تیس چالیس برس بلوچوں کی “قیادت” سرداروں کے پاس رہی۔ نتیجہ؟ سردار ایک مدت اپوزیشن میں ہوتا اگلی مدت پہاڑوں پر وہاں سے اقتدار میں۔ پھر کچھ وقت بعد عوام نے قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ یہ قیادت ایسی شدید کہ اختر مینگل جیسے قوم پرست ختم ہوگئے اور سات لاکھ فوج اس شورش کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔
کشمیر میں بارہ نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ نیا نہیں۔ بلکہ دبے دبے لفظوں میں خودمختار کشمیر کا حمایتی بھی ایک بہت بڑا طبقہ ہے۔ بڑی تعداد میں اوورسیز کشمیری اپنا اور پاکستان کا فرق ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ لیکن اب عوامی جدوجہد عروج پر کیسے پہنچی ؟ کوئی روایتی راجہ ، چوہدری ، سردار اس کا روح رواں نہیں ہے۔ مکمل نئی قیادت۔
مقبوضہ کشمیر میں بھی یہی ہوا۔ مسلح جدوجہد کا آغاز اسی کی دہائی کے آخر اور نوے کی دہائی کے آغاز میں ہوا۔ اگرچہ بہت سارے دوسرے فیکٹرز بھی۔ لیکن کشمیری “ روایتی قیادت “ سے تنگ تھے۔ مکمل نئی نوجوان قیادت نے خلا پُر کیا۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کبھی سینٹر تک نہیں بنا رائٹ ونگ کا ہمدرد ووٹر اسے سر پر اٹھا کر لایا۔ برطانیہ میں امیگرینٹس کے خلاف نفرت کا ووٹ ریفارم پارٹی کے کندھوں پر سوار اب اقتدار میں آنے کو تیار ہے۔ ریفارم پارٹی کی قیادت بھی وہی ، غیر معروف اور نئی۔
بینظیر بھی قیادت تھی اور نواز شریف بھی قیادت تھا۔ پھر ان کے گٹھ جوڑ نے خلاء پیدا کیا جو عمران خان نے پُر کیا۔ یہاں بھی یہی ہوگا۔ ایک وقت کے بعد لوگ اس نام نہاد “ قیادت “سے بھی اکتا جائیں گے۔خلا پیدا ہوگا اور عوام اور عوامی قیادت اسے پر کریں گے۔ لیکن پھر وہ اپنی قیمت وصول کرے گا۔ اپنے انتظار کا تاوان لے گا۔
ارتقاء کے اس سفر کی کتنی اور کئی کہانیاں ہیں۔ فوج کیخلاف نفرت مدت سے موجود ہے۔ کبھی وہ دبے لفظوں میں پیپلزپارٹی کیساتھ ہوتی تھی ، کبھی وہ قوم پرستوں کی جھولی میں تو کبھی ووٹ کو عزت دو کے پیچھے چھپتی رہی۔ اب اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور ٹھوک بجا کر بولتا ہے۔ یہ سفر یہاں سے آگے جائے پیچھے نہیں جائے گا۔ کسی منصوبہ بندی یا کسی کی فیصلہ سازی سے نا گیا تو اپنی فطرت پر چلتا ہوا جائے گا۔
اگر ایسی خفیہ ملاقاتیں ہوجائیں تو فریقین عموما خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ اگر ایسی واضح تردید آجائے تو امکان یہی ہوتا کہ اگلا بندہ اپنی پوزیشن درست واضح کررہا ہے۔ بیرسٹر گوہر کی تردید بتا رہی ہے کہ ان کا کہا درست ہے۔ ایسی ملاقاتیں، مذاکرات اور ٹھنڈی ہوائیں انڈیلنے والوں سے بچ کر رہیں۔
بلاول بھٹو کے اس بیان کے بعد مریم نواز کو وزیراعلی پنجاب کے عہدے سے استعفٰی دے دینا چاہیے۔ اور اپنی نشست ہار جانے کے باوجود فوج اورآرمی چیف کی مدد سے پنجاب میں جعلی حکومت بنانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
