ریاستِ پاکستان اور پالیسی سازوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی دشمن کے بیانیے کا مقابلہ نہیں کیا۔
1971 سے بھارت یہ بیانیہ پھیلا رہا ہے کہ پاک فوج نے 30 لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا اور 10 لاکھ خواتین کی عصمت دری کی۔
سوال یہ ہے کہ 33 ہزار فوجیوں پر مشتمل فوج کس طرح 30 لاکھ بنگالیوں کو قتل اور 10 لاکھ خواتین کی عصمت دری کر سکتی ہے؟
موجودہ دور م��ں بھی اسرائیل کو 75 ہزار فلسطینیوں کو شہید کرنے میں 2 سال کا عرصہ لگا۔
اسی طرح 91 ہزار فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کا بیانیہ بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وہاں صرف 33 ہزار فوجی تھے اور باقی تمام شہری عملہ (سویلین اسٹاف) تھا؛ مگر آج تک پاکستان میں کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ اس بات کی وضاحت کرے اور بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کرے۔
آخر آپ کو کس چیز کی تنخواہ ملتی ہے؟
یہی بیانیہ اب خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ انہیں پاکستان کی جانب سے دبایا جا رہا ہے۔
کیا کبھی کسی تجزیہ کار، تھنک ٹینک یا تحقیقی ادارے نے بیٹھ کر ان بیانیوں کا مؤثر جواب دیا ہے؟
بس وی آئی پی پروٹوکول، بلٹ پروف گاڑیاں اور حکومت کی طرف سے ملنے والی مراعات ہی سب کچھ ہیں۔
@shafqatmm1 اب تک یہی سوچ تھی کہ عمران خان کے ساتھ اتنا برا کیوں کیا جارہا ہے؟ لیکن اس کی پیدا کی ہوئی نسل دیکھ کر یہی ثابت ہوا کہ جو کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ جس کے پیروکار اتنے گھٹیا ہوں وہ خود کیسا ہو گا
@saleemspeaks2 اچھا قانون ہو گا لیکن اس معاشرے کا کیا کریں۔ یہ اپنے مخالف کو زندہ جلا کر الزام ریپ کا لگا دیں گے۔ سندھ میں کاروکاری کی آڑ میں کیا کیا ہوتا ہے؟ پورے ملک میں توہین مذہب کے الزام میں کیا کچھ نہیں ہوتا؟
@Hamza_Afzal90@BasharatRaja786 اگر آپ انڈین بنگالی مصنفہ شرمیلا بھوس کی کتاب "The dead reckoning. Memories of Bangladesh Libration war" پڑھ لیں تو ان تین کی ضرورت نہیں رہے گی