Everyone listen to this. Khan Sahib has been saying from the very beginning that there has been interference.
Today Khan's statement was sealed.
لیکن مورخ پریشان ہے کہ یہ جوان آج کس کی طرف سے کھیلا۔
#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
A Test bowling & batting average of 22.81 & 37.69 - sensational numbers but Imran Khan's true greatness came from being an inspiring leader, headlined by the 1992 World Cup 🏆
The Pakistan legend turns 72 today 🎂
پارلیمان پہ پاکستان پہ حملہ !
9 ستمبر پاکستان کی پارلیمان سے ممبران کو اٹھا لینا جمہوریت اور سیاست کی تضحیک ہے !
جنہوں نے یہ کروا ان پہ آرٹیکل 6 لگنا چاہئیے۔
پاکستان کی جمہوریت کو بچاؤ
پاکستان کو بچاؤ !
"Exclusive: Imran Khan Talks to Me From Prison"
Another Zeteo exclusive: my interview with the former Pakistani prime minister, who tells me about his dire prison conditions, his view of the U.S. & the Pakistani military, & why the world should care:
https://t.co/8soUhWrkbh
Retweet if you would like an open trial of Wheeler Dealer Mohsin Naqvi & his crony IG Punjab for Murder, Torture, Kidnappings, Ransacking & Interference in Electoral Process.
They ran character assassination campaigns of ppl based on fake cases but will themselves be sentenced for their own real crimes.
یہ آپ کو مذاق لگے گا مگر قسم لے لیں یہ سو فیصد سچ ہے۔
جب ہمارے والدین کی شادی ہوئی تو یہ شخص پنجاب کا وزیرِ خزانہ تھا
ہمارے پیدا ہونے پر وہ پنجاب کا وزیراعلی بن چکا تھا
جب ہم پاکستانیوں نے سکول جانا شروع کیا تو وہ ملک کا وزیراعظم تھا۔
جب ہم نے بلوغت میں قدم رکھا تو دوسری بار وہی وزیراعظم تھا۔
جب ہماری شادیاں ہوئیں تو اس وقت وہی پھر تیسری بار وزیراعظم تھا۔
آج ہم اپنی آدھی سے زیادہ عمر گزار چکے ہیں۔ ہماری داڑھیاں اور سر آدھے سے زیادہ سفید ہو چُکے ہیں اور آج پھر ہمارے سامنے TV پر وہی شخص ہم پاکستانیوں سے کہہ رہا ہے کہ:
"مجھے موقع دیں پاکستان کی تقدیر بدل دونگا۔"
اب یا تو ہم پاکستانی الّو کے پٹھے ہیں یا پھر یہ شخص ہمیں ضرورت سے زیادہ احمق سمجھتا ہے۔
منقول
ہم نے کل رات پی ٹی آئی کی ریحانہ امتیاز ڈار کے نتیجے کا اعلان کیا تھا اور وہ 99 فیصد پولنگ سٹیشن پر 50 ہزار ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے تھیں، اب ہم اسے انتخابات کیسے کہیں؟ - مہر بخاری اور اقرار الحسن #مینڈیٹ_پر_ڈاکا_نامنظور
جب فرعون کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے موسی کے لشکر کے لیے پانی میں رستہ بنایا تو اللہ نے اُسے ایک آخری موقع دیا تھا حق کو تسلیم کرنے کا۔ یہ ماننے کا کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو قادرِ مطلق ہے۔ کہ فرعون کوئ نہیں ہوتا خلقِ خدا کے فیصلے کرنے والا۔ مگر فرعون اپنی طاقت کے غرور میں مست چلتا گیا۔ اس کے تکبر نے اُسے سامنے کی حقیقت نہیں دیکھنے دی۔ یہ حقیقت کہ اللہ تعالی لا الہ الا للہ پر ایمان رکھنے والوں کی پشت پر ہے۔ یہ کہ اُس کی خدائ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ خود کو ملنے والے آخری موقع کو بھی نہیں پہچان سکا۔