ایک ہی کہانی آخر بدل بدل کر کتنی ہی بار کی جاسکتی ہے؟ فوج کو عمران خان سے جس تابعداری کی امید ہے وہ انہیں شریف و زرداری خاندان سے مل رہی ہے۔ فوج کو آج بھی لگتا ہے معاشی تباہی ایک دو وزیر بدلنے سے رک جائے گی اور داخلی بدامنی کو رینجرز کی کچھ مزید گاڑیاں روک سکتی ہیں۔ عمران خان کیساتھ نا تو فوج مذاکرات کررہی ہے نا کرے گی ، نا ہی عمران خان رہا ہونے والا ہے۔ جس دن عوامی ، معاشی ، عالمی یا سیاسی دباؤ میں سے ایک فوج پر حاوی ہوا اس روز عمران خان رہا ہوجائے گا۔
🚨🚨🚨
اگر میں سہیل افریدی پر کھل کر ایک مثبت تنقید کر سکتا ہوں تو اپ اندازہ کریں مجھے خریدنے کی قیمت کیا ہوگی....؟؟
کسی کا باپ بھی مجھے خرید نہیں سکتا-- قومیت سے پہلے عمران خان کے نظریہ کی حفاظت-- عمران خان کا مطلب پاکستان
یہ ہے پاکستان
آپ عام شہری ہو آپکی اتنی اوقات نہیں آپ آگے نہیں جا سکتے صرف وردی والا جا سکتا ہے۔۔
ایک بار یہ ویڈیو دیکھے اندازہ لگائے ہماری اوقات کیڑے مکوڑوں سے کم نہیں
کشمیر کاز کے سب سے بڑے فریق کشمیری خود ہیں۔ اگر وہ بارہ نشستیں نہیں چاہتے تو نہیں چاہتے۔ کسی دوسرے یا تیسرے فریق کو انہیں ان نشستوں پر ڈکٹیشن دینے کا کوئی حق نہیں۔
سہیل آفریدی تحفظات کے اظہار کے لیے ان کٹھ پتلیوں کیساتھ بیٹھا؟
عمران خان کسی سیاسی گفتگو کے لیے آخری دفعہ ان کے ساتھ 2008 میں بیٹھا تھا پھر نہیں بیٹھا۔ ایک اے پی ایس کے بعد والی آل پارٹیز کانفرنس الگ ٹھہری۔ عمران خان جتنا عرصہ حکومت میں رہا ان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔ باجوہ اور پھر عاصم منیر بار بار کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح عمران خان ان کٹھ پتلیوں کیساتھ بات چیت پر آمادہ ہو ان کیساتھ کوئی ڈیل کرے یا کسی قومی حکومت پر رضا مند ہوجائے، عمران خان نے انکے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اب جب وزیر خزانہ فوج کا بندہ ہے۔ معاشی پالیسیاں سب فوج کی ہیں ، ایسے میں ان کٹھ پتلیوں کیساتھ بیٹھنا جن کی اپنی نشستیں فوج کی مرہون منت ہیں ؟ جو کوئی معاشی یا سیاسی فیصلہ خود نہیں کرسکتے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ فوج کی خواہش پر ان کٹھ پتلیوں کو اور اس جعلی نظام کو شرف قبولیت بخشا جارہا ہے۔ اس ملک پر مسلط کی جانے والی تباہی اور عمران خان پر ہونے والی سختیوں پر ردعمل دینے کی بجائے الٹا انہیں سپیس دی جارہی ہے۔ یہ کوئی سسٹم ، کوئی مجبوری یا کسی تحفظات کا اظہار نہیں حکم کی تعمیل ہے۔
سہیل آفریدی کی کٹھ پتلی حکومتی نمائندوں سے اعلانیہ اور خفیہ ملاقاتیں ننگی بے غیرتی کے سوا کچھ نہیں، وہ بھی ان حالات میں جب مہینوں سے عمران خان کی کوئی خبر نہیں اور ان کا سیل اس گرم موسم میں تندور بن چکا ہوگا۔
تحریک انصاف کے رہنما وکٹری سپیچ کیوں نہیں دے رہے یا وردی والوں کی اجازت کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔
سوشل میڈیا ٹیم کو چاہیے پریشیر بنائے تاکہ تحریک انصاف کے لیڈران اپنے بلوں سے نکلے جہاں چپھے بیٹھے ہیں
عاصم منیر کی پالیسیاں ایک دن پاکستان توڑ دیں گی۔ جی اعوذ باللہ پڑھیں یا نعوذ باللہ اس سے قبل ایک اور شوقیہ فیلڈ مارشل ملک توڑنے کا سبب بن چکا ہے۔ مرض کی نشاندہی غداری نہیں۔
میں آپکو بہت ہی کریڈبل اور باوثوق زرایع سے خبر دے رہا ہوں عمران خان کے ساتھ کسی بھی اہم یا غیر اہم شخصیت کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی عمران خان کو مکمل آئیسولیشن میں رکھا ہوا ہے