المیہ یا بدنصیبی، پاکستان میں پاکستانی اقلیت میں رہ گئے، اب زیادہ تر افغان ہیں، ایرانی ہیں، اور کچھ بھارتی۔ مذکورہ لوگ، مائنڈ سیٹ اور سوشل میڈیا کا بیانیہ پاکستان کے موقف سے زیادہ افغانستان، ایران اور بھارت کے موقف کے ساتھ نا صرف ہوتے ہیں بلکہ اپنے موقف پر رہتے ہوئے پاکستان کو کھلے یا دبے لفظوں میں گالی بھی دیتے ہیں۔
دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ملک اور ریاست کی اساس کو ادھیڑنے کی اتنی کھلی اجازت ہو۔ ، پھر بھی آزادی اظہار رائے نا ہونے کا رونا ایسے رویا جاتا ہے جیسے بچے کسی نا معقول ضد پوری نا ہونے پر روتے ہیں۔
In 1933, Saudi Arabia partnered with an American oil compay to explore for oil. The discovery transformed the Kingdom, built prosperity for its people, and provided jobs and livelihoods for millions of families in Pakistan, India, Bangladesh, and beyond. No one said, “America is taking our resources,” nor did the people of Riyaz and Damam complain, “Why is the revenue from the oil extracted in Najd being spent in the Hejaz?”
Yet in Pakistan, even before a shovel or hammer hits the ground to extract oil or minerals, rhetorics erupt: “They are taking our land and its wealth!”
المیہ یا بدنصیبی، پاکستان میں پاکستانی اقلیت میں رہ گئے، اب زیادہ تر افغان ہیں، ایرانی ہیں، اور کچھ بھارتی۔ مذکورہ لوگ، مائنڈ سیٹ اور سوشل میڈیا کا بیانیہ پاکستان کے موقف سے زیادہ افغانستان، ایران اور بھارت کے موقف کے ساتھ نا صرف ہوتے ہیں بلکہ اپنے موقف پر رہتے ہوئے پاکستان کو کھلے یا دبے لفظوں میں گالی بھی دیتے ہیں۔
دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ملک اور ریاست کی اساس کو ادھیڑنے کی اتنی کھلی اجازت ہو۔ ، پھر بھی آزادی اظہار رائے نا ہونے کا رونا ایسے رویا جاتا ہے جیسے بچے کسی نا معقول ضد پوری نا ہونے پر روتے ہیں۔
ضیاء الرحمٰن صاحب، سیاست میں اصول پسندی اور دوٹوک مؤقف کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ قول و فعل میں تضاد نہ ہو، لیکن بدقسمتی سے آپ کی جماعت کا سیاسی سفر اس تضاد کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جس عمران خان کو کل تک مولانا فضل الرحمٰن صاحب جلسے جلوسوں اور منبر و محراب سے یہودی ایجنٹ ، گولڈ اسمتھ کا ایجنڈا اور اسلام و پاکستان کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے نہیں تھکتے تھے، آج محض سیاسی مفادات کے تحت اسی کی حمایت میں بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔ کل والا مؤقف سچا تھا یا آج کا یہ مفاد پرست اتحاد سچا ہے؟ کیا یہ کھلا تضاد اور بدترین سیاسی مصلحت پسندی نہیں؟
آج کس اخلاقی جواز کے ساتھ آپ اس جماعت کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں جو کل تک مولانا صاحب اور آپ کی جماعت کے خلاف انتہائی نازیبا اور غلیظ زبان استعمال کرتی تھی؟ کیا ذاتی حملوں اور سیاسی گالم گلوچ کو بھلا کر آج اسی کی گود میں بیٹھ جانا شہداء کے خون اور ان کی قربانیوں سے غداری نہیں ہے؟ دہشت گردی کے زخم سہنے والی جماعت کا آج انہی عناصر کے حق میں کھڑا ہونا جن کی پالیسیوں نے صوبے کو اس نہج پر پہنچایا، کم از کم سیاسی اصولوں کے دائرے میں کسی طور قابلِ فہم نہیں۔
بلوچستان کی مثال پیش کر کے خیبر پختونخوا کی انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوششیں حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔ بلوچستان کی حکومت اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر مرکزی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عملی اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدامنی کے اسباب کو تقویت دینے والی پالیسیاں کھل کر سامنے آ چکی تھی ۔ رویوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
جمہوریت اور آئین کی پاسداری کا درس دینے والوں کو اپنی سیاسی تاریخ بھی یاد رکھنی چاہیے۔ اقتدار کے ایوانوں میں رسائی کے لیے ہر سیاسی و عسکری بندوبست کا حصہ بننا کس کا شیوہ رہا ہے؟ یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جب سولہ ماہ کی پی ڈی ایم حکومت میں جمعیت علمائے اسلام کے پاس خیبر پختونخوا کی گورنری، اہم وفاقی وزارتیں اور اقتدار کی تمام مراعات موجود تھیں، تب یہی آئینی و انتظامی بندوبست عین جمہوریت اور حلال تھا۔ آج جب اقتدار ہاتھ سے نکل چکا ہے تو اچانک آئین، جمہوریت اور صوبائی وسائل پر شب خون کا بیانیہ کیوں یاد آ گیا؟
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی روزانہ اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اس ملک کے امن کی خاطر جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔ ایسے میں شہداء کی قربانیوں کو پسِ پشت ڈال کر دہشت گردی کے سہولت کاروں کی ڈھال بننا کسی بھی محبِ وطن کے شایانِ شان نہیں۔ خیبر پختونخوا میں تیرہ سال کے طویل اقتدار کے دوران جو بدامنی، نااہلی اور معاشی تباہی کا طوفان برپا کیا گیا، صوبے کے عوام اس کی جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب محض سیاسی نعروں، منافقانہ بیانیوں اور الزامات کی سیاست سے اس بربادی پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا؛ عوام کو امن، ترقی اور حساب چاہیے۔
@FarhanKVirk انکے اسمبلی میں ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا. پچھلے 13 سال سے پی ٹی آئی اسمبلی کا حصہ ہے آج تک کوئی قانون سازی ہے انکے کریڈٹ پر؟ بس تنخواہیں اور مراعات لگی ہوئی ہیں