عمران کا پیغام میں پھر سے دہرا رہی ہوں، عمران خان نے کہا 5 اگست کو مجھے گرفتار کیا گیا تھا او اسی دن تحریک نقطہ عروج پر ہونی چاہیئے
ایک سال پہلے علیمہ خان کی گفتگو 🔥
مراد سعید کا منظر عام پر آنا یا نہ آنا ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔ منظر عام پر آکر ، آدھے گھنٹے بعد گرفتار ہوکر ، کسی ٹارچر سیل میں پہنچنے کی بجائے بہتر ہے کہ مراد سعید محفوظ رہیں اور محتاط رہیں۔ جن کے پاس اختیارات ہیں ، حکومت ہے ، عہدے ہیں تحریک چلانا بھی انہی کا کام ہے۔ یہ قریب قریب ویسا ہی مطالبہ ہے جو بے نامی اکاونٹس سے کیا جاتا ہے کہ سامنے آکر خود لیڈ کرلو۔
البتہ مراد سعید کے پاس انٹرنیٹ کی رسائی موجود ہے وہ سوشل میڈیا پر بیانیے کی مہم اٹھا سکتے ہیں۔ پختونخواہ حکومت کو دباؤ میں لاسکتے ہیں۔ بغیر کسی اختیار کے ، بغیر کسی عہدے کے ، بغیر کسی تنظیمی نیٹ ورک کے مراد سعید باہر آکر کچھ بھی نہیں کرپائے گا۔
کل ارجنٹینا کی ہار سے پٹواریوں کو پہلی بار احساس ہوا ہے کہ ایمپائر ساتھ ہونے کے باوجود بھی ہارا جا سکتا ہے۔ تب سے ان کی آئندہ الیکشن کا سوچ کر پھٹی پڑی ہے۔
کیا پاکستان تحریکِ انصاف میں، عمران خان کے نام پر ایوانوں میں جانے والے، وزیرِ اعلیٰ کی کرسیوں پر مزے کرنے والے، روپوشی میں بیٹھنے والے، کوئی ایک سیاست دان عمران خان اور اُن کی بہنوں کے حق میں ایسا بیان دے سکتا ہے؟
سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کی ریلیوں کے جس مومینٹم کو توڑا تھا علیمہ خانم نے دوبارہ بحال کردیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بھی بے شرمی اور ڈھٹائی کی بجائے اپنے مقصد کی جانب لوٹنا ہے۔
اگر آپکو لگتا ہے کہ فضل الرحمان صاحب کی بغاوت اصلی بغاوت ہے اور اس کے پیچھے جنرلز نہیں ہیں تو پھر بد قسمتی سے آپ stunted growth کا شکار ہیں۔ اللہ آپ پر رحم کرے۔
یہ بس ایک نیا جرنیلی پراجیکٹ ہے۔ اور کچھ نہیں۔