تشدد کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن
انسانی حقوق کے کارکنوں اور اہلِ ضمیر افراد سے اپیل
27 جون 2026 کو، جو تشدد کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، ہم انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، طلبہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور تمام اہلِ ضمیر افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئی وی بی ایم پی (IVBMP) کے احتجاج میں شرکت کریں، جو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ، لندن کے سامنے منعقد ہوگا۔
ہم بلوچستان کے عوام کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، تشدد اور دیگر مظالم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم دنیا بھر کے ان مظلوم اور محکوم اقوام کے ساتھ بھی اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں جو انصاف، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
آپ کی شرکت متاثرین کی آواز کو مزید مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانے اور ان کی مشکلات کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاریخ: 27 جون 2026
مقام: 10 Downing Street
وقت: دوپہر 2 بجے تا 4 بجے
آئیے، تشدد، جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور متاثرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔
جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں 6191ویں روز بھی جاری رہا۔
#dailysangar#Balochistan#PakistanArmy#EndEnforcedDisappearances #BalochGenocide #BalochWomen #VBMP
https://t.co/aK6K4oKOlw
بلوچ تو ویسے پاکستان میں رہنا نہیں چاہتے لیکن جو قومیں پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں اور صرف اپنے حقوق کےلیے جدوجہد کررہی ہیں،انہیں بھی غدار اور ایجنٹ جیسے مختلف القابات سے نوازا جاتا ہے۔پاکستان صرف پنجاب ہے۔ دیگر قومیں اس حقیقت کو سمجھیں اور بھینس کے آگے بین بجانے سے گریز کریں۔
Balochistan continued to record the highest poverty incidence, while Punjab remained the lowest among the four provinces, the survey says.
ECONOMIC SURVEY 2026-27: Poverty surges 7pc, pushing 27m people into financial distress https://t.co/qwpc4Mjme1
اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ڈاکٹر ماہ رنگ کے سامنے کھڑے لوگوں کو کوریج دی جا رہی تھی۔ لیکن ڈاکٹر ماہ رنگ اور سامنے بیٹھے مظلوم لوگوں کو میڈیا بلیک آؤٹ کیا جا راہا تھا۔۔۔!!!
پھر کہتے ہو کہ تم باغی ہو۔ ہاں ہم باغی ہیں۔ جب یہ ریاست ہمیں ہمارے حقوق نہیں دیتی تو ہم باغی ہیں۔۔۔!!!
Pain of being #Baloch is watching our sisters dragged, beaten & humiliated by Pakistani security forces for asking: "Where is my brother, father, husband?" Pak's response to peaceful Baloch women is dehumanization.
1/
#EndEnforcedDisappearances@zehrijournalist@FoziaBaloch10
She is a Doctor by Profession, but revolutionary by thoughts. She has ignited a dying nation with her words that Pak hates the most! She is Mahrang, a daughter of Balochistan who is fighting against Pak’s cruelty.
#ReleaseMahrangBaloch@Aneesabaloch6@BlouchNazir@AzaadBalach
بلوچ آزادی کے امام سردار خیر بخش مری
کمال بلوچ
آج کا دن بلوچ قوم کے لیے جستجو، مزاحمت اور جدوجہد کا ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی دن ایک عظیم شخصیت ہم سے جدا ہوئی، جو اپنے پیچھے بہت سے سوالات اور ایک عظیم فکری ورثہ چھوڑ گئی۔ یہ شخصیت بابا سردار خیر بخش مری کے نام سے جانی جاتی ہے۔
بابا سردار خیر بخش مری ایک مضبوط نظریے کے مالک تھے۔ وہ بلوچ قوم کی امیدوں اور آرزوؤں کی تعبیر سمجھے جاتے تھے۔ آج سے بارہ سال قبل وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کا نظریہ اور فکر آج بھی ہر بلوچ فرزند کے دل میں زندہ ہے۔
