مسلم لیگ ن) کے رہنما بابر نواز خان نے ہری پور کی پانچ سالہ متاثرہ بچی کی بازیابی تک دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے، جس کی حمایت میں بڑی تعداد میں جمع ہونے والے شرکاء نے صدیق اکبر چوک پر دھرنے میں شرکت کی اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یانگجہتی کا اظہار کیا۔ اس واقعے میں ملوث افراد کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ایک سیاسی شخصیت کے رشتہ دار ہیں، اور پولیس پر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں
ہری پور دھرنے میں نعرے لگ رہے ہیں
یہ تحریک انصاف والوں کی بیٹی آیت نور
ن لیگ والوں کی بیٹی آیت نور
پیپلزپارٹی والوں کی بیٹی آیت نور
آیت نور پورے پاکستان کی بیٹی ہے کیوں کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں ۔
بچی 14 روز سے لاپتہ ہے 3 مبینہ ملزمان پکڑ کر بھی پولیس بچی کا سراغ نہیں لگاسکی۔ بچی کا والد غریب ہے اور انصاف مانگ رہا ہے ۔
#JusticeForAyatNoor
اگر آپ کی بھی بیٹیاں ہیں ۔ تو آیت نور کے والد کی آواز بنیں ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کتنے کرب سے کہہ رہا ہے کہ میں غریب ہوں میرا ساتھ دیں ۔ میری بیٹی 14 روز سے لاپتہ ہے ۔ مجھے نیند بھی نہیں آرہی ۔
آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آواز ٹھائیں ۔
#JusticeForAyatNoor
آواز دروں —•—
پی ٹی آئ کے قائد عمران خان کی الشفا ھسپتال منتقلی اور انکی
ھمشیرہ و ڈاکٹر کی ان سے ملاقات کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ھے
اس فیصلے سے عدلیہ کا کھویا ھوا وقار بحال ھو گا ،
سچ یہ ھے کہ اس فیصلے سے میرے دل کا بوجھ کچھ کم ھوا ھے ۔۔ برسات کی حبس زدہ رُت میں یہ فیصلہ ٹھنڈی ھوا کا جھونکا ھے ۔۔
اس فیصلہ پر معزز جج صاحبان مبارکباد کے مستحق ھیں ، اگر اسمیں ریاستی منشا شامل ھے تو اسے بھی سراھا جانا چاھئیے ۔۔۔
سابق وزیر اعظم ��مران خان کی صحت اور زندگی انتہائ اھم ھیں ، اسپر کوئ سمجھوتہ نہیں ھونا چاھئیے ، انکی جماعت اور اھل خانہ کو بھی اس حوالہ سے آئیندہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاھئیے ۔۔ انکا ذمہ دارانہ رویہ اگلے راستے کھُلنے کی صورت متعین کرسکتا ھے ۔۔
ھم پہلے بھی ان صفحات پر عمران خان صاحب کے اھل ِ خانہ کی ملاقاتوں پر پابندی کے خاتمے اور انکی مرضی کے ڈاکٹرز تک انکی رسائ کے حق میں آواز بلند کرتے رھے ھیں
ھماری اطلاعات کے مطابق حکومت نے انکے علاج کیلئے ماھر ڈاکٹرز مامور کیے رکھے ھیں اور علاج معالجہ میں اپنے تئیں کوئ کمی نہیں کی لیکن جیلیں بھگتنے والے جانتے ھیں کہ کوئ بھی ��خص اتنا طویل عرصہ قید تنہائ میں رکھا جائیگا تو اسکی صحت متاثر ھوۓ بغیر نہیں رہ سکتی
جیل اپنے قیدی کو کسی نہ کسی بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ھے ، یہ آپ بیتی بھی اور جگ ��یتی بھی ۔۔۔
اگر قیدی آپکا سیاسی مخالف ھو تو اسکی حفاظت اور حقوق کی ادائیگی اشد ضروری ھو جاتی ھے
بہتر ھوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اب فریقین ذمہ داری کا مظاھرہ کریں اور عمران خان صاحب کیلئے آسانی کا معاملہ پیدا ھونے دیا جاۓ
ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوھدری ، عمر چیمہ ، میاں محمود الرشید سمیت PTI کے باقی اسیران بھی ایسی توجہ کے حقدار ھیں
اس موقع پر طعنہ زنی ، گالی گلوچ اور انکے دور ِ اقتدار کی سختیاں یاد کرنیکے یا دھرانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں ھے !!!
