ہندو 3700 برسوں سے کالکی کا انتظار کررہے ہیں
بدھ مت والے 2,600 سالوں سے میتریہ کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہودی بھی 2500 سال سے مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔
عیسائی ��ھی قریب 2000 سالوں سے عیسیٰ کا انتظار کر رہے ہیں۔
اہلسنت بھی 1400 سال سے حضرت عیسیٰ کا انتظار کرتی ہے۔
سنی مسلمان 1300 سال سے امام مھدی کا انتظار کر رہے ہیں۔
شیعہ بھی 1080 سال سے امام مہدی کا انتظار کر رہے ہیں۔
دروز 1000 سال سے حمزہ ابن علی کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس وقت دنیا کے زیادہ تر مذاہب ایک "نجات دہندہ" کا انتظار کررہے ہیں، جب تک یہ نجات دہندہ آکر انہیں نیکی اور تقوی کے راستے پر نہیں چلائے گا تب تک دنیا برائی سے بھری رہے گی۔ شاید اس کرہ ارض پر انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اپنے مسائل خود حل کرنے کے بجائے کسی اور سے ان مسائل کے حل کرنے کی توقع رکھے ہوئے ہیں-
منقول
میری ساری زندگی، اللہ تعالٰی نے ہمیشہ مجھے اپنے اصول پر قائم رہنے کی رہنمائی کی ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نا بنوں ۔ اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے، مجھ پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے، لیکن میں کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادہ کے طور پر استعمال کرے۔ پاکستان میں جدی�� ترین پراجیکٹس متعارف کروانے پر مجھے اور میرے کاروبار کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ 1996 سے آج تک ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں۔ میں نے ماضی میں اللہ تعالٰی کی مدد سے اس طرح کے دباؤ کا پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ سامنا کیا ہے۔ آج بھی، ذاتی حیثیت میں، میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، "over my dead body ۔" اپنی بیمار حالت اور پریشانی کے باوجود، میں اللہ کی مدد سے اس مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم ہوں، روزانہ مالیاتی کاروباری نقصان برداشت کر رہا ہوں اور پوری طرح دیوار کے ساتھ دھکیل دیا جا رہا ہوں، لیکن کسی دباؤ کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔ اللہ تعالٰی اس مشکل دور میں عزت کے ساتھ میری رہنمائی اور مدد کرے گا اور مجھے سرخرو کرے گا ۔ انشاء اللہ.
بہت سے پاکستانیوں نے پوچھا ہے پاکستان میں 6ٹریلین ڈالرز مالیت کے معدنی ذخائر کی موجودگی کا دعویٰ کس تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے؟ یہ تفصیلات 2021 کے جیالوجیکل سروے آف پاکستان کی رپورٹ میں موج��د ہیں یہ تخمینہ ان معدنیات کا ہے جن کا سراغ تمام صوبوں میں مل چکا ہےرپورٹ کا عکس دیکھئے
جو لوگ جھوٹ بول کر فرار ھو رھے ہیں ا��کے گریبان ذرا پکڑے رکھیں۔۔انکے جھوٹ کو ننگا کرنے آگیا ہُوں خدائے اصلی کی صراطِ لامُستقیم پر۔۔۔
آئیے سمجھیں۔۔۔اقبال 1877 میں پیدا ھوئے! یہ یاد رکھیں
یہ لوگ کہہ رہے ہیں اجی اقبال اس وقت بچے تھے نوجوان تھے۔۔۔اوہ اچھا۔۔ جب پردادی اماں وکٹوریہ کا مرثیہ لکھا تو عمر بنی 24 سال۔۔(چلو مان لیا شادی شُدہ اقبال بچہ ہی تھا)
1901 میں ملکہ وکٹوریہ کی وفات ہوئی اور اسی دن عیدالفطر بهی تهی. علامہ اقبال نے اس موقع پر ملکہ وکٹوریہ کے غم میں ایک سو دس اشعار پر مشتمل پردرد اور طویل مرثیہ لکھا اور اس مرثیے کا انگریزی ترجمہ خود علامہ اقبال نے کیا. اس کا نام رکھا گیا "Tears of Blood"
اس مرثیہ میں اقبال کے اشعار ملاحظہ ہوں:-
آئی ادهر نشاط ادهر غم بهی آ گیا
کل عید تهی تو آج محرم بهی آ گیا
برطانیہ تو آج گلے مل کے ہم سے رو
سامانِ اشک ریزئی طوفاں لئے ہوئے
میت اٹهی ہے شاہ کی تعظیم کے لیے
اقبال اڑ کے خاک سراہگزار ہو
وکٹوریہ نہ مرد کہ نام نکو گزاشت
ہے زندگی یہی جسے پروردگار دے
ملکہ کے وجود سے ہندوستان کی محرومی کو انتہائی بدنصیبی بتاتے ہوئے وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ
اے ہند تیرے سر سے اٹها سایہ خدا
==> انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں انگریز گورنر پنجاب شریک ہوئے تو علامہ اقبال نے منظوم ہدیہ عقیدت پیش کیا اس کے یہ اشعار دیکهیے.
