چن صاحب کیا موجودہ فسطائیت میں بلاول صاحب کی پارٹی نے PDM کا مکمل ساتھ نہیں دیا؟ کیا سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف بدترین کاروائی��ں میں حصہ دار نہیں رہے؟ سیکھتا کوئی نہیں مگر سکھاتے سب ہیں۔
میرے غائب ہونے کے دوران کن دوستوں اور صحافیوں نے کیا کردار ادا کیا اس حوالے سے میں لاعلم رہا گزشتہ 3 دنوں میں میں نے کافی معلومات اکٹھی کی ہیں۔ کچھ دوستوں نے تو میرے لیے آواز اٹھانے کی بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔ صرف لاعلمی اور صحت کے مسائل کی وجہ سے انکا شکریہ ادا نہیں کر سکا۔ انشاءاللہ سب کا مل کر شکریہ ادا کروں گا۔ جزاک اللہ
شیر افضل مروت نے باجوڑ میں پناہ لیکر پختون ولی کیمطابق اپنے میزبانوں سے جان کی بازی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلحہ رکھنا پختونوں کا کلچر ہے اور مہمان کے لئے وہ جان بھی دے دیتے ہیں ۔ اگر گولیاں چلیں گی تو لاشیں بھی گریں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو دہشت گرد تنظیم بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور ورکرز کو دہشت گرد بول کر جیلوں میں بند کیا جاسکتا ہے۔دونوں اطراف معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ سیاسی اور قانونی مسئلہ کو سیاست اور عدالت نا کہ گولی اور بندوق سے حل کیا جانا چاہیے۔ یا تو انڈر گراونڈ ہوجائیں یا عدالت جائیں۔
جس طرح میں نے پہلے کہا کہ:
بندہ ایک ہی وقت میں چی گوریریا اور نیلسن منڈیلا نہیں بن سکتا۔ دونوں میں سے ایک کردار ہی بننا ممکن ہے۔
آئی ایس آئی/جرنیلوں کے لئے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کسی کا بھی استعمال یا قتل کروانا کوئی مشکل کام نہیں۔
اللہ شیر افضل مروت کی حفاظت فرمائے اور ناداں اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت دے۔
آمین
#SherAfzalMarwat
اسلام و علیکم
میں آپ سب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج میں زندہ اور صحیح سلامت ہوں تو یہ سب اللہ رب العزت کی مہربانی اور آپ سب کی دعاؤں کی وجہ سے ہے۔ اللہ رب العزت کے کرم اور فضل سے میں ابتک کافی ریکور کر چکا ہوں اور انشاءاللہ بہت جلد واپس آؤں گا۔ دعاؤں کے علاوہ ایک درخواست اور ہے کہ کچھ بھی ہوجائے “دل نہیں چھوڑنا”
پاکستان زندہ باد
#دل_نہیں_چھوڑنا
پاکستان کے مقبول اور معتبر ترین قائد کی غیرقانونی قید کے 100 روز
ایک قاتلانہ حملے میں گولی کا نشانہ بننے سے لیکر ان کی رہائش گاہ پر یلغار کئے جانے، اسے تہہ و بالا کر دینے، اس پر آنسو گیس برسانے اور اب انصاف سے محروم کرتے ہوئے انہیں ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں قید کئے جانے تک سب کچھ کے باوجود عمران خان اپنے اصولوں پر پہرہ دیتے ہوئے ان پر ڈٹ کر کھڑے ہیں اور انہوں نے اپنی قوم سے کہا گیا ہر حرف، اپنے لوگوں سے کیا گیا ہر وعدہ سچ کر دکھایا ہے۔
تاریخ ضمیر کے دیگر دس ہزار سے زائد قیدیوں کے ہمراہ اِس دورِ یزیدیت میں جب حق پر ڈٹ جانا ہی اہم (اور تقاضۂ ایمان) تھا،ظلم کےمقابلےمیں تاریخ کےصحیح رُخ(راہِ حق) پر کھڑا ہونےپر جنابِ چیئرمین کو ہمیشہ یاد رکھےگی اور پاکستان کی حقیقی آزادی کیلئےاپنی جانوں کےنذرانےپیش کرنے والوں کی عزیمتوں پر عقیدت و احترام کے پھول نچھاور کرتی رہے گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے معزز بنچ جس نے جناب حنیف عباسی صاحب کو مشہور زمانہ Ephedrine Case میں باعزت بری کر دیا ہے اور وہ تمام پاکستانی میڈیا پلیٹ فارم اور اخبارات جنھوں نے اسے رپورٹ کیا ہے، کسی نے اس اسٹیج پہ عوامُ کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ Ephedrine Case ۲۰۱۱ میں اس وقت بنا تھا جب ایک انٹرنیشنل ادارے International Narcotic Control Board نے پاکستان کی حکومت کو شکایت لگائی تھی کہ پاکستان کی منسٹری ہیلتھ Health Ministry اور فارما کمپنیز Pharmaceutical Companies دونوں ہی Ephedrine quota کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور پاکستان سے Ephedrine ایران کے راستے یورپ اسمگل ہو رہی ہے! حکومت PPP کی تھی، وزیراعظمُ یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے موسی گیلانی کی کمپنی پے بھی الزامُ تھا، ANF کا کیس انٹرنیشنل دباو میں بنا تھا، حنیف عباسی کے بھائی باسط عباسی September 2013 میں اس وقت گرفتار ہوے جب نواز شریف وزیر اعظمُ پاکستان تھے! اندازہ اور قیاس ہے کہ حنیف عباسی نے اس کیس سے جان چھڑانے کے لئے بہت محنت کی تھی، ان کی پارٹی کی حکومت تھی! اب عدالتیں اور میڈیا بھول گئے سب بات! مگر سیاسی اشرافیہ کی راہ ہموار کرتے کرتے پاکستان کے تمام ادارے ختمُ ہوتے جا رہے ہیں! پولیس، عدالتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی جنازہ نکل گیا ہے! تفصیلات ان معملات کے ۱۴ منٹ یا پھر ۱۹ منٹ کے بعد دیکھیں اور عش عش کریں! اور اپنے سے سوال پوچھیں کہ ھماری اس نظام کا مستقبل کیا ہے؟ https://t.co/tAoQNOi8hc via @YouTube