامل تھا کوئی غلط بات نہیں کی۔ سارا پختونخوا آج علیمہ خانم کے ساتھ نکلا ہوا ہے!
اپنے شہداء کی توہین تذلیل اور تحقیر جو تم لوگوں نے کی ہے وہ کسی اور نے نہیں کی اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہو کرنل شیر خان کا جنازہ ہم نے ہندوستان کے اصرار کے بعد وصول کیا ہے تم نے اپنے شہداء ہندوؤں کے حوالے کیے تم ان کے جنازے وصول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے تم نے اپنے شہداء کو ہندوؤں کے حوالے کیا اور وہاں سے ایک بیان آیا کہ ہم نے انہیں اسلامی طریقے سے دفن کر دیا ! مولانا فضل الرحمان
His Royal Highness Prince Mohammed bin Salman, Crown Prince and Prime Minister of Pakistan, Muhammad Shehbaz Sharif, signed the “Strategic Mutual Defense Agreement”. The agreement states that any aggression against either country shall be considered an aggression against both.
Celebrating a defence partnership. This is a unique song which says that Pakistan and Saudi Arabia are brothers in faith. This song is dedicated to the mutual strategic defence agreement between the two countries.
غفلت کا اندازہ کریں حادثہ کی جگہ سے ڈپٹی کمشنر کا آفس 3 کلو میٹر اسسٹنٹ کمشنر کا آفس 4 کلو میٹر اور 1122 کا آفس 5 کلو میٹر دور ہے لیکن کوئی بھی مدد کو نہیں پہنچا تھا
ان کو معطل کرنا حل نہیں ان پر قتل کا مقدمہ درج ہونا چائیے
آج یوم تکبیر پر کسی سرکاری اشتہار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصویر نظر نہیں آئی لیکن پاکستانی قوم نے آج سب سے زیادہ اپنے اس محسن کو یاد کیا اور انکے لئے دعائے خیر کی۔ حکمران یاد رکھیں کہ قومی بیانیہ سرکاری اشتہاروں اور گانوں سے نہیں بنتا بلکہ قوم کے جذبے سے بنتا ہے