جیسے جیسے میر رضا کے متعلق مزید پتا چلتا جارہا ہے اندازہ ہوتا جارہا ہے کہ یہ پچیس سال کا لڑکا کس قدر بہادر اور صابر تھا جو جانتا تھا کہ وہ اب مرنے جارہا ہے اُس کے باوجود اپنی ہر ذمہ داری کو آخری وقت تک پورا کرتا گیا ماں باپ کو جو بھی بچے کچے پیسے تھے برابر دے کر اپنے سارے سوشل میڈیا کو ختم کرکے پورے سکون اور جرت کے ساتھ اُن لوگوں کے پاس چلا گیا جو کہ اُس کو یقین تھا کہ اُسے ماردیں گے مگر وہ بھاگا نہیں چھپا نہیں کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر ��ہ بھاگا تو بدلہ اُس کے پیاروں سے لیا جاۓ گا اور مارنے والے اتنے بزدل تھے کہ پیچھے سے گولی ماری اور اس پر بھی صبر نہیں آیا تو لاش پر ظلم کرتے رہے۔ کائنات کی کوئ بھی طاقت میر رضا کے قاتلوں کو اب بچانہیں پاۓ گی چاہے جلد یا دیر میر رضا کی مظلومیت اور معصومیت اس کا بدلہ لے لے گی اور ایسابدلہ لے گی کہ قاتل پناہ مانگیں گے کیونکہ وہ جتنے بھی طاقتور ہوں خدا سے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتے۔
ان بابا جی کی ویڈیو یا تصویر آپ نے گزشتہ دو تین دنوں میں سوشل میڈیا پر لازماً دیکھی ہوگی۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے لین دین کے ایک تنازعے پر اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا، جس کے بعد گرفتاری کے دوران ان کی گفتگو اور اندازِ بیان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
یقیناً اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، اس میں دو رائے نہیں۔ لیکن اس سارے معاملے میں ایک اور پہلو بھی ہے جس پر شاید بہت کم لوگ غور کر رہے ہیں۔
اس شخص کی گفتگو، حرکات اور مجموعی کیفیت کو دیکھ کر کم از کم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ مکمل طور پر معمول کی ذہنی حالت میں ہے یا نہیں؟ یہ کام ماہرین کا ہے کہ وہ اس کی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کا جائزہ لیں، مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کی حالت کو سمجھنے سے ��یادہ اسے مذاق بنانا آسان سمجھا جاتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ گرفتاری کے بعد بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر کو اس انداز میں پھیلایا گیا جیسے کوئی سنجیدہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ تفریح کا سامان ہو۔ اگر کوئی شخص ذہنی یا نفسیاتی مسائل کا شکار ہو تو اس کی اس حالت کو عوامی تماشہ بنانا کسی بھی مہذب معاشرے کا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ پولیس اور دیگر ذمہ دار اداروں کا کام قانون پر عمل درآمد ہے، نہ کہ کسی انسان کی کمزوری کو لاکھوں لوگوں کے سامنے نمائش کے لیے پیش کرنا۔
ایک لمحے کے لیے اس شخص کے گھر والوں کے بارے میں بھی سوچئے۔ ایک طرف ایک خاتون اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، دوسری طرف ان کے بچوں اور خاندان کو روزانہ سوشل میڈیا پر اپنے والد کو مذاق بنتا دیکھنا پڑ رہا ہے۔ یہ اذیت شاید وہی سمجھ سکتے ہیں جو اس کرب سے گزر رہے ہوں۔
لیکن ہمارا اجتماعی مزاج اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سنجیدہ مسائل سے زیادہ دلچسپی ہمیں تماشوں میں ہے۔ کسی کی بے بسی، کسی کی ذہنی ٹوٹ پھوٹ اور کسی کے خاندان کا دکھ چند سیکنڈ کی ویڈیو، چند ہزار لائکس اور چند لاکھ ویوز کے سامنے بے وقعت ہو جاتا ہے۔
جرم اپنی جگہ جرم ہے اور اس کا حساب قانون کو کرنا چاہیے، لیکن انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی کی ممکنہ ذہنی بیماری، کمزوری یا خاندانی المیے کو تفریح اور کاروبار کا ذریعہ نہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے دکھ کو تماشا بنانے کے بجائے اسے سمجھنے، محسوس کرنے اور کم کرنے کی توفیق عطا فرمائے
عمار خان یاسر
پیمرا اور متعلقہ اداروں کے نام کھلا خط
بحیثیتِ ایک طالب علم اور پاکستان بھر کے اہلحدیثوں کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے میں نہایت واضح ال��اظ میں اس امر کی شدید مذمت کرتا ہوں کہ Green Entertainment کی جانب سے ڈرامہ/سیریز “فسانہ مارٹ کا” کو “رمضان اسپیشل” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلامی اقدار اور رمضان المبارک کے تقدس کی کھلی بےحرمتی ہے۔