موسی کے لشکر کے سامنے بھی تو ایسا لمحہ آیا تھا کہ جدھر وہ نعوذ باللہ اللہ کی کبریائ سے مایوس ہو کر اُس کی حکمت پر سوال اٹھاتے۔ پیچھے خدائ کا دعویدار، آگے لپکتی لہریں۔ نا آگے جا سکتے نہ پیچھے مڑ سکتے۔ تھے تو وہ بھی انسان۔ ایک لمحے کو شاید انہوں نے بھی سوچا ہو کہ اُن کے سفر کا انجام بس یہی تھا۔ مگر کیا چیز تھی جو انہیں فرعون کے لشکر سے مختلف بنا رہی تھی؟ ایمان۔ ایمان کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنا سرجھٹک کر اللہ پر بھروسہ رکھ کر آگے بڑھتے۔ کہ وہ اپنی reality کو confront کرتے، کیونکہ وہ حق پر تھے۔
فرعون کی فرعونیت اور اہلِ ایمان کا انجام صرف اس ایک لمحے کے فیصلے پر مربوط تھا۔ وہ ایک لمحہ جس میں فرعون نے اپنے تکبر میں رُکنے سے انکار کیا۔ وہ ایک لمحہ جس میں اہل ایمان نے کسی وسوسے کو دل میں جگہ نہ دے کر جھکنے سے انکار کیا۔ اُس ایک لمحے نے دونوں لشکروں کا انجام لکھا۔ اللہ چاہتا تو وہ فرعون کو اس لمحے سے پہلے بھی غرق کرسکتا تھا۔ اللہ چاہتا تو ایمان والو کو کسی اور راستے بھی نکال سکتا تھا اُس کی خدائ میں کون سی بات ناممکن تھی؟
مگر اللہ نے اُس ایک لمحے میں دونوں لشکروں کو موقع دیا۔ ایک کے تکبر نے اُسے غرق کردیا۔ دوسرے کے توکل نے اُسے امر کردیا۔
میرے پاکستانیو!
اللہ تبارک و تعالی جب ہم سے پچھلی قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اِن سے سبق سیکھو۔ آج ہم ایسے ہی ایک لمحے میں کھڑے ہیں۔ وقت کا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں نقارۂ خدا کو جھٹلا چکا ہے۔ آپ کے فیصلے پر بارگیننگ اور ڈیلیں کی جارہی ہیں۔ اقتدار کا فیصلہ مفادِ عامہ/ ملکی مفاد نہیں اپنی ذات اور اپنے آقاؤں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر چند افراد اپنی طاقت کو دوام دینے کی تگ و دو میں ہیں۔
مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ جو ایمان ہمیں اس کنارے تک لے کر آیا ہے وہی ہمیں یہ دریا پار بھی کرائیگا اور اسی پانی میں ان کا تکبر بھی غرق ہوگا۔ ہمیں نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے اور دل میں وسوسوں کو جگہ نہیں دینی۔ یہ اپنا آخری موقع گنوا چکے ہیں اور ہمیں اللہ کے بھروسے پانی میں قدم رکھنا ہے۔
اپنے امیدواروں کی پشت پر کھڑے رہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو سال کی فسطائیت اور ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ صرف اللہ اور آپ کے بھروسے۔ یہ آگے کے مرحلے بھی آپ کی سپورٹ سے طے کریں گے۔
اگر آپ کے امیدوار جیت گئے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام یہاں ختم ہوگیا ہے۔ آواز اٹھاتے رہیں جس طرح ستائیس سال آپ کے لیڈر نے آپ کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
یاد رکھیں یہ الیکشن نہیں ہماری آزادی کی جنگ ہے۔ ہمارے لیے ایک ایک حلقہ اہم ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام حلقوں پر فارم-۴۵ کے مطابق حتمی نتائج مرتب ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پرامن طور پر متعلقہ آر او آفس کے باہر بیٹھیں اور تب تک بیٹھے رہیں جب تک درست نتیجہ جاری نہیں ہوتا۔
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے مایوس ہورہے ہوں گے۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ ڈالا جارہا ہوگا کہ تمہارا اختیار بس یہیں تک تھا۔ مگر یاد رکھیں بحیثیتِ قوم ہماری زندگی موت کا فیصلہ اس لمحے نے کرنا ہے۔ اگر ہم ڈٹے رہتے ہیں۔ ہم اِن کی خدائی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار نہیں کرتے تو اُس ذات کے لیے نہ کل پانی میں رستے بنانا مشکل تھا نہ آج مشکل ہے۔
اہم ترین
غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق اس وقت
ن لیگ پنجاب میں 70 فیصد
بلوچستان میں 85 فیصد
سندھ میں 90 فیصد اورخیبرپختونخواہ میں 100 فیصد *ذلیل ہو رہی ہے۔🤗*