میں جانتا ہوں، آج جو بات کرنے لگا ہوں، اس پہ آپ میں سے بہت لوگ مجھے گالیاں دی�� گے۔ کہیں گے، اس وقت یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
لیکن جو بات میں سچ سمجھتا ہوں، وہ بولوں گا۔ میں نے زندگی میں بہت ہار کے، اور بہت لوگوں کو ہار کے، سیکھا ہے کہ سچ بولنے کا کوئی صحیح ٹائم نہیں ہوتا۔فوراً بول دو ورنہ اس کو چھپانے والا جھوٹ اسے نگل کر ہضم کرجاتا ہے۔
اور یہ اتنی خطرناک بات ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
میں نے اس تجزیے پے محنت کی ہے۔ یہ ایک دن کی سوچ نہیں ہے یہ۔ مہینوں سے جو کچھ دیکھ رہا ہوں، وہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو کہنا ہے کہیں، پر پہلے پلیز، سن لیں۔
سب سے پہلے ایک سوال۔
سہیل آفریدی اور جنید اکبر گرفتار ہوگئے اگر، تو ان کے پیچھے عوام نے کیا کرنا تھا؟ اس کا پلان کہاں تھا؟
یہ سوال یاد ر کھنا۔ میں کہانی میں بار بار اس پہ واپس آؤں گا۔
اب اپنے ذہن میں جولائی 2026 کا منظر لے کے آئیں۔ آج والا سہیل آفریدی نہیں۔ جولائی والا سہیل آفریدی لے کے آئیں۔
اس کی reputation کا کیا حال تھا؟
اس کی سیاسی عزت بالکل ختم ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے خلاف ہو رہے تھے۔
آپ اس وقت کی اس کی tweets دیکھ لیں۔ کتنے reactions آتے تھے؟ نیچے لوگ کیا کہتے تھے؟ کتنی گالیاں پڑتی تھیں؟
اور لوگوں کو شکایت کیا تھی؟
ڈرون حملوں کے خلاف جو آواز اٹھنی چاہیے تھی، وہ غائب تھی۔ FIRs درج کروانے کے لیے وہ کچھ نہیں کررہا تھا۔ علیمہ خانم کے ساتھ ہر ہفتے اڈیالہ جانا اس نے بند کردیا تھا۔
پھر رمضان میں احتجاج کی باری آئی۔ سب لوگ تیاری پکڑنے لگے تھے۔ یاد ہے؟
تو سہیل آفریدی نے کیا کیا؟ احتجاج پورا رمضان ملتوی کردیا۔
کہا Youth Force اکٹھی کروں گا۔ کہاں تھی وہ Youth Force؟ کہاں اکٹھی کی؟ کوئی لسٹ آئی؟ کوئی نام آئے؟
پھر جتنا عرصہ وہ وزیراعلیٰ رہا، پولیس اور بیوروکریسی کو جواب دہ بنانے کے لیے کیا کیا؟
شہری کمیٹیاں بنانے کی کوئی قانون سازی؟ بیوروکریٹس کو بار بار اسمبلی میں بلا کے ان سے سوال کرنے کی کوئی policy؟ ان سے پوچھنا کہ آپ کس کے حکم پہ یہ سب کر رہے ہیں؟
کے پی میں ورکر ذلیل ہوتے رہے۔ سہیل آفریدی نے کوئی قانون سازی نہیں کی۔ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی میٹنگ میں یہ مدّا اٹھایا گیا مگر سہیل آفریدی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
آپ اس وقت کے vlogs دیکھیں۔ عمران ریاض خان، شہباز گل، معید پیرزادہ، کوئی بھی۔ جو support اسے مل رہی تھی پہلے، وہ ختم ہو رہی تھی۔ مایوسی بڑھ رہی تھی۔
تو سہیل آفریدی کے سامنے سیاسی مسئلہ کیا تھا؟
لوگوں کا بھروسہ واپس کیسے لانا ہے۔
وہ علی امین کا حال دیکھ چکا تھا۔ اسے نظر آ رہا تھا کہ عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو صرف عہدہ آپ کی عزت واپس نہیں لاتا۔
اب یہاں سے میری reading شروع ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی کو اپنی سیاسی ��وت نظر آ رہی تھی۔ اور اسے اپنی عزت واپس لانے کا راستہ احتجاج میں نظر آیا۔
عمران خان کے لیے نکلنے کا اعلان کرو۔ لوگوں کو امید دو کہ یہ بندہ اب کچھ کرنے لگا ہے۔ لوگ پھر آپ کی طرف دیکھیں گے۔
لیکن مسئلہ صرف سیاسی فائدہ لینے کا نہیں ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ understanding تھی۔
جیل چلا جاؤں، لوگ کہیں اس نے قربانی دے دی، اور ساری پچھلی شکایتیں پیچھے رہ جائیں۔
آگے سنیں کیا ہوتا ہے۔ رمضان ختم ہوتا ہے۔ ڈی چوک آنے کا اعلان ہوتا ہے جلسے میں بری دھوم دھام سے۔
اور اگلے ہی دن سہیل آفریدی تین مین سٹریم ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتا ہے کہ میں ڈی چوک آرہا ہوں؟ بشمول جیو؟
یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ چینل جو اسے سال پورا ایک سیکنڈ نہیں دیتے وہ پورا انٹرویو چلا دیتے ہیں؟ اور دھمکی کے اگلے ہی دن؟
کیوں؟ کیسے؟
مجھے بتائیں: کیا ہوسکتا ہے کہ محسن نقوی کی اجازے کے بغیر جلسے کے اگلے ہی دن تین ٹی وی چینل اسے انٹرویو کرنے دے دیں؟ ہوسکتا ہے؟