رمضان المبارک کوئی تفریحی سیزن یا مارکیٹنگ لیبل نہیں۔ یہ بابرکت مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبادت، تقویٰ، تلاوتِ قرآن، قیام، دعا اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کے لیے عطا کیا گیا ہے۔ یہ مہینہ نفس کی تربیت، حیا و پاکیزگی، اور ایمان کی تجدید سے منسوب ہے۔ ایسے مقدس مہینے کے نام کو ایک ایسے ڈرامے کے ساتھ جوڑ دینا جس میں رقص، ناچ گانا، اور غیر سنجیدہ تفریحی مناظر شامل ہوں، یہ عوام کے دینی جذبات کو مجروح کرنے اور رمضان کے روحانی پیغام کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔
میں Green Entertainment سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس ڈرامے کو “رمضان اسپیشل” کہہ کر پیش کرنا بند کرے، اور اگر اس مواد میں رقص و موسیقی اور نامناسب تھیمز شامل ہیں تو انہیں فوراً حذف/ترمیم کیا جائے۔ ساتھ ہی متعلقہ ریاستی و ریگولیٹری اداروں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اس معاملے پر نوٹس لیں اور رمضان کے نام پر اس طرح کی بےحیائی کو معمول بننے سے روکیں۔
رمضان کی حرمت ہمارے لیے ایمان کا معاملہ ہے۔ جو چیز رمضان کی روح سے ٹکراتی ہو، اسے “رمضان اسپیشل” کہنا صرف غلطی نہیں بلکہ قابلِ مذمت اور قابلِ اصلاح اقدام ہے۔
صدر جمعیت اہلحدیث پاکستان
ڈاکٹر علامہ ہشام الہی ظہیر
میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اس جھوٹی، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا پوسٹ کی سختی سے تردید کرتا ہوں جس میں مجھے غلط طور پر یہ کہتے ہوئے منسوب کیا جا رہا ہے کہ میں لوگوں کو شوکت خانم ہسپتال کو عطیات دینے سے روک رہا ہوں۔
یہ دعویٰ سراسر جھوٹ، بہتان اور فریب ہے۔
جس ویڈیو یا کلپ کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس میں کہیں بھی، کسی ایک لفظ میں بھی شوکت خانم ہسپتال کے لیے عطیات روکنے کی بات موجود نہیں۔ یہ ایک من گھڑت بیانیہ ہے جو دانستہ طور پر گھڑا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ میں ہمیشہ شوکت خانم ہسپتال کے مشن، اس کی خدمات اور اس کے انسانی کردار کا حامی رہا ہوں، اور عوامی سطح پر بارہا اس کے حق میں بات کر چکا ہوں۔ ایک ایسا ادارہ جو کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے، اسے سیاست، تعصب اور سوشل میڈیا کی غلاظت میں گھسیٹنا اخلاقی جرم ہے۔
بدقسمتی سے یہ جھوٹ کچھ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پھیلایا ہے، جنہوں نے نہ تو کلپ دیکھا، نہ سچ جاننے کی زحمت کی، اور نہ ہی اس بات کا ادراک کیا کہ اس قسم کی حرکتوں کے کتنے خطرناک اور مہلک نتائج ہو سکتے ہیں۔
شوکت خانم جیسے ادارے کے بارے میں شکوک پیدا کرنا صرف کسی فرد کے خلاف نہیں، بلکہ ہزا��وں مریضوں اور ان کے خاندانوں کے خلاف ظلم ہے۔
ایسے لوگ جو اندھی نفرت، سیاسی تعصب اور جھوٹ کے سہارے کسی خیراتی ادارے کو نقصان پہنچائیں، وہ نہ تحریکِ انصاف کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے اقدار کے اہل ہیں۔
یہ رویہ پی ٹی آئی کے لیے باعثِ شرمندگی ہے، طاقت نہیں۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ:
اس جھوٹے مواد کو فوراً واپس لیا جائے
معذرت کی جائے
اور آئندہ کسی بھی خیراتی ادارے کو سیاسی جنگ کا ایندھن نہ بنایا جائے
اختلاف ہو سکتا ہے، سیاست ہو سکتی ہے، مگر انسانی جانوں سے جڑے اداروں پر جھوٹ باندھنا ناقابلِ معافی ہے۔
سچ یہ ہے، اور سچ یہی رہے گا۔
As a brother of Wg Cdr Nauman Akram Shaheed who lost his life in a crash, I second this. Last thing anyone should do is to celebrate a professional soldier’s death in an unfortunate incident.
Condolences to the pilot’s family. I know it wont be easy for them.
Pakistan Strategic Forum on the behalf of whole nation offers sincere deep condolences to the Indian Air Force & to the family of the pilot of the Indian Air Force HAL LCA Tejas that crashed today at the Dubai Air Show 2025.
Unfortunately the IAF pilot wasn't able to eject & hasn't survived the crash.
Our rivalry belongs to the skies ONLY, & as per the teachings of Quran & Sunnah we do not celebrate any unfortunate incident.
Over to the skies & beyond, RIP BRAVE HEART 🦅 🇮🇳
BREAKING: Gaza authorities say the Israeli army has committed 47 violations of the ceasefire, killing 38 people and wounding another 143
🔴 LIVE updates: https://t.co/W8S1tVkA8c