ہے کون زیب دہ تخت صوبہ پنجاب
کہ جس کے ہاتھ نے کی قصرِ عدل کی تعمیر
جو بزم اپنی ہے طاعت کے رنگ میں رنگین
تو درس گاہ رموزِ وفا کی ہے تفسیر
اس اصول کو ہم کیمیا سمجھتے ہیں
نہیں ہے غیر اطاعت جہان میں اکسیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
==> 22 جون 1911 کو اقبال کی عمر 34 سال ھو چکی ہے
(کیا وہ ابھی بھی بچہ ہے)
۔اس دن شہنشاہ جارج کا جشنِ تاج پوشی منایا گیا اور اس تاجپوشی کے لئے مسلمانوں نے بادشاہی مسجد کو مناسب و موزوں جگہ سمجھا. تاج پوشی کی رسوم منانے کیلئے جو اعلان نامہ شائع ہوا اس کا عنوان تها.
"لاہور میں کارونیشن ڈے کی اسلامی رسوم"
==> تاج پوشی کے حوالے سے علامہ اقبال کی نظم کے دو اشعار ملاحظہ کیجئے.
ہمائے اوج سعادت ہے آشکار اپنا
کہ تاج پوش ہوا آج تاج دار اپنا
اسی سے عہد وفا ہندیوں نے باندها ہے
اسی کی خاک قدم پر ہے دل نثار اپنا
۔۔۔۔
1918۔۔اقبال کی عُمر ھو گئی اب 41 سال۔۔۔یاد رھے 40 سال کی عمر پر نبوت مل جاتی ہے یہ مذھب میں کہا جاتا ھے اسی لئے چالیسواں اور چلہ 40 دن کا کاٹتے ہیں)
پس اقبال صاحب،،41 سال کی عُمر میں تین بیویوں والے ہیں اور 1918 میں لاہور کے ٹاون ہال میں سر مائیکل اوڈائر گورنر (پنجابیوں پر گولی چلانے والا جلیانوانہ باغ والا قاتل)پنجاب کی صدارت میں ایک جلسہ ہوا اس جلسہ کے انعقاد کا مقصد یہ تها کہ مصارف جنگ کیلئے پیسہ جمع کیا جائے اور پنجاب سے کم از کم دو لاکھ نوجوان میں بهرتی کئے جائیں.اس موقع پر علامہ اقبال نے ایک نظم پڑهی جس کے دو اشعار میں دعائے پر خلوص دیکهئے.
