آزاد کشمیر کے قوم پرست حضرات لداخ کے بدھ مت ماننے والوں اور جموں کے ہندوؤں کو تو اپنا بھائی قرار دیتے ہیں، لیکن کشمیر کے لیئے خون بہانے اور ہر طرح کی قربانی دینے والے پاکستان اور خصوصا پنجاب کے مسلمانوں کو نفرت یا تعصب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
قوم پرست حضرات ایک طرف یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ جموں، کشمیر، لداخ اور اکسائی چن کے تمام باشندے ایک قوم ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان خطوں کے کلچر، زبانوں، مذاہب اور سماجی روایات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ یہ صرف ایک جبری اکائی انگریز نے بنائی تھی جس میں کچھ مشترک نہ تھا۔
دوسری طرف آزاد کشمیر کے اکثر علاقوں کا مذہب، ثقافت، زبان، رسم و رواج، رہن سہن اور خوراک کا پنجاب، خصوصاً شمالی پنجاب، کے ساتھ کافی گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ یہاں بولی جانے والی پہاڑی اور پوٹھوہاری زبانیں بھی پنجابی زبان کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ سب سے اہم یہاں کا جغرافیہ اور معشیت بھی مشترک ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات میرے لیے باعثِ حیرت ہے کہ بعض قوم پرست عناصر اپنے مذہبی، معاشی، ثقافتی اور سماجی طور پر قریب لوگوں سے فاصلہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ ایسے خطوں کے لوگوں کو اپنے زیادہ قریب قرار دیتے ہیں جن سے ان کا ایسا کوئی تعلق نہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک ایسا مؤقف ہے جس پر سنجیدہ بحث اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایسی سوچ تاریخی یا سیاسی بیانیوں کے اثر سے پیدا ہوئی ہے، جبکہ بعض اسے بیرونی یا مقامی سیاسی مفادات کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ ایک رائے ہے، اور اس کے بارے میں مختلف نقطۂ نظر موجود ہیں۔ مجھے لگتا ہے عالمی طاقتیں اور بھارت کشمیر کے حالات خراب کرنے کے لیئے ان لوگوں کو استعمال کررہے ہیں۔ کچھ دانستہ اور کچھ نادانستہ طور پر استعمال ہورہے ہیں۔
ایک بات یاد رکھیں دنیا میں فساد کی ہر تحریک حقوق کے نعرے سے ہی شروع ہوتی ہے۔۔۔۔۔
ایک اچھے اسپن ٹریک پر آج کا میچ کھیلا جا رہا ہے، جہاں معیاری اسپنرز 3 سے 4 رنز فی اوور کی اوسط سے بولنگ کر رہے ہیں، جبکہ کچھ تو 3 سے بھی کم اکانومی ریٹ کے ساتھ بیٹنگ لائن اپ کو قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں داماد الیون کے چیئرمین شاداب خان تقریباً 7 رنز فی اوور کی اوسط سے بولنگ کر رہے ہیں۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مسلسل ٹیم میں کیوں رکھا جا رہا ہے۔ آخر اس کھلاڑی کی ٹیم میں موجودگی کی کیا ضرورت ہے؟ کیوں نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا راستہ روکا جا رہا ہے؟ اور کیوں پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں پر اصرار کیا جا رہا ہے؟
@TheRealPCB
#PakvsAus
@RShahzaddk جناب ایک طرف آپ یورپ کی مثالیں دیتے ہیں، قانون کی پابندی کا بھاشن دیتے اور جب وہی سب پاکستان میں کیا جاتا ہے اس کے خلاف لکھنا بھی شروع کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام درہم برہم تھا، جسے پنجاب کی حد تک ٹھیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آپ کو اس کی حمایت کرنا چاہیے۔
شیخ محمد ادریس صاحب رحمه الله تعالیٰ کے خلاف پچھلے دو تین ہفتوں سے طوفانِ بد تمیزی برپا کرنے اور ان کا جینا حرام کرنے والے لوگ درج ذیل چار طبقات سے تعلق رکھتے ہیں: -
1- اسلام کے نام پر مسلمانانِ پاکستان کی تکـــفیر کرنے اور ان کا خون بہانے والے بد بخت۔
2- افغانستان کے لوگ، بشمول وہاں کے بعض نامور حضرات کے۔
3- قوم پرست، بالخصوص پختون تحفظ موومنٹ کے لوگ۔
4- پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا برگیڈ، بالخصوص خیبر پختونخوا کا۔
یہ سارے بد بخت ان شاء الله اپنی اس بدبختی کا ذائقہ چکھیں گے۔
