پنجاب یونیورسٹی میں نہتے بلوچ طلباء پر جمیعت کے بے لگام غنڈوں کی حملے اور پنجاب پولیس کا متعصباً اور جانبدارانہ روئیے کی مزمت کرتے ہوئے گرفتار بلوچ طلباء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب
Outrageous Jamiat students attack Baloch students in Lahore and seriously injure 5 students,yet police arrest victims, Where's media's outrage? Same media that pressured Dr. Mahrang Baloch to condemn recent past attacks in Balochistan now deafeningly silent.
#SaveBalochStudents
Hamid Baloch S/O Khan Muhmd resident of Bludea & student of 7th Semester Department of Sociology University of Sargodha has been abducted by LEAs from Bahdaur Shah Zafar road in front of Ibrahim hospital Sargodha District Punjab.We demand his immediate release
#ReleaseHamidBaloch
شہید رضا جہانگیر اور امداد کی قربانیاں بلوچ سیاسی جہدکاروں کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیئرمین درپشان بلوچ
شہید رضا جہانگیر اور امداد بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں بطور سرخیل رہنماء اپنی سیاسی زمہ داریوں کو سرانجام دے رہے تھے جب انہیں قابض پاکستانی فوج کی جانب سے آج سے 11 سال پہلے تربت میں نشانہ بناکر شہید کر دیا گیا گوکہ شہید جہانگیر اور امداد و ان کے درجنوں ساتھیوں کو قابض فورسز کی جانب سے شہید کیا گیا لیکن ان کا نظریہ، قومی فکر اور جدوجہد آج بھی منظم انداز میں بلوچ جہدکاروں کی جانب سے جاری ہے۔ شہید رضا جہانگیر اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنماء ا��داد کو تربت میں شہید امداد بلوچ کے گھر میں نشانہ بناکر شہید کیا گیا۔ شہید رضا جہانگیر اور امداد بلوچ نے ان کٹھن اور گھمبیر حالات میں بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھا جب بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر سیاسی کارکنان کی لاشیں پھینک دی جا رہی تھی لیکن انہوں نے بلوچ قومی جہد میں سیاسی سرگرمیوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہیں ہرحالت میں جاری رکھنے پر محنت کی اور آخری سانس تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی جہد کیلئے سیاسی موبلائیزیشن پر کام کر رہے تھے۔ رضا جہانگیر اور امداد محنتی سیاسی جہدکاروں کے ساتھ انتہائی ذہین اور بہترین سیاسی موبلائزر تھے جنہوں نے کم ��دت میں تنظیمی زمہ داریوں کو کیچ اور آواران بھر میں پھیلاتے ہوئے بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کی راہیں ہموار کیں۔
کسی بھی قومی تحریک کو عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے ایسے سیاسی و فکی رہنماؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو بلا کسی خوف و خطر قومی مقصد کو لیکر عوام تک رسائی حاصل کریں اور اپنے کردار و علمی و فکری بصیرت سے عوام کو ان کی غلامی کا احساس دلائیں۔ بلوچ سیاست میں ایسے عظیم کرداروں کی فہرست بہت لمبی ہے جنہوں نے بلوچستان بھر میں سیاسی سرگرمیاں کرکے عام عوام کو قومی آزادی کی جدوجہد کی اہمیت سے آگاہ کیا اور ریاست کے قبضے و اس کے نقصانات کے حوالے سے ان کی تربیت کی۔ جس کی وجہ سے آج بلوچ فرزند قومی جدوجہد سے آگاہ اور اس میں اپنی شرکت یقینی بنا رہے ہیں بلوچستان کے لوگوں میں اور بلخصوص نوجوانوں میں یہ قومی و فکری شعور رضا جہانگیر اور امداد بجیر جیسے سیاسی رہنماؤں کی مرہون منت ہے جنہوں نے ذاتی زندگی کو پس پشت ڈال کر قومی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر فکری اور شعوری بنیادوں پر نوجوانوں کی تربیت کا فریضہ انجام دیا۔ یقینا سیاسی نظریات رکھنا اور عوام کے اندر ان کی پرچار کا حق ہر مہذب معاشرے میں سب کو حاصل ہے لیکن بلوچستان جیسے مقبوضہ علاقے میں جہاں قابض ریاست تشدد اور جبر سے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے وہاں قومی فکر رکھنے والا ہر نوجوان ریاست کیلئے خظرہ ہوتا ہے۔ رضا جہانگیر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ تنظیمی سرگرمیوں کی انجام دہی کیلئے کیچ کے دور�� پر تھا جب ریاست نے موقع کا فائدہ اٹھا کر شہید امداد بجیر کے گھر پر حملہ کرتے ہوئے شہید رضا جہانگیر اور ان کے نظریاتی ساتھی امداد بجیر کو شہید کیا۔ گوکہ قدآورت شخصیات ہونے کی حیثیت سے ان کی شہادت تنظیم و تحریک کیلئے نقصاندہ رہا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ شہادت اور قربانیوں سے کوئی بھی تحریک کمزور نہیں ہوا ہے بلکہ شہادتوں سے تحریکیں نظریاتی طور پر مضبوط ہوتی ہیں۔