جب تک نسیمِ صبح عنادل کو راس ہے
جب تک کلی کو قطرہ شبنم کی پیاس ہے
قائم رہے حکومت آئیں اسی طرح
دبتا رہے چکور سے شاہیں اسی طرح
==> جاوید اقبال اپنی کتاب میں کہتے ہیں:-
"جہاں تک اقبال صاحب کا انگریزی حکام کی مدح میں یا فرمائش پر اشعار لکهنے کا تعلق ہے تو اقبال نے کئی نظمیں کہی ہیں جو خاص مواقع پر انہوں نے"" طبعاً، اخلاقاً یا مصلحتاً تحریر کیں اور جنہیں اس قابل نہ سمجھا کہ اپنے مطبوعہ کلام میں شائع کریں"، پهر اچانک ہی لکهتے ہیں کہ، "اقبال کا تعلق سر سید کے سیاسی مکتبہ فکر سے تها وہ کلمہ حق کہنے سے باز نہیں رہ سکتے تھے"(ھاھاھا)
(زندہ رود صفحہ 399)
۔۔۔
یہی 👺👽اقبال 60 سال کی عمر میں لکھتے ہیں
==> "ہندوستان کے مسل��ان شاید اسلامی ممالک کی حالت کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگا سکتے کیونکہ حکومت برطانیہ کے سبب جو امن اور آزادی اس ملک کے لوگوں کو حاصل ہے وہ اور ممالک کا ابهی نصیب نہیں ہے"
(کلیاب مکاتیب اقبال جلد 1 صفحہ 168)
==> علامہ اقبال نے اپنے لئے سر کا خطاب پسند کیا اور اپنے استاد سید میر حسن کے لئے شمس العلماء کیلئے خود پنجاب کے گورنر سرایڈورڈ میکلیگن کو سفارش کی!
گورنر صاحب سید میر حسن سے آشنا نہ تها..اقبال صاحب سے جب گورنر پنجاب نے پوچھا کہ ان کی کوئی تصنیف کا نام بتائیے تو اقبال صاحب برجستہ بولے:-
"ان کی سب سے بہترین تصنیف میں ہوں"
==> رابندر ناتھ ٹیگور کو بهی دینا چاہا تها انگریز حکومت نے سر کا خطاب لیکن انہوں نے یہ تاریخی جملے بول کر وہ خطاب واپس کر دیا.
""The time has come when honours and awards are being looked down upon my part, without such awards I want to be in the midst of my countrymen who are being contemptuous and inhumanely treated. Therefore, I shall request you to take back the honour bestowed upon me by his imperial crown"
(اوئے ھوئے۔۔۔منتیں ترلے۔۔۔وجوھات مانگ کر سَر کا خطاب لیا)🧎♂️🧎🧎♀️👢🎓
(حوالہ جات: کلیات اقبال ، زندہ رود از جاوید اقبال ، کچھ شامیں فکر اقبال کے ساتھ از سید نصیر شاہ)
علامہ اقبال کے بارے میں جون ایلیا کا اظہار خیال --------
جون ایلیا نے شمس الرحمان فاروقی سے کہا وہ شاعر عظیم کیسے ہو سکتا ہے جسنے کرداروں کی مدح سرائی کی ہو
جیسے ؟؟؟،
مثلا ڈاکٹر اقبال کا ہیرو بیک وقت اورنگ زیب بھی ہے اور سرمد بھی ۔۔۔ ایک ہی شاعر بیک وقت قاتل اور مقتول دونوں کو بلند کردار کہہ رہا ہے۔۔ مسولینی میں عظیم انسان کی کون سی خوبیاں تھی؟ وہ ڈاکٹر اقبال کا ہیرو کیسے ہوگیا؟ برٹش امپائر کے شہنشاہ کے سامنے اقبال نے سر تسلیم کیسے خم کردیا؟ کیا عظیم شاعر کا ی��ی کردار ہوتا ہے کے وہ ہر طبقے کے لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرے؟ اور شاہین ایک ایسا خونخوار طائر ہے جس میں رحم کا جذبہ ہرگز نہیں ہوتا۔۔کیا اقبال نے شاہین کو علامت بنا کر انسان کو خونخواربننے کی تعلیم نہیں دی ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔
