Seventeen years ago today, Zakir Majeed was disappeared.
There are people in Balochistan today who are younger than his absence.
They have grown up seeing his face on posters, at protest camps, in the hands of a family that has had to keep proving, year after year, that he existed, that he was loved, that he was taken, that someone must know where he is.
Seventeen years is not a number. It is hair turning white. It is a mother learning the sound of every knock and still looking toward the door. It is Eid after Eid with one place in the house that no one knows how to fill. It is a family forced to live beside an unfinished sentence.
Today, on Baloch Missing Persons Day, we remember Zakir Majeed and all those whose names have been dragged through years of silence. But remembrance is not enough when a person has been missing long enough for a generation to inherit his absence.
Where is Zakir Majeed?
Seventeen years later, that question remains exactly where his family first placed it: before the authorities, before the courts, before the conscience of a country that has learned to scroll past the disappeared.
A disappearance does not end because the public gets tired of hearing about it or because the state has decided to alter its own narrative on ‘missing persons’ again.
It ends when the truth is returned. At this point, most are only asking for the indication of their loved ones’ graves.
#BalochMissingPersonsDay
#ReleaseZakirMajeed
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے،پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔
یہ رعایت نہیں، کھلی م��اشی ناانصافی ہے ماہر معاشیات قیصر بنگالی
How selective our outrage is. We choose what is convenient to mourn and what is convenient to ignore. We decide which wounds deserve a voice and which must remain unnamed. We speak of some violences and make homes for others. And what we make room for, eventually, becomes normal.
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص اتنا بیوقوف ہوسکتا ہے کہ کسی ملک کے لیے جاسوسی بھی کرے اور اس ملک کے قومی کھیل کا وردی بھی پہنے؟ یہ ہمارے #بلوچستان کا حال ہے جہاں کے نوجوانوں کو جبری اغواء کرکے، تشدد کرکے اور قتل کردیا جاتا ہے اور انکے قتل کی ایسی مضحکہ خیز وجہ بھی دی جاتی ہے؟
Turbat: The body recovered from Nok Kahan near Kalatuk has been identified as Hammad, son of Master Nazir, a resident of Nodiz and currently residing in Kalatuk.
If the Balochistan government cannot guarantee the safety of a female doctor inside Quetta’s Civil Hospital, one of the most visible, central, and institutional buildings in the province, then what hope exists for women in the far-flung villages.
@SKhaqanAbbasi Your fanbase account is spreading hateful & derogatory content targeting #Baloch women & the non-violent female activists of BYC.If you are unaware,please investigate & take action.If you are aware & remain silent,it amounts to endorsing their toxic behavior.
My cousin, Shahzad Qambrani, was abducted from his home in Killi Qambrani last night. This is not the first time this has happened, he was previously abducted in 2017 and remained missing for two years before being released.
