Pakistan cricket legend Javed Miandad breaks down in tears over Imran Khan’s jail ordeal.
Miandad said they played county cricket together for years and he knows Imran was never involved in theft or financial corruption.
#ImranKhan#JavedMiandad#PakistanCricket
My sons Sulaiman & @kasim_khan_1999 applied for visas in January (again… ) to allow them to visit their father @ImranKhanPTI in Pakistan. The Pakistan consulate states that online visa processing normally takes 7–10 working days. It has now been 60 days. This despite the public promise that they could safely travel there to see their father after 4 years, made by both Defence Minister @khawajaMAsif to @mehdirhasan & PM spokesperson @mosharrafzaidi to @SkyYaldaHakim
Meanwhile, they are not allowed to speak to him on the phone, nor send him a letter. They haven’t seen him since 2022 after he was shot in an assassination attempt.
This is an appeal directly to Pakisan’s PM @CMShehbaz to please allow Imran Khan’s two sons to see their father asap, particularly since, by all accounts, his health is in decline.
A detailed report by the “Amicus Curiae” appointed by the Supreme Court of Pakistan on the health and prison conditions of arbitrarily detained former Prime Minister of Pakistan Imran Khan reveals disturbing details of serious human rights violations, inhumane treatment, psychological torture, and deliberate medical neglect, which has resulted in 85% vision loss in his right eye. Here are some highlights from the report:
عمران خان کی آنکھ میں جو خرابی پیدا ہوئی ہے یہ جیل انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے اور یہ سب ٹارچر کے زمرے میں آتا ہے اسکی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہئیں ، مشاہد حسین اور سابق سفیر نغمانہ ہاشمی کی مشترکہ رائے
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہاں ایک آئینی ترمیم پر ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء قرآن و سنت کی روشنی میں ایک اعتراض کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض ٹی وی چینلز پر نشر نہیں ہو سکتا اسکا کیا مطلب ہے؟ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی پاک ذات سے نہیں بلکہ ایک انسان سے زیادہ ڈرتے ہیں
🚨In London, I interviewed Imran Khan’s sons @Kasim_Khan_1999 and Sulaiman about their father’s detention, which they call torture, and the role of Trump and the UK government, and much more. Check it out. Preview clips below.
Full Zeteo interview: https://t.co/1mkudgeDxa
خیبر پختونخوا میں عمران خان نے کیا کرلیا؟؟؟؟
ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں
2013 میں کل ڈگری کالجز کی تعداد = 158
2024 میں کل ڈگری کالجز کی تعداد = 304
یعنی 1947 سے لیکر 2013 تک کل 158 ڈگری کالجز بنائے گئے
جبکہ عمران خان کی حکومت میں 2013 سے 2024 یعنی صرف 11 سالوں میں 146 ڈگری کالجز بنائے گئے۔
پھر بھی کچھ نمونے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں کیا کرلیا ہے۔
Source: Bureau of Statistics, Khyber Pakhtunkhwa
خیبر پختونخوا میں عمران خان نے کیا کرلیا؟؟؟؟
ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں
2013 میں کل ڈگری کالجز کی تعداد = 158
خواتین ڈگری کالجز کی تعداد = 64
مرد ڈگری کالجز کی تعداد = 94
2024 میں کل ڈگری کالجز کی تعداد = 304
خواتین ڈگری کالجز کی تعداد = 142
مرد ڈگری کالجز کی تعداد = 162
یعنی 1947 سے لیکر 2013 تک کل 158 ڈگری کالجز بنائے گئے
جبکہ عمران خان کی حکومت میں 2013 سے 2024 یعنی صرف 11 سالوں میں 146 ڈگری کالجز بنائے گئے۔
پھر بھی کچھ نمونے پوچھتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں کیا کرلیا ہے۔
سرگودھا کے کولڈ سٹورئج بھر چکے ھیں۔ خدا کے لیے کسان کو بچا لیں۔ جس کا ہڑتال کی وجہ سے اور افغان بارڈر کی بندش کی وجہ سے exporter اور آڑھتی نے جوس نکال دیا ھے۔
قائد عمران خان سے بہنوں، وکلاء اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی آٹھویں بار اڈیالہ جیل آمد کے باوجود ملاقات نہ کروانا شدید شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے، اور قائد عمران خان کی صحت سے متعلق قوم کی پریشانی اب اپنی حدوں کو پار کر چکی ہے۔ اسی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آج ہر صورت ملاقات کے لیے دھرنا دیا ہوا ہے، جو اس وقت بھی جاری ہے۔