کہانی آگے بڑھتی ہے۔ لوگوں ک�� غصہ آتا ہے۔ لوگوں میں جوش آتا ہے۔ لوگ نکلنے لگتے ہیں کال پے۔
وہ کسی کی سیاسی عزت بحال کرنے نہیں نکلتے۔ وہ عمران خان کی صحت اور آزادی کے لیے نکلتے ہیں۔
مگر اب وہی سوال جس سے میں نے بات شروع کی تھی: آپ گرفتار ہو جائیں گے، تو عوام نے کیا کرنا تھا؟
سہیل آفریدی نہیں ہوگا، جنید اکبر نہیں ہوگا، تو احتجاج کون lead کرے گا؟ اگلی کال کون دے گا؟ لوگ کہاں رہیں گے؟ کس کی بات سنیں گے؟
کوئی ��لان نہیں تھا۔
کیا یہ اپنی گرفتاری expect نہیں کر رہے تھے؟
آپ اتنا بڑا احتجاج lead کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کس کے سامنے نکل رہے ہیں۔ گرفتاری کوئی ایسی بات تھی جس کا خیال ہی نہیں آ سکتا تھا؟
تو لوگوں کو پہلے کیوں نہیں بتایا کہ اگر ہمیں پکڑ لیا گیا، تب آپ نے یہ کرنا ہے؟
The tyrannical crooks in charge of Pakistan continue to dismantle democracy, now arresting the elected chief minister of KPK.
The world must see what’s happening. Repeated disgraceful and cowardly acts from Munir to stifle the voice of the people to cling onto power.
Disgraceful .
I’ve been instructed to call on the public not to attempt to march or protest nearby Adiala jail on 27 March. I’ve heard from sources that this may be used as an excuse for the establishment to launch a “counter” assault on the jail (Which my father is being held in), which could endanger his life. Please do not give them any reasons for “accidents” to happen to my father during the protest.
Tomorrow marks 19 days since my mother, Aleema Khan @Aleema_KhanPK, was abducted after leaving her home, and 18 days since my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and Noreen Niazi @Noreen_KhanPK were abducted from theirs. They have been arbitrarily detained under the colonial-era 3 MPO law.
As if detaining three sisters for standing by their brother, Imran Khan @ImranKhanPTI , were not enough, the authorities detained their cousin Qasim Zaman, under the very same law.
We have once again approached the Lahore High Court, challenging the illegal detention of my mother and aunts, while renewing our request for court orders granting them access to their families and legal counsel.
The matter is scheduled for hearing on Friday, 9th October.
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
Either you surrender or you fight for your freedom till death.
What will we do? My belief is La Ilaha Illallah there is no God but one, and we will fight!
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از ک�� 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں ��لانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.
جب وقت بدلے گا تو ہم سب کو KP جا کر ہر اس انسان کا ہاتھ چومنا چاہیے جو اس مارچ میں شامل ہوا ہے۔ پورے ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں، بلکہ دنیا میں جتنے پاکستانی ہیں ان سب کی رہنمائی کر رہے ہیں وہ!
چھا گئے ہیں KP والے، سلام تمام مارچ کرنے والوں کو- آپ سب کا دل سے شکریہ!
Cc @SohailAfridiISF@ShahidkhattakSk@ShafiJanPTI@MeenakhanAfridi@JunaidAkbarMNA
میں سوشل میڈیاکےاپنےتمام جنگجوؤں کاشکریہ اداکرتاہوں جنہوں نےحکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کیخلاف ہماری جنگ کو دلیری سےسماجی میڈیاکےتمام پلیٹ فارمز تک توسیع دی۔🇵🇰کی خودمختاری وجمہوریت کی ہماری اس تحریک کوآگےبڑھاتےرہئے۔آپ ہمارےصفِ اوّل کے سپاہی ہیں!
#MarchAgainstImportedGovt
#HappyBirthdayImranKhan
You are the Pride of Pakistan
You are the Identity of Pakistan
You are the Mentor of Pakistan
You are the Leader of Pakistan
Nation Loves You
Happy Birthday sir!