مولانا فضل الرحمن کا مولانا ادریس کے قاتل دھشت گردوں کے لیے انتہائی سخت پیغام ۔
"تم قاتل ہو، مرتد ہو اور تمھارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔"
ہم نے پاکستان میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء کے ساتھ متفقہ طور پر کراچی سے لیکر چترال تک اتفاق کے ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شرعا ناجائز ہے ، متفقہ طور پر ، تحریری طور پر لیکھا ہوا فیصلہ
پاکستان کے طول عرض کے لاکھوں علماء کیا دین کو نہیں سمجھتے؟
اور تم بھگوڑے اسلام کو سمجھتے ہو!
اپ کی حیثیت بھگوڑے کی ہے۔ اپنے اپ کو مجاہد کہتے ہو ؟ شرم نہیں آتی !
تم مولانا سمیع الحق کو شہید کرو گے ؟
میں تمہیں مجاہد کہونگا ؟
تم مولانا حسن جان کو شہید کرو گے میں تمہیں مجاہد کہونگا ؟
تم شیخ ادریس کو شہید کروگے ۔ میں تمہیں مجاہد کہونگا ؟
ہم پڑھے لیکھے لوگ ہیں ۔ہم تمہاری طرح جاہل نہیں۔
چارسدہ:
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی محمود کو مرتد کہتے ہہیں ؟
اکابر علماء کو مرتد کہتے ہیں؟
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا عبدالحق کو مرتد کہتے ہیں؟
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ حضرت درخواستی کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ احمد علی لاہوری کو مرتد کہتے ہیں؟
انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی اعظم ہند کو مرتد کہتے ہیں؟ انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا حسین احمد مدنی شیخ الاسلام کو مرتد کہتے ہیں؟
ان کو مرتد کہنا دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ اپنے اپکو مرتد کہنا ہے
جمعیت علماء اسلام کو مرتد کہنا علماء کرام کو مرتد کہنا یہ دلیل ہے کہ تم قاتل مرتد ہواور تمہارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں
مولانا فضل الرحمان
ریاست کے اخراجات کم نہیں ہو سکتے۔ سولر صارفین پر بار بار حملوں کی ناکامی کے باوجود یہ یقینی تھا کہ ملبہ ضرور گرے گا۔ اب 25 کلو واٹ سے کم بجلی بنانے والوں کو بھی ( یعنی تمام صارفین کو ) نیپرا سے لائسنس لینا ہوگا، فی کلو واٹ فیس ایک ہزار روپے رکھی گئی ہے، اور یاد رکھیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بڑھتی ہی جائے گی۔ کیونکہ ریاست کے اخراجات کسی صورت کم نہیں ہو سکتے، کارٹلز کو 20 ارب ڈالرز کی سالانہ سبسڈی بھی آئی ایم ایف کے قرضوں اور عوام کی جیب کاٹ کر پیش کرنا ہوتی ہے۔۔ 👎
لوڈ شیڈنگ محض اور محض متعلقہ وزارت کے نا اہل کرپٹ اور سفارشی افسروں کا کارنامہ ہے۔ پسند اور ناپنسد کی بنا پر آئی پی پیز کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لئے یہ سارا مصنوعی بحران پیدا کیا جا رہا ہے۔ ایک ایف ایس سی کا طالب علم بھی ان بڑے گریڈ والے افسران سے بہتر پلاننگ کر سکتا ہے۔
اس سے پہلے انہوں نے سولر کے نام پر الگ طرح بحران پیدا کرنے کی کوشش کی اور پھر عام چھوٹے گھریلو سولر صارفین کے نام پرکمرشلی سولر سے بجلی بنانے والے سارے سیٹھوں کو بچا لے گئے اور اب یہ ڈرامہ۔
توبہ ہے کہ یہ ان کی قبریں کب بھریں گی۔
پنجاب میں محکمہ آبپاشی کے 412 ریسٹ ہاؤس موجود ہیں جہاں وزراء،افسران اور ان کے رشتے دار ٹھہرتے ہیں اور ان 412 ریسٹ ہاوسز سے سال بھر میں صرف 3 لاکھ 71 ہزار کرائے کی مد میں جمع ہوئے یعنی ایک ریسٹ ہاوس سے سال بھر میں 900 روپے۔
یہ اعدادوشمار پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن رانا آفتاب نے پیش کئیے اور حکومتی وزیر کاظم پیرزادہ نے ان اعدادوشمار کو تسلیم کیا ہے۔
اسی ماہ دوسری مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، ہر روز مہنگائی کی چکی میں پستی عوام پر ایک نئی قیامت ڈھائی جارہی ہے۔ آپ پوچھتے ہیں کہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے؟ اپوزیشن عوام کو آپ کے عذاب سے نجات دلانا چاہتی ہیں۔ کیا ہم گھر بیٹھ کر عوام پر آپ کے مظالم دیکھتے رہیں؟ بالکل نہیں!
چلو مان لیا تنخواہیں بڑھ گئیں، مراعات بھی مارکیٹ کے مطابق ہو گئیں… اب ایک چھوٹی سی گزارش ہے، جیسے دنیا بھر میں ہوتا ہے، پلیز اپنے خرچے بھی خود اٹھا لیجیے۔
عجیب سا نظام ہے ہمارا… عام آدمی اپنی تنخواہ میں گھر، بجلی، گیس، گاڑی، پٹرول سب کچھ خود سنبھالتا ہے، اور جو “خدمتِ خلق” کے دعوے دار ہیں، اُن کے لیے سب کچھ خزانے کے ذمے؟
یہ کون سی منطق ہے کہ جتنی ذمہ داری بڑھے، اتنا ہی بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے؟
بات صرف پیسے کی نہیں… احساس کی ہے۔
ریاست ماں ہوتی ہے اور ماں اپنے کمزور بچوں پر بوجھ نہیں ڈالتی۔
اگر اختیار کے ساتھ خودداری بھی آ جائے، تو شاید عوام کو پہلی بار لگے کہ واقعی کوئی اُن کے ساتھ کھڑا ہے۔