On 23 July 2023, everyone is requested to participate in the campaign on Twitter for the safe release of the forcibly disappeared Sameer Baloch with hashtag #ReleaseSameerBaloch.
Timing: 8PM TO 12AM
سکی ساوڑ بلوچ پچھلے 45 دنوں سے لاپتہ ہے جس کا تاحال کوئی خبر نہیں ہے، جس کی بحفاظت بازیابی کیلئے بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کی جانب سے 22 جولائی کو ٹوئٹر کیمپین چلایا جائے گا، ھم تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے شرکت کرنے کی التجا کرتے ہیں.
#Releasesakisawadbaloch
آج ہم بلوچ اپنے تعلیم یافتہ نسل کو بغیر جرم و عدالت، بغیر مدعی و منصف کال کوٹھڑیوں میں جاتے دیکھ ر ہے ہیں جو کسی المیے سے کم نہیں۔
#ReleaseSalimBaloch#SaveBalochStudents
جب کبھی میں خواب میں اپنے بھائیوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ بازیاب ہوئے ہیں تو یقین جانیں خواب میں بھی مجھے یہی خوف رہتی ہے کہ کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہی اور آنکھیں کھلتے ہی وہی درد بھری زندگی ! کیوں ہمارے بھائیوں کو بازیاب نہیں کیا جارہا ہے؟
#ReleaseAsifandRasheed
جب کبھی میں خواب میں اپنے بھائیوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ بازیاب ہوئے ہیں تو یقین جانیں خواب میں بھی مجھے یہی خوف رہتی ہے کہ کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہی اور آنکھیں کھلتے ہی وہی درد بھری زندگی ! کیوں ہمارے بھائیوں کو بازیاب نہیں کیا جارہا ہے؟
#ReleaseAsifandRasheed
سائرہ جو ایک ہونہار سٹوڈنٹ تھی ایک خوبصورت مستقبل کی خواہاں تھی مگر آج اپنے بھائیوں کی بازیابی کے لئے سائرہ کے جہد کی گواہی کراچی پریس کلب، شال اورخضدار کی سڑکیں دے رہی ہے خدارا اس بچی کو انصاف دیں اس کے کیریئر کو یوں تباہ نہ کریں
@HamidMirPAK@ImaanZHazir@a_siab#Balochistan
Pls use the hashtag #ReleaseSameerBaloch and join the campaign on 23 July 2023 from 8PM TO 12AM.
The frequency of these campaigns is a reflection of the plight of families. The least we can do is raise our voices to demand safe recovery of their loved ones.
سمیر بلوچ کو 10 سال قبل مند بلوچستان سے جبری لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں اور یہ سمیر کی ماں ہے اپنے بیٹے کی جدائی کے غم میں گریہ و زاری کررہی ہے۔
23 جولائی کو ٹوئٹر کمپین میں شامل ہوکر سمیر کی بازیابی کے لئے آواز اٹھائیں
#ReleaseSameerBaloch
بلوچ طالبہ کو یونیورسٹی سے لاپتہ کیا گیا تھا میر متعبر یونیورسٹی انتظامیاں آج تک کیسی ایک نے بھی ان معصوموں کے لئے تھوڑی سے کوشش نہیں کی بازیاب کرانے کے لئے۔
#SaveBalochStudents#EndEnforcedDisappearances
بلوچ طالبعلموں کی جبری گمشدگیوں میں اضافے کی نئی لہر اور دوسری جانب جامعات میں آمرانہ پالیسیوں کے زریعے انتظامی مسائل اور ذہنی ہراسمنٹ کا شکار بنانا ریاستی اداروں کی ایک منظم پالیسی دکھائی دے رہی ہے جس کا واحد مقصد بلوچ طالبعلموں کو تعلیم اور شعوری سرگرمیوں سے دور کرنا ہے۔
ماؤں کے دولارے بہنوں کے لاڈلے ریاست کے بنائے ہوئے قید خانے کے کیسی آندھیرے کمرے میں بند ہیں۔انہیں بازیاب کرانے کے لئے ہم سب آواز اُٹھانا لازمی ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
ہونا تو یہ چائیے تها کہ ایڈمن کے ہاته میں ہمارے جائز مطالبات کا نوٹپکیشن ہوتا ،پر طلبا کے ساته دس دن کے بعد بهی مزاکرات کیلئے آتے ہیں اور ایک ڈیمانڈ مان کر دوسرے کو ایسے مروڈنا ، جس سے طلبا کو نقصان ہو فاہده کچه نہیں
دس دن کے بعد بهی طلباء کا ��حتجاج جاری
#JusticeForBUETKStudents