محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے باوج��د اسلام آباد، راولپنڈی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی۔ G-6 کے انڈرپاسز اور چھٹہ بختاور کی سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں، لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا، جبکہ نالہ لئی ک�� سطح 19 فٹ تک پہنچ گئی۔
سوال یہ ہے کہ جب شدید بارش اور سیلاب کا الرٹ پہلے سے موجود تھا تو NDMA، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے پیشگی حفاظتی انتظامات اور نکاسیٔ آب کا مؤثر پلان کیوں نہیں بنایا؟
لوگوں کے گھر، کاروبار اور روزگار اجڑ گئے ان کے نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟ ذمہ داری کس کی ہے؟ متاثرین کو صرف امدادی اعلانات نہیں، عملی ریلیف اور معاوضہ چاہیے۔