پی ٹی آئی کا بینک اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا گیا۔ تو آپ بھی ان کو بلاک کر دیں۔ ان کا بائیکاٹ کریں۔ ان کی بنائی ہوئی کوئی چیز مت خریدیں۔ شہباز گل
#pakistan@SHABAZGIL
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
27 ستمبر کو ہر کسی نے نکلنا۔ انشاللہ ایک پر امن اور بڑا لانگ مارچ ہو گا۔ اسکی بھرپور تیاری کریں۔ لیکن ساتھ ساتھ بائیکاٹ کو مت بھولیں۔ یہ آپکے احتجاج کو اور بھی زیادہ طاقتور کر دے گا۔
27 ستمبر کا احتجاج اور بائیکاٹ ساتھ ساتھ۔
27th September will be historic, InshaAllah. The panic of the fascists of Pakistan show that they have lost the battle of nerves.
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
“Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him.”- Former British Prime Minister @BorisJohnson.
#FreeImranKhan
ایک دفعہ کا زکر ہے، تب کا جب بادشاہ بھلے ظالم ہوں کم از کم خود کو عقلِ کل نہیں سمجھتے تھے، ایک بادشاہ نے اپنے عہد کے ایک ذی عقل سے سوال کیا کہ مجھے طویل مدت تک اقتدار کا گُر بتائیں۔
عقل والے نے کہا لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت جگاؤ۔ بادشاہ نے کہا لوگ تو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
کہا پھر اپنا خوف پھیلاؤ۔ کہا اتنے عرصے سے اسی کی بنیاد پر تو حکومت کررہا ہوں، اب مگر لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
کہا گر لوگ ڈر نہیں رہے، تو اقتدار کو بھول جاؤ، اپنا سر بچاؤ۔
۲۰۰۹ کے سوات آپریشن کے وقت کراچی سے چند متاثرین آپریشن کو رینجرز نے ناکے پر سے اٹھایا اور انہیں لاپتہ کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ان کی برآمدگی کی اپیل ہوئی وہاں سے آرڈر بھی جاری ہوا۔ درگئی فورٹ میں ان کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد سوات اور دیر کی سرحد پر فوج اور طالبان کی جھڑپ ہوئ، ہلاک ہونے والے افراد لی فہرست میں وہ افراد بھی تھے جو ��ہلے ہی فوجی تحویل میں تھے، یہاں تک کہ ان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ بلوچستان کی سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو اس واقعہ کی یاد آگئی، عمران خان صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف کو ان لوگوں کے حوالے سے خط بھی لکھا تھا۔
سالوں کی غلط پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں حالات کو اس نہج پر لے آیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں اور جوابی سٹریٹجی اور مورال بلند رکھنے کے لیے ان قبیح حرکات کا سہارہ لیا جارہا ہے۔ اب نیا پلان یہ ہے کہ پرائیوٹ ملیشیا بنایا جائے گا۔ فوج سڑکوں سے لے کر مائننگ تک کے ٹھیکے لے گی، اور سیکیوری��ی کا کام پرائیوٹ ملیشیا کو سونپ دیا جائیگا۔
خیبر پختونخواہ میں بُھجی ہوئ آگ کو ایندھن برآمد کر کر کے بھڑکایا گیا۔ ہم چیختے رہے، دہائیاں دیتے رہے ہمیں غدار، ملک دشمن�� پراپگنڈسٹ قرار دیے دیا۔ اب امن کمیٹیز کے بعد عوام پر مسلح لشکر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کل کو پالیسی بدل جائے گی تو اس لشکر کو فتنتہ ال فلاں نام دے کر ایک اور لشکر کشی کا جواز تراشا جائیگا۔ جیسے کل تک کشمیری مجاہد مُحبِ وطن تھے آج آئین و قانون کے دائرے میں اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں تو ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔ ان پر ایمپورٹڈ حکومت مسلط کرو انہیں گولیوں سے بھون دو۔
نہروں سے لیکر صوبوں تک کے منصوبوں پر سندھ کی نبض بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔ “مرسوں مرسوں سندھ نا دیسوں” کا نعرہ لگانے والا خود مرے گا تو اکیلے تو نہیں مرے گا ناں۔۔
پہلے بھی نہیں مرا تھا۔۔