اس گرما گرمی کے سبب محفل پر کچھ دیر کے لیے خاموشی طا��ی ہوگئی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔رفیع رضا۔۔۔۔۔۔۔۔
@_Mansoor_Ali
@HamidMirPAK
@BBCBreaking
@Rabwhian
@arynewsud
یہ بتائیں حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ وغیرہ نے
کیوں ذاتی زندگی میں۔
1- انا اور خودی نہ رکھی( وظیفوں اور بھائی کی مسلسل امداد)
2- ملّت کے لئے انگریز کے خلاف کھڑے کیوں نہ ھوئے
3۔ مشرق سے سورج نکل رہا تھا تو مغرب کیوں پڑھنے گئے معاشقہ وھیں کیوں کیا؟
4۔ اردو، پنجابی کی بجائے پہلی کتاب farsi کیوں لکھی؟
5- یوروپ کی تہذیب جو اپنے خنجر سے آُپ خودکشی کرے گی کب پوری ھوگی۔۔؟
6- سلطنت عثمانیہ نے دنیا کی بھلائی کے لئے کونسی چیزیں ایجاد فرمائیں؟
7-تیر و سناں اوّل۔۔۔طاوس و رباب آخر۔۔۔۔ کے تحت آپ نے تیر و سناں کی بجائے۔۔ یوروپ ، انگلینڈ پڑھنے جانے کا کیون سوچا؟
8- اگر مذھب اسلام و قرآن ھی سچے تھے تو گھر میں ھالینڈ کی آیا کیوں رکھی؟ وہ تو کافرہ تھی۔۔
9- پروفیسر تھامسپن کو کیون خط لکھا کہ میں ھرگز پاکستان کے لفظ کا خالق نہیں نہ الگ ریاست کی بات کرتا ہُوں۔یہ مجھ پر الزام لگا ھے۔میں انگریز کے زیر سایہ جداگانہ ریاست کی بات کرتا ہوں
10- پاکستانی نصاب کے برعکس اقبال توھم پرست مردہ پرست کیوں تھے۔ کیوں اجمیر شریف و نظام الدین اولیا کے مزار پر اولاد نرینہ کی منت مانی؟
11- اقبال یوروپ جاتے رھے لیکن مکہ حج کو کیوں نہ گئے؟
12-- عطیہ فیضی کو کیوں بتایا کہ بیوی سے ناخوش ہوں میں شراب پی پی کے خود کو ھلاک کر لُوں گا۔
13۔۔احمدیت کو غدّار ملت کہا تو احمدی بڑے بھائی سے پوری عمر کیوں وظیفہ لیتے رھے؟
14۔۔ پہلے کیوں مرزا غلام احمد کی شان میں مولویوں کے خلاف نظمیں لکھیں؟ بعد میں مرتد کیوں ھوئے؟ احر��ر کو کیوں جوائن کیا مسلم لیگ کو کیوں نہیں؟
15۔۔احمدیوں کے بارے جو بات کہی وُہ اپنے باپ نہرو کو کیوں بتائی۔۔جناح سے ڈسکس کیوں نہ کی۔۔تا وہ قیما پاکستان کے بعد سر ظفر اللہ احمدی کو وزیر خارجہ نہ بناتے۔۔؟
اب یہاں ایک اہم سوال سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے کہ آیا مسلم لیگ کی قیادت نے تحریک پاکستان کے دوران میں کبھی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کا تصور علامہ اقبال نے پیش کیا تھا اور وہ ان کے تصور کے مطابق ایک نئی مملکت کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم مسلم لیگ کی دستاویزات سے رجوع کریں اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ مسلم لیگ کے سالانہ جلسوں کی رودادیں مطبوعہ صورت میں دستیاب ہیں۔ ان کے مطالعے سے تحریک پاکستان کے بارے میں مسلم لیگ کی جدوجہد کو جاننے کے لیے ہمیں بنیادی آگاہی میسر آتی ہے۔
