چوڑیاں
ایک نفیس آواز کو سن کر فوراً چونک پڑا
چوڑیاں لیتا ، جا وے باؤ ، ونگاں لیتا جا
پلٹ کے دیکھا، اک بنجارن سانولا جس کا رنگ
چوڑیاں سامنے رکھ کے بولی ، لے جا باؤ ونگ
جتنے پیارے رنگ چوڑی کے ، اتنے اس کے رنگ
حسن کودیکھ کےشرمندہ ہوہیرسیال کا جھنگ
واپس مڑ کے ہنس کے بولا ، میں پہنوں گا کیا ؟
بولی ،،، اپنی دوست ، سہیلی کو جا کر پہنا
چوڑیاں لیتا جا وے باو ونگاں لیتا جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بات کو سنکرمیں بھی سوچ میں ہوگیاگم
کہتا ہوں ، میری جانب سے پہن لو، اک سیٹ تم
رنگ برنگی چوڑیوں والی اک نازک کلائی
دیکھنےوالےکی تو سمجھو جیسے شامت آئی
ایک اچانک پھر بنجارن بولی کیا ہے باو؟
کن سوچوں میں گم ہو دیکھو یہ سستا ہےباو
اور نہیں تو سستا سستا اک سیٹ لیتا جا
چوڑیاں لیتا جا ، وے باؤ ، ونگاں لیتا جا
بولا کہ اک شرط پہ لوں گا تجھ سے چوڑیاں میں
اک سیٹ تجھ کو پہناوں گا اک سیٹ لوں گا میں
ہنس کہ بولی مجھکو بس اوقات میں رہنے دے
میں بنجارن ہوں ، اپنے جذبات کو رہنے دے
اچھا اک سیٹ دےدو، بس اک چوڑی رکھ لو تم
آنکھ میں چمک دکھائی دی،اورسوچ میں ہوگئی گم
فورا بولی ، ٹھیک ہے باؤ ، اک ونگ دیتا جا
اس کے بدلے ، پورا سیٹ پھر م��تا لیتا جا
آج کا سودا مجھ کو بہت مہنگا پڑا ہے باو
چوڑیاں دےکےساتھ میں دل بھی دیناپڑاہےباؤ
دل میرا بس واپس کر دے ونگاں لیتا جا
چوڑیاں لیتا جا ، وے باؤ ، ونگاں لیتا جا
آپ دلیر بیٹے کی دلیر ماں تھیں۔ ارشد جیسا بیٹا آپ جیسی ماں ہی پیدا کر سکتی تھیں۔ پوری دلیری سے ملک کے آرمی چیف سے لے کر نیچے تک سب کو بے نقاب کیا۔ لیکں پاکستان آپ سے شرمندہ ہے ماں۔دعا ہے جنہوں نے آپ کلیجہ چبایا۔ اللہ انہیں اسی دنیا میں اس سے بڑا دکھ دے اور عبرت کا نشان بنا دے۔
کلام : پیر سید نصیر الدین نصیرؒ
میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
��ہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے دار پر ، جو نہیں کوئی تو ہم ہی سہی
سرِ طور ہو ، سرِ حشر ہو ، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ میرا جو بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے ، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن سے قریں سہی
تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا ، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی
میری زندگی کا نصیب ہے ، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے ، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے ، اسے حشر پہ نہ اٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو ، وہ ہزار پردہ نشیں سہی
عمران خان نے رحمت العالمین ﷺ اتھارٹی کا قیام کیا اور پوری دنیا کے سامنے اسلام کا کلمہ بلند کیا۔ عمران خان کی کاوشوں کی بدولت ہی 15 مارچ کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا گیا۔
کچھ ٹاؤٹس موازنہ کروا رہے ہیں ، بنتا تو نہیں ہے لیکن پھر بھی ٹاوٹس کی طبیعت صاف کرنے کا آپ کے پاس پورا پورا موقع ہے ، خان کےلیے لائیکس اور ری پوسٹ جبکہ لالے کے لئے کمنٹس 👇وقت شروع ہوتا ہے اب 💁