سردار خیر بخش مری بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں نظر آئے۔ وہ مضبوط عزم و حوصلے کے مالک تھے۔ بلوچستان پر پاکستان کے قبضے کے بعد وہ مسلسل متحرک رہے۔ بلوچستان میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے مختلف مراحل کے باوجود ان کا مؤقف واضح تھا کہ بلوچ پاکستان کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے قوم کو شعور دینے اور سیاسی آگاہی پیدا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ ان کی ثابت قدمی، اصول پسندی اور نظریاتی وابستگی کی وجہ سے قوم نے انہیں ایک رہنما اور امام کی حیثیت دی اور انہیں “درسگاہِ آزادی” کا لقب عطا کیا۔
یہ ان کے کردار اور خدمات کا اعتراف تھا کہ آج جدید بنیادوں پر جاری بلوچ تحریکِ آزادی کی فکری اساس میں ان کا نمایاں حصہ شامل ہے۔ ان کی دور اندیشی اور اصولی جدوجہد آج بھی جہدکاروں کے لیے مشعلِ راہ ہے، کیونکہ آزادی کی جدوجہد ایک کٹھن اور صبر آزما عمل ہے جس کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔
پاؤلو فریرے کے بقول: “آزادی ایک مکمل انسانی عمل ہے جسے نیم انسانی طریقوں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔”
بلوچستان پر قبضے کے بعد بلوچ وطن میں اپنی ریاست کی بحالی کی تحریک کی بنیاد رکھنے والے آغا عبدالکریم کے بعد اس تحریک میں مختلف نشیب و فراز آئے، لیکن سردار خیر بخش مری نے اس میں نئی روح پھونک دی۔ بعد ازاں واجہ غلام محمد بلوچ، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور دیگر قیادتوں نے اس تحریک کو عوامی سطح تک پہنچانے کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔
آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ سردار خیر بخش مری کی فکر ہر گاؤں، ہر کوچے اور ہر گھر تک پہنچ چکی ہے۔ لوگ ان کے مؤقف اور پاکستان کے ساتھ ان کے سیاسی تعلق کے بارے میں بخوبی آگاہ ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد صرف باشعور لوگ ہی کر سکتے ہیں، لیکن بلوچ قوم آزادی کے ساتھ ساتھ “انقلاب در انقلاب” کے تصور کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے۔ اس کارواں میں شامل ہر وہ شخص قابلِ فخر ہے جو اس جدوجہد کو عملی اور سیاسی بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے محنت کر رہا ہے۔
بلوچ مہم جو نہیں ہیں، اور نہ ہی مہم جوئی سے آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔ امیلکار کیبرال کے مطابق قومی آزادی کی جدوجہد صرف بندوق کے ذریعے نہیں لڑی جاتی بلکہ اسے سیاسی شعور، نظریاتی رہنمائی اور ایک منظم سیاسی جماعت کی قیادت میں آگے بڑھایا جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر تحریکوں میں صرف جنگی سردار پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیں جنگی سرداروں کی نہیں بلکہ فکری پختگی اور نظریاتی وابستگی رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کو منزل کی طرف لے جا سکے۔
جذبات سے آزادی حاصل نہیں کی جا سکتی؛ اس کے لیے فکری بلوغت، نظریاتی استحکام اور سیاسی شعور ضروری ہوتا ہے۔
فکرِ آزادی اور “انقلاب در انقلاب” کے فلسفے کو بی این ایم نے مختلف سطحوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ سردار خیر بخش مری کی برسی کے موقع پر اس مختصر تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہمیں اپنی فکری تربیت، سیاسی شعور اور نظریاتی مطالعے میں مزید تیزی لانی ہوگی۔ وقتی جذبات اور عارضی کامیابیوں کے بجائے ہمیں دور رس اثرات پر غور کرنا ہوگا اور آزادی کے ساتھ ساتھ انقلاب در انقلاب کی جدوجہد کے لیے فکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
یہی ہماری نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور اسی راستے پر چلتے ہوئے بلوچ قوم اپنے وطن میں اپنی ریاست کی بحالی اور آزادی کے حصول کی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔
#BabaKhairBakhshMarri
@mmatalpur
Nargis Baloch, wife of Mahir, has reportedly been forcibly disappeared by Pakistani intelligence agencies from Gulistan-e-Johar, Karachi last night. This is the same woman whom state-backed accounts claimed was "abducted by militants" from her hometown on January 28.
“Balochistan continued to record the highest poverty incidence, while Punjab remained the lowest among the four provinces, the survey says.”
ECONOMIC SURVEY 2026-27: Poverty surges 7pc, pushing 27m people into financial distress
https://t.co/ITwVn0QEen