1938ءکا سال مسلمانان ہند پر بہت بھاری تھا کہ اس برس علامہ اقبال اور مولانا شوکت علی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اسی برس دسمبر میں پٹنہ کے مقام پر مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا اور اس موقع پر م��لانا شوکت علی کے انتقال پر 234 الفاظ پر مشتمل قرارداد تعزیت منظور کی گئی جس میں ان کی سیاسی خدمات کو بے پناہ خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی علامہ اقبال کے لیے جو قرارداد تعزیت منظور کی گئی وہ صرف 96 الفاظ پر مشتمل ہے اور اس قرارداد میں انہیں بطور فلسفی اسلام اور ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت سے خراج تہنیت پیش کیا گیا ہے تاہم ان کی سیاسی خدمات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔
اسی اجلاس میں قائد اعظم نے اپنی صدارتی تقریر میں مولانا شوکت علی کا تذکرہ زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا اور اس سے مختصر تر الفاظ میں علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کیا جس میں ان کی شاعرانہ عظمت کا ذکر تو ��یا مگر ان کی سیاسی خدمات کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ اس کے بعد مارچ 1940ء میں مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں مشہور زمانہ قرارداد لاہور منظور کی گئی اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ اس اجلاس کی پوری کارروائی کے دوران میں کسی مقرر نے اور نہ جناح صاحب نے اپنی تقریر میں اس بات کا کوئی ذکر کیا کہ وہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔ حتی کہ مسلم لیگ کے 1947ء تک منعقد ہونے والے سالانہ اجلاسوں میں کبھی اقبال کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا نہ کسی مقرر نے انہیں تصور پاکستان کا خالق قرار دیا۔
(ادب لطیف کا شکریہ)
رفیع رضا
یہ کہنا کہ جناح کو وقت نہ مِلا یا مرنے دیا گیا کا جواب یہ ہے کہ
اسکے علاوہ انہوں نے پہلے کیا اچھا کیا تھا جو رہ جاتے تو اچھا کرنا تھا۔۔۔مزھبی بھیس بدل کر انہوں نے پاکستان کو تباہ و برباد مستقبل دیا۔ انہوں نے جھوٹ بولا کہ ھندووں سکھوں اور مسلمانوں سب کا کھانا پینا رھنا سہنا الگ ہے۔۔سچ تو یہ ہے کہ ہم سب میں بے تحاشہ مماثلت ہے،،رسومات کا فرق تو خود ھندووں کے بیچ بہت ہے شیعہ اور سنی رسومات تو نہایت مختلف ھین۔۔کیا جناح کو خبر تھی کہ وہ خود مسلمانون کے فرقوں کے بیچ شدید فرق کو سمجھنے سے قاصر رھے؟
انہوں نے بیشتر زندگی کوٹ پینٹ ٹائی سگار سگریٹ میں گزاری بلیئرڈ کھیل کر وقت گزارا۔۔۔اور پاکستانی قائد بنائے جانے پر شلوار قمیص چڑھا لی ٹوپی پہن لی۔۔۔ یہ افسوسناک بھیس بدلاؤ کسی اور قوم کے لیڈر میں کیوں نہیں ھوتا؟ ذرا غؤر کریں دنیا بھر میں؟،،
انہوں نے یہ فریب یا بیان کیوں دیا کہ ،
"
’آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘"