چار کروڑ سے زائد کی آبادی کے منتخب چیف ایگزیکٹو کے ساتھ اس توہین آمیز رویے نے انتظامی سنجیدگی اور نیت دونوں پر بڑے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک کا وزیراعظم بھی محض یہ کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ "میں پوچھ کر بتاتا ہوں"۔ یہ تماشہ نہیں یہ جبر ہے۔ اور یہ جبر اُس دور سے بھی سنگین ہے جسے ہم مارشل لا کہتے تھے۔ قوم تیار رہے ملک گیر احتجاج کے لیے۔
#RestoreAccessToImranKhan
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی امن جرگے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا
پشاور:امن جرگے اعلامیہ پر اسپیکر سمیت 21 جرگہ ممبرز کے دستخط موجود
امن جرگہ تجویز کرتا ہے کہ صوبائی حکومت ،اسمبلی صوبائی ایکشن پلان مرتب کرے،اعلامیہ
پاک افغان کے تمام تاریخی تجارتی راستوں کو فلفور کھول دیا جائے، اعلامیہ
پاک افغان خارجہ پالیسی بنانے میں وفاق صوبائی حکومت سے مشاورت کرے،سفارتی کاری کو ترجیح دی جائے ، اعلامیہ
امن جرگے کی تجویز ہے وفاقی اور صوبائی حکومت کے مابین تناؤ کو کم کیا جائے ، اعلامیہ
مشترکہ مفاد کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایا جائے، اعلامیہ
پشاور: دہشت گردی کے خاتمے کےلیے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے ،اعلامیہ
پشاور:امن وامان سے متعلق صوبائی اسمبلی کی قرار دادوں پر فوری عملدآمد کیا جائے،اعلامیہ
پشاور:پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کرینگے ،مشترکہ اعلامیہ
پشاور:صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں،جرگہ اعلامیہ
پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط بنایا جائے،اعلامیہ
پشاور:غیر قانونی محصولات ،بھتہ خوری کے خاتمے کےلیے مربوط پالیسی بنائی جائے،اعلامیہ
پشاور:خیبر پختونخوا بالخصوص شورش زدہ علاقوں میں معدنیات کی غیر قانونی نکاسی کا خاتمہ کیا جائے،اعلامیہ
خیبرپختونخوا اسمبلی کو سیکورٹی اداروں کی کارروائیاں اور قانونی بنیادوں کی ان کیمرہ بریفننگ دی جائے،اعلامیہ
صوبائی سطح پر امن کےلئے فورمز قائم کئے جائیں،جن میں غیر سرکاری ارکان شامل ہوں، اعلامیہ
شہری سطح پر پولیس ،کنٹونمٹ اور بلدیاتی اداروں کے مابین ہم آہنگی کےلئے سیلز قائم کئے جائیں، اعلامیہ
مذکورہ سیلز چیک پوسٹوں کے خاتمے کےلئے مقررہ وقت پر منصوبے قائم کئے جائیں، اعلامیہ
مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کےلئے ترامیم کی جائیں، اعلامیہ
نیشنل فنانس کمیشن کو صوبائی فنانس کے ساتھ منسلک کیا جائے، اعلامیہ
وفاق کے ذمے صوبے کی آئینی مالی حقوق کی مد میں رقم دی جائے، اعلامیہ
آرٹیکل 151 بین الصوبائی تجارت پر عملداری کی جائے تاکہ کے پی کو گندم کی ترسیل ہوسکے
خیبر پختونخوا امن جرگے کا مشترکہ اعلامیہ
حکومت اور اپوزیشن کی تمام اہم جماعتوں نے پولیس اور سی ٹی ڈی کو داخلی سلامتی کا ذمہ دار بنانے اور بوقت ضرورت ریاستی اداروں سے بھی مدد لینے کی سفارش کر دی
"ہم ہیں اس قوم کے شہری جو ٹیکس دیتے ہیں، ہمارا آئین ہمیں تمام حقوق دیتا ہے۔ تم ہو کون، ہمیں بتانے والے ؟ ایک تنخواہ دار آدمی میرے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیکر مجھے ہی دھمکیاں دے رہا ہے۔" کپتان عمران خان
وزیراعلی سہیل افریدی ایک بااختیار وزیراعلی ہوگا وہ اپنی ٹیم خود لے گا اس وقت تک وفاقی حکومت اور اداروں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دیا جاتا۔
@SohailAfridiISF
ایک منتخب وزیراعلی نے صوبائی اور مرکزی حکومت سے درخواست کی کہ اس کو اپنے لیڈر عمران خان جس کی ووٹ سے وہ وزیراعلی بنے، ملنے دیں، تاکہ وہ ان سے کابینہ بنانے اور دوسرے معملات میں رہنمائی حاصل کریں لیکن اُن کو قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ عوامی نمائندوں کو اپنے قائد سے ملنے سے روکنا غیر جمہوری رویہ ہے۔
کچھ خبریں ایسی بھی اۤرہی ہیں کہ سہیل اۤفریدی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور انہوں نے اۤگے سے جواب دیا ہے کہ میں نہیں ملوں گا اۤپ سے۔۔پہلے میں عمران خان سے اجازت لوں گا پھر اۤپ سے ملوں گا۔ ورنہ نہیں ملوں گا۔۔اس پوزیشن سے تصدیق ہوجاتی ہے کہ انکو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ پشاور میں یونیورسٹی اور کالج اسٹوڈینٹس انکو بہت مانتے ہیں۔ کل کو اگر انہوں نے کوئی کال دیدی تو امکان ہے کہ کافی اسٹوڈینٹس باہر اۤجائیں گے: نجم سیٹھی