پاک فوج کی تعریف پر جن لوگوں نے شیخ ادریس صاحب کو برا بھلا کہا گالم گلوج کی انکی تعزیت اور مزمتیں ہمیں بلکل قبول نہیں ایسے بدبختوں کو اللہ دنیا و آخرت میں ذلیل و رسواء کریں 🤲
@ChotiSheikhni ملک میں ساٹھ سال پہلے درجن کے قریب یونیورسٹیاں تھیں اب سیکڑوں کی تعداد میں یونیورسٹیاں موجود ہیں لیکن صنعتی ترقی ممکن نہ ہوئی اور نہ ہی تجارتی و مالی خسارہ کم ہوا۔ اکثریت مدرسوں میں تو نہیں جاتی اکثریت ان ماڈرن تعلیمی اداروں میں ہی جاتی ہے۔
شاید اپکو علم نہیں حج اور عمرہ مکمل پردہ میں اور محرم کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہے عورت کے لیئے اور اس جگہ شاید آپ کا جانا ہوا ہو تو آپ کو معلوم ہو گا اس جگہ کا روحانی اثر اور حرمت و عزت اس قدر ہے کہ وہاں انسان کے ذہن میں کوئی دوسرا خیال آتا ہی نہیں، جم میں تو عورتیں نیم برہنہ ہو لر اچھل کود کر رہی ہوتی ہیں انہیں آپ کیسے ایک عظیم عبادت سے ملا رہی ہیں۔ افسوس آپ کی عقل و علم پر۔۔۔
جناب پارلیمان نے ہی اسلامی نظریاتی کونسل بنائی ہے جو پارلیمان کو اسلامی قوانین اور انکی تشریح لرنے میں مدد کرتی ہے، اب ہر ممبر پارلیمنٹ علم قرآن و حدیث تو رکھتا نہیں، اس لیئے ان نازک معاملات کے لیئے علماء کی راہنمائی کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔ مجھے حیرت ہے آپ جو متعدد بار پارلیمنٹ کے ممبر رہے ان کو اس کا پتہ نہیں۔
عاطف نجیب، بشار الاسد کا قریبی خالہ زاد بھائی ہے۔ 2011 میں وہ صوبہ درعا کا سیکیورٹی چیف تھا۔ اگر شام کی خانہ جنگی کے آغاز کا ذمہ دار کسی ایک شخص کو ٹھہرانا ہو، تو وہ یہی عاطف نجیب ہوگا۔
کیونکہ درعا کے صوبے کے ارباعین اسکول سے ہی بشار کے خلاف تحریک پھیلنا شروع ہوئی تھی۔ جب اس اسکول کے طلبہ نے دیواروں پر یہ نعرہ لکھا تھا: "اجاك الدور يا دكتور" یعنی "اب تمہاری باری ہے، ڈاکٹر"، تو نجیب کی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا اور ناقابلِ بیان تشدد کا نشانہ بنایا۔
نجیب کی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ان طلبہ کو کئی دنوں تک ٹائروں سے لٹکا کر مارا پیٹا گیا، بعض کے ناخن اکھاڑ دیے گئے، اور بعد میں 15 سالہ حمزہ الخطیب کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔
نجیب کے خلاف ایک مشہور الزام یہ بھی ہے کہ جب گرفتار لڑکوں کے والدین اپنے بچوں کی رہائی کے لیے اس کے پاس گئے، تو اس نے جواب میں کہا: "انہیں بھول جاؤ۔ گھر جا کر نئے بچے پیدا کرو۔ اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو اپنی بیویوں کو میرے پاس بھیج دو۔"
اس کے اس بیان نے درعا کے لوگوں کو شدید غصے میں مبتلا کر دیا۔ اس کے بعد جمعہ کے دن ایک بڑا مظاہرہ نکالا گیا۔ اس مظاہرے پر نجیب کی فورسز کی فائرنگ کے بعد جو جوابی تشدد شروع ہوا، وہی بالآخر خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا۔
عاطف نجیب خود کو ہر چیز سے بالاتر سمجھتا تھا۔ الزام ہے کہ اس نے اپنی طاقت کے اظہار میں تکبر کرتے ہوئے کہا تھا کہ درعا میں وہی خدا ہے، اور اس کی مرضی کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔
آج اسی جھوٹے "خدا" کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ درعا سے متاثرین بسوں میں سوار ہو کر دمشق آئے ہیں تاکہ اس کے خلاف گواہی دے سکیں۔ مقدمے کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی تھی، اور سماعت کے مناظر ٹی وی پر نشر کیے گئے۔
یقیناً یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فیصلے میں اسے سزائے موت سنائی جائے گی۔ اور چونکہ اسی مقدمے میں بشار سمیت دیگر افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ اسی کیس کے ذریعے بشار کے خلاف بھی فیصلہ سامنے آئے۔
شام میں مظلوم شامیوں کے قاتلوں کے ٹرائل شروع ہیں یہ بشرلاسد کا فرسٹ کزن اور چیف سیکیورٹی انچارج تھا اس نے بہت مظلوم مارے ہیں اب لوگ عدالت میں اسے پنجرے میں دیکھ رہے ہیں یہ پہلا سیشن تھا