اگر پاکستان میں جو آپ سب کے مطالعہ پاکستان کے مطابق مسلمانوں کے لئے الگ ملک ھے تو جناح کس حس��ب میں ھندووں کو سکھوں یا عیسائیون کو مندروں میں جانے کی آزادی تفویض کر رھے ھیں؟" کیا ھندوستان میں مسجدوں چرچوں میں جانے سے کسی کو کبھی روکا گیا تھا؟
بانیِ پاکستان کے سوانح نگار ہیکٹر بولائتھو نے اپنی کتاب ’Jinnah: Creator of Pakistan‘ میں تحریر کیا ہے کہ ’قائد اعظم کا وہ خطبہ جو انھوں نے 11 اگست 1947 کو مجلس آئین ساز کے صدر کی حیثیت سے پڑھا، اُس کی تیاری پر انھوں نے کئی گھنٹے صرف کیے تھے۔ اس خطبے کے ذریعے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ پاکستان کے سب شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور اس معاملے میں مذہب و ملت کا کوئی امتیاز روانہ رکھا جائے گا۔‘
ہیکٹر بولائتھو آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’قائداعظم نے یہ تقریر انگریزی زبان میں کی تھی، جس سے پاکستان کی آبادی کی غالب اکثریت ناآشنا تھی، تاہم یہ تقریر ان کی رواداری اور وسعت نظر کی بین دلیل ہے۔ چار دن پہلے جب محمد علی جناح فاتحانہ شان سے کراچی کی سڑکوں پر سے گزرے تھے تو انھوں نے شہر کے ہندوؤں کو خاموش اور متفکر پایا تھا۔ آئین ساز اسمبلی کا خطبہ افتتاحیہ لکھتے وقت غالباً یہی ہندو قائداعظم کی چشم تصور کے سامنے ہوں گے۔‘
بانی پاکستان کی یہ تقریر ان کی تقاریر کے سبھی مجموعوں میں موجود ہے جن میں سرکاری طور پر شائع کردہ مجموعہ Quaid e Azam Mohammad Ali Jinnah:Speeches and Statements (1947-48) اور ’جناح پیپرز‘ کے نام سرفہرست ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ تو یہی ہے کہ جناح کی اس تقریر کو غ��ئب کریں یا نہ کریں یہی ثابت ھوتا ھےکہ جناح کو خود نہین پتہ تھا کہ اب یہ لُولا لنگڑا پاکستان جو دیا گیا ھے وہ کس نہج پر چلایا جائے۔۔
اسی لئے اپنی طرف اپنی لبرل طبیعت کے سبب انہون نے ھندووں عیسائیوں سکھوں سب کو حقوق دینے کا اعلان کیا۔۔۔جو کہ آھستہ آھستہ مذھبی مسلمان غنڈوں کی کوششوں اور فوج کی ایما پر ختم کر دئیے گئے۔۔۔اور آئین مین ترمیمات کی گئیں۔غیر مسلم کا صدر بننا منع ھو گیا۔ احمدی کافر ھوگئے۔۔ غرض ملک تباہ ھو گیا ٹوٹ گیا۔۔لیکن باقی ماندہ پاکستان مین مزید جہادی تجربے کئے گئے اور اب پاکستان ایک ناکام ریاست ہے جسے جب یوروپ غنڈہ کہے تو کئی سال کی محنت کے بعد پاکستان کہتا ھے دیکھو اب میں غنڈہ موالی نہیں مجھے فیٹف کی سیاہ یا سرمئی فہرست سے نکالو۔۔۔۔
میں پورے علمی وثوق سے کہتا ہوں پاکستان کی تباھی میں مذھب کا کلنک جناح کے معذرتانہ روئیے، شیروانی شلوار کا بھیس بدلنے اور سر ظفر اللہ سمیت اسلامسٹ بنیاد پرستوں کا عروج تھا۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ��ر ظفر اللہ جو احمدی تھے اور جنکے جماعت نے پہلی جہادی لشکر کشی الفرقان فورس کے ذریعے کشمی پر کی۔۔۔اُسی جماعت کو پاکستان کی اسمبلی نے کافر ہی قرار نہین دیا بلکہ پاکستان کے کثرت سے جاھل طبقے میں قابل قتل بنا دیا،،،یہ مذھبی خدا کا انعام ہے یا سزا؟ یہ سوال پھر کبھی سہی۔۔۔لیکن جناح کی کچی پکی پالیسی نے پاکستانی ریاست کو ایک کنفیوزڈ ریاست بنا دیا۔ خود ذاتی زندگی میں جناح اپنے دوست کی 16 سالہ بیٹی کو بھگا لے گئے۔۔اسی لئے پاکستان میں جناح پر پی ایچ ڈی حرام قرار دے دی گئی ہے۔کہ مزید راز نہ کُھلیں۔۔