شہید رضا جہانگیر کی شہادت سے گوکہ تنظیم کو وقتی طور پر نقصان پہنچا لیکن جس نظریہ اور فکر کی آبیاری شہید رضا جہانگیر، امداد بجیر اور ان کے فکری و نظریاتی ساتھیوں نے رکھی تھی آج بلوچستان کا بچہ بچہ اس فکر و نظریے کی آبیاری کر رہی ہے اور جوق در جوق قومی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیکر ریاست کیلئے بلوچستان کی سرزمین کو تنگ کر رہے ہیں۔ شہیدوں کے فکری اور نظریاتی وارث ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو کسی بھی حالت میں رائیگان جانے نہیں دینگے اور قومی آزادی تک اس سفر اور کاروان کو مزید منظم انداز میں جاری رکھیں گے۔
چیئرمین بی ایس او آزاد؛ درپشان بلوچ
#ShaheedAliMohammadMengal August 10th, 1973.
Yesterday was the Fifty First Anniversary of Martyrdom of Shaheed Ali Mohammad Mengal. He was martyred on 10th August 1973 while valiantly resisting the Pakistani army in Jhalawan.
With my paternal uncle Mir Rasool Baksh Talpur Sahib.
Finally, after 13 days, the internet connection was restored. The city of Gwadar has been under a curfew-like situation since July 27, with cellular and road networks disabled. Scores of people were unlawfully detained, and some forcefully disappeared. As a result of live fire by law enforcement agencies, one protester was killed in Gwadar, and multiple others were injured. During this political gathering, the state unleashed every method of violence to deter peaceful protesters. At this moment, we and the residents of Gwadar were facing a dire situation,
But still, we survived and remained determined to keep going.
Thank you to everyone who has shown concern for our well-being. Long live peaceful resistance.
We strongly condemn the tragic killing of Sitara Shabeer, a minor girl, during indiscriminate firing by Pakistani forces in Dandaar, district Kech, #Balochistan. The targeting of civilians and the detention of her body are serious violations of human rights. We urge Pakistani authorities to release her body to her family and to hold accountable those responsible for this brutal act.
ہم شروع دن سے کہتے آرہے ہیں کہ یہ عوامی تحریک ہے، اس کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں، اس کی طاقت و قوت عوام ہیں۔ لیکن ریاست اس بات سے انکاری ہے، کبھی اسے طاقت و تشدد کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو کبھی اسے بیرونی فنڈز و بیرونی پراکسی قرار دے کر جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن یہ عوامی تحریک ہر قدم پر ثابت کرتی آرہی ہے کہ یہ بلوچ عوام کی تحریک ہے، عوام کی آواز کو تشدد اور جھوٹے بیانیہ سے دبانا خام خیالی ہے۔
کیچ کے باشعور عوام نے آج ثابت کردیا ہے کہ طاقت اور تشدد سے بلوچ قوم کو دبایا نہیں جاسکتا۔
#BalochaNationalGhatering
کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی ریلی کے موقع پر پولیس کی مظاہرین پر بدترین تشدد، خواتین سمیت متعدد افراد گرفتار
یہ مظاہرہ بلوچ راجی مُچی کے شرکاء پر گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں تشدد کے خلاف کیا جارہا تھا۔
20 people have been arrested by the police while holding a peaceful rally from Art Council to Karachi Press Club in support of #BalochNationalGathering.