بعض ریاستی نمائندے اور بلوچستان اسمبلی کے چند اراکین کی جانب سے میرے، میرے ساتھیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کی ایک واضح اور منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ یہ الزامات ایسی فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کے مطالبے کو ریاست دشمنی قرار دیا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی، غیر مسلح اور پرامن پلیٹ فارم ہے جو قیام سے اب تک بلوچ عوام کے بنیادی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں: جبری گمشدگیاں ختم ہوں، ماورائے قانون گرفتاریوں کا خاتمہ ہو، اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو، بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کے حق کو تسلیم کیا جائے ،اور بلوچستان کے عوام کو ان کے آئینی اور تاریخی حقوق دیے جائیں۔
بدقسمتی سے ریاستی عناصر ان مطالبات کا جواب دینے کے بجائے جھوٹے الزامات، کردار کشی اور پروپیگنڈے کے ذریعے عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ الزامات نہ صرف میرے اور میرے ساتھیوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے ہیں بلکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن جدوجہد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔گزشتہ ایک سال سے بلوچ یکجہتی کمیٹی مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، سمی بلوچ، لالا وہاب اور دیگر ورکران نے انتہائی مشکل حالات میں بھی تنظیم زمہداریوں کو پورا کیا ، بی وائی سی بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے پامالیوں کے زمہ دارانہ رپورٹنگ کر رہی ہے ،بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ عوام کے نمائندہ تنظیم ہے ، عوامی تحریک کو بزور طاقت کچلنے سے بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے اس ریاست میں پر امن جدوجہد کیلئے کوئی جگہ نہیں ، جنگی منافع خوروں کیلئے بلوچ قوم کے زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں ۔
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کے لیے کوئی قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں ہیں۔بلوچستان میں مسلح تنظیموں کے کاروائی کے بعد ریاستی ادارے اپنے نہ اہلی کو چھپانے کے ناکام کوشش میں بی وائی سی کے خلاف ایک نیا جھوٹا پروپیگنڈہ تیار کرتے ہے، اور پھر بلوچ عوام کے وسائل کا استعمال کر کے اس پروپیگنڈے کو پرنٹ اور سوشل میڈیا میں شائع کیا جاتی ہے ، ہم سوال کرتے ہے کہ کیا اس پروپیگنڈے سے آپ بلوچ قوم کے دلوں میں محفوظ ریاستی جبر کے داستانوں کو مٹا سکتے ہے ؟ کیا آپ جبراً پریس کانفرنس کروا کر بلوچ ماں کے دل سے اس کے بیٹے کے وجود کو ختم کر سکتے ہے ؟ بلوچستان میں ریاستی جبر بلوچ قومی شناخت کے جدوجہد میں کے سب سے بڑا catalyst ثابت ہوا ہے یہ تحریک جسے آپ بزور طاقت اور اپنے hard State کے زریعے کچھلنا چاہتے ہے، یہ بلوچ قوم کے خلوص ، قربانی اور اپنے وطن سے بے پناہ محبت کے احساس اور ہمارے شہیدوں کے قربانی کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے ، ہم اپنے شہیدوں کے قربانی اور اپنے باوقار قوم کے طویل مسافت کو کبھی ضائع نہیں ہونے دینگے ، یہ اس سفر کے شروعات ہے جس کا خواب ہمارے شہیدوں نے دیکھا تھا ، کہ کبھی بلوچ علاقے ، قبیلے، زبان کے تفریق سے بالاتر ہوکر اپنے وسیع تر قومی مفادات کیلئے متحد ہونگے اور جو عوامی سیلاب آپ نی راجی مچی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں دیکھا تھا ، وہی بلوچ قوم کے اجتماعی قومی شعور ہے ،بلوچ عوام آج بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سیاسی موقف کے بھر پور ہمایت کرتی ہے ، جس کی وجہ سے ریاست کی جانب سے ہر وقت ایک نیا پروپیگنڈہ اور نیا بیانیہ بنانے کے کوشش کی جاتی ہے ، مگر ان تمام حربوں کے باوجود بلوچ عوام کے ��رامن جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بلوچ دانشور اور سیاسی کارکن اپنی بنیادی حقوق کے جدوجہد سے پیچھے ہٹیں گے۔
میں انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس منظم بیانیے کے پیچھے موجود حقائق کو بغور دیکھیں اور بلوچستان کی زمینی صورتحال کا آزادانہ جائزہ لیں۔ بلوچ سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور BYC کی پرامن جدوجہد کو جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے سے بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہم قبول نہیں کریں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قلم، علم اور پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی گئی، حقیقت اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئ��۔ میں ایک بار پھر واضح کرتی ہوں کہ یہ الزامات ہمیں نہیں روک سکتے کیونکہ ہماری قومی مزاحمت ہی ہماری زندگی کا مقصد بن چکا ہے اور بلوچ عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