علامہ اقبال کے بیٹے جسٹس اقبال نے بار بار کہا اور ریکاڑد ویڈیوز مین موجود ہے ��ہ کہتے ہیں میں حیران ہوں لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں نے بنوایا۔۔پاکستان ھندووں نے بنوایا اور دیکھو مسلمان تقسیم در تقسیم ھوئے۔۔ بنگلہ دیش بھی الگ ھوا۔۔جو اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ اسلام کے نام پر اقوام کا اکٹھا کرنے والے احمق بے عقل لوگ تھے ! یوں بھی عالم اسلام میں شیعہ سنی کی لڑائی۔۔ باقی فرقوں کا ایک دوسرے کا قتال و کفر کے فتوے یہ بتانے کو کیسے کافی نہیں کہ اسلام کے نام پر آپ تھوڑی دیر کے لئے کسی کو اکٹھا کر سکتے ہیں مگر وہ فرقے اور نسل کی وجہ سے لازمی الگ ھونگے۔۔
آپ اگر غور کریں تو پاکستان کے بعد کے حکمران یا لیڈر بھی ایسے ہی کنفیوزڈ نکلے۔۔بھٹو۔۔۔ ایک لبرل غیر مذھبی شخص۔۔مگر احمدیوں کو کافر قرار دلوایا۔۔۔
عمران خان ایک شہوت بھرے ماضی کیساتھ مدینہ اور اسلام کی بک بک کرنے والا ، ٹوٹ خاندان والا،،،ریاست کے خاندانوں کی رھنمائی کا دعوی کرنے والا۔ اپنے بچوں کو بےسہارا کرنے والا قوم کا سہارا بننے کی مکاری کرنے والا۔
پاکستان کا مطالعہ پاکستان نامی تاریخ کا میدان یکطرفہ جھوٹ س�� بھرا پڑا ہے۔
یہ بتایا جاتا ہے کہ تقسیم ھندوستان مین مسلمانوں ہی کو قتل کیا گیا اور قتل کرنے والے ھندوو ہی تھے۔۔۔جبکہ نہایت کثرت سے مسلمانوں نے ھندووں کو ھر جگہ قتل کیا۔ سکھوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ۔۔مسلمانوں نے سکھوں کو قتل کیا۔سب نے ایک دوسرے کی عورتیں لڑکیاں اغوا کیں۔لوٹ مار کی۔۔لیکن پاکستانی مطالعہ پاکستان میں صرف مسلمانوں کو مظلوم بتایا گیا۔۔
میرا سب سے اھم اور بڑا سوال یہ کہ اگر ھندوستان میں مسلمانوں کی زندگی ہی اجیرن تھی۔۔تو جناح کیسے پڑھ گئے اور مزے کی امیر زندگی کیسے گزاری؟ اقبال نے کیسے کامیاب زندگی گزاری۔۔اقبال کے بھائی نے کیوں اتبی دولت کمائی کی بھائی اقبال کو بھی پوری زندگی سپورٹ کیا؟
کیا لیاقت علیخان کوئی ھندووں سے مار کھاتا ھوا فرد تھآ؟
کیا سر ظفر اللہ خان ایک امیر گھرانے سے تعلق نہین رکھتا تھا؟ کیا شبلی نعمانی عزت دار نہیں تھا۔۔کیا سرسید کو پوری آزادی نہ تھی؟
کیا مندرجہ بالا تمام لوگوں کو ہندوستان میں پوری تعلیم کی آزادی نہ تھی؟ پھر کسی بات کی آزادی؟ اور آزادی کا مزہ چکھ لیا؟ بنگلہ دیش کا عظیم چرکہ کیسا لگا؟
کیا باقی ماندہ پاکستان کے رھنے والوں کو کبھی عقل آئے ��ی کہ انکے ساتھ ہُوا کیا ہے؟
رفیع رضا