باقی بچا پنجاب تو گذشتہ چار سال کا جبر ایک جانب اور اس ایک ہفتے کا پاور پلے دوسری جانب۔ کون کون سی بے شرمی کی حدیں نہیں پاٹی گئیں۔ انتظامیہ سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کے (بلاتفریق مرد و زن) افسران کی جانب سے جس درجے کی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ کھولتے تیل میں گر کر جھلس کر مرنے والے شہید کارکن، بے عزتی کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہونے والے شہید عہدیدار، زمیں پر پڑی بزرگ پردہ دار ماں، اپنا ٹوٹا لُٹا پھٹا گھر دکھاتی ہوئی معصوم بچی۔ چہرے پہ کالا کپڑا ڈلا، ہتکھڑیوں میں بندھے ہاتھوں میں اپنی شناختی تختی لیے صحافی، کانپتے حرفوں میں اپنی لُٹی جمع پونجھی کی دہائی دیتا محنت کش مزدور حسنین جس کا جرم دوسرے صوبے سے آئے مہمان وزیراعلی کی مہمان داری کرنا تھا۔ لاہور سے لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر پٹتے نوجوان۔۔ بلوچستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں آپ کی نفرت نے تھمائیں۔ پختونخواہ کے لوگوں کو آپ اپنی غلط پالیسی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بندوق اٹھانے پر اکسا رہے ہو۔ کشمیر میں نفرت کی کھیتی بو دی ہے، تو کاٹنی بھی پڑیگی۔ سندھ بھرا بیٹھا ہے۔ کل اسی پنجاب کی ایک ماں کہ جن کے خون کا ایندھن بھر کر جہاز اڑا رہے ہو تاکہ اپنے بچوں کی خوشیاں ہیروں میں لدھ سکو، اسی پنجاب کی ایک ماں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کی گردنوں پر چھری پھیر دی۔ وہ ہاتھ جو پہلے ہی اپنی اولاد کی گردن پا چھری رکھ چکا ہو وہ آپ کی اولاد کی گردن پر ڈلتے کتنا ہی کوئی جھجھکے گا؟ اور آپ کے گریباں سے کتنا ہی عرصہ دور ہوگا؟ سیانے کہہ گئے ہیں جبر کی معیاد پوری ہوجائے تو اپنا سر بچانے کا سوچنا چاہئے کیونکہ اقتدار تو اب بچنا نہیں۔
Former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his family members in Adiala Jail - July 1, 2025:
“Our country was freed from British rule through immense sacrifices to establish a nation where every citizen would enjoy personal liberties. But the situation is completely the opposite.”
🧵 1/5
Imran Khan, Bushra Bibi, and approximately one thousand others are illegally imprisoned. Over 40,000 have been imprisoned and subsequently released on bail over the past 3 years. Those on bail are facing fake trials across Pakistan.
When judges tried to dispense justice, this illegal government and their masters passed the 26th Amendment. This gave them the freedom to remove or bypass judges who wanted to honour their oath and dispense justice. The amendment did away with seniority. The Chief Justice of the Islamabad High Court, Sarfraz Dogar, was hand-picked. He has been tasked with ensuring that Imran Khan and Bushra Bibi are not granted bail. That is why he refuses to entertain their bail petitions.
The Chief Justice of Pakistan was also selected out of turn. CJP Yahya Afridi should have stood by the three Supreme Court judges who ordered that Imran Khan be transferred to Shifa International Hospital for an independent medical examination and treatment.
Yesterday, 16 September 2026, we witnessed the collapse of the Supreme Court when those same judges did not proceed with the contempt-of-court hearing against the government. The Attorney General did not even bother to appear for the contempt-of-court hearing!
In 2007, the lawyers brought down the dictator General Musharraf when they came out onto the streets to stand with the judiciary and defend the rule of law. In 2007, dictator Musharraf had removed only the Chief Justice without due process.
In 2026, the entire judicial system has collapsed. In 2007, we all stood with the lawyers for the restoration of the Chief Justice of Pakistan. In 2026, we will stand with the lawyers for the restoration of justice in Pakistan.
Pakistan Insaaf Lawyers Forum (ILF) should take the lead immediately and without delay. The collapse of the judicial system will lead to anarchy, something Pakistan can ill afford! The time to stand for justice, the judiciary, and the rule of law is now!!!