3 جون 2026
شہید عمیر جان کی بہن چیختی، چلاتی اور فریاد کرتی رہی۔ وہ گاڑی سے اتر کر اپنے معصوم بچوں کو دکھاتی رہی کہ "ہم سویلین ہیں، ہم پر گولی نہ چلاؤ"، مگر ریاستی جبر کے نشے میں مست اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ نہ ایک عورت کے سر پر موجود دوپٹے کا احترام کیا گیا، نہ بچوں کی معصومیت کا خیال رکھا گیا، اور نہ ہی انسانی جان کی حرمت کو مدنظر رکھا گیا۔
عمیر جان گولیوں سے چھلنی ہو کر شدید زخمی حالت میں پڑے تھے۔ جب ان کی مدد کی جانی چاہیے تھی، جب انسانیت کا تقاضا تھا کہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جاتی، تب درجنوں مسلح اہلکار ان کے قریب پہنچے مگر زندگی بچانے کے بجائے گاڑی کے ٹائر پنکچر کر دیے گئے، گاڑی کا آئل ضائع کر دیا گیا، اور یہ کہہ کر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا کہ "راستے بند ہیں، نہ ایمبولینس ملے گی اور نہ کوئی گاڑی، کہیں جا کر بیٹھ جاؤ۔"
اس بے بسی کے عالم میں ایک بہن اپنے زخمی بھائی کے زخم اپنے دوپٹے سے باندھنے کی کوشش کرتی رہی۔ عصر کے وقت پیش آنے والا یہ سانحہ مغرب تک پہنچ گیا، مگر مدد کے لیے کوئی نہ آیا۔ عمیر جان درد اور اذیت میں اپنی آخری سانسیں لیتے رہے، زبان پر کلمۂ طیبہ جاری تھا، جبکہ ان کی بہن قطرہ قطرہ پانی ان کے منہ میں ڈال کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی۔ خوف اور دہشت کا ایسا ماحول مسلط تھا کہ پورے علاقے سے کوئی شخص مدد کے لیے نہ نکل سکا، نہ کوئی گاڑی میسر آ سکی اور نہ ہی زخمی کو ہسپتال پہنچانے کا کوئی راستہ بنایا گیا۔
گھنٹوں تک درد سے تڑپنے کے بعد عمیر جان زندگی کی بازی ہار گئے۔ مگر ظلم کی داستان یہاں ختم نہ ہوئی۔ رات بھر ان کی میت کو وہاں سے نکالنے اور تدفین کے انتظامات کرنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ یہ ایسا المیہ ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ ایک ایسا ظلم جس کی مثالیں تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں تلاش کی جاتی ہیں۔
عمیر جان کے گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ خوشیوں کے چراغ روشن ہونے والے تھے، مگر ظالموں نے اس گھر کو ماتم کدہ بنا دیا۔ ایک بوڑھی ماں کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا گیا، بہنوں کے سروں سے بھائی کا سایہ اٹھا لیا گیا، اور ایک خاندان کو عمر بھر کے لیے ایسا زخم دے دیا گیا جو کبھی نہیں بھر سکے گا۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی شہادت نہیں، بلکہ اس سوال کی علامت ہے جو ہر صاحبِ ضمیر انسان کے دل میں اٹھتا ہے: اگر ایک شہری اپنی شناخت، اپنی بے گناہی اور اپنے بچوں کی معصومیت دکھانے کے باوجود محفوظ نہیں، تو پھر انصاف، قانون اور ریاستی ذمہ داری کے دعووں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر خاموشیاں تو مسلط کی جا سکتی ہیں، مگر مظلوموں کی آہیں اور ناانصافی کی داستانیں کبھی دفن نہیں ہوتیں۔ عمیر جان کا نام بھی انہی داستانوں میں زندہ رہے گا جو ظلم کے خلاف گواہی دیتی ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں۔
سردار اختر مینگل اور ایمل ولی کی سیاست عجیب سی ہے، دونوں کے کارکنان اغواء اور قتل کردیے جاتے ہیں لیکن انکا بیان اور ردعمل ایسا ہوتا ہے کہ ریاست بُرا نہ مان جاۓ اور آنے والے الیکشن میں انکی سیٹیں نہ کم ہوجائیں.
Pakistani ‘liberals’ are the cursed to the society.
Cancer Rana is a filth. A hate monger, and people like him have no right to say or speak on any platform. This is not right to speech, it’s a hate speech.
Us k saath spaces karna se us k like minded aik